جوہری توانائی کے معائنہ کاروں کے جوتوں میں جاسوسی چپس ملیں: ایران

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین محمود نبویان نے بتایا ہے کہ تہران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے جوتوں میں اس وقت مشکوک جاسوسی چپس دریافت کی ہیں جب وہ ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ کر رہے تھے۔

نیوز ایجنسی ’’ فارس‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں نبویان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی کارکردگی پر تنقید کی اور کچھ ایرانی جوہری تنصیبات کی شناخت کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں کیسے پتہ چلتا ہے کہ ہماری نطنز میں جوہری تنصیبات ہیں؟ وہ عام طور پر اسے یا تو امریکہ کے سیٹلائٹس کے ذریعے معلوم کرتے ہیں یا سیکیورٹی اداروں کے ذریعے۔

ہم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے پاس اب ہماری تین مقامات کے بارے میں دعوے ہیں جن کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ وہ ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ کیا یہ صرف اتنا ہی ہے کہ اسرائیل نے آپ کو ہمارے ان مراکز کے بارے میں معلومات فراہم کردی ہیں؟ کیا اسرائیل نے آپ کو ہم سے متعلق دستاویزات فراہم کی ہیں؟ لیکن آپ اسرائیل کی بات کیوں سنتے ہیں؟ کیا اسرائیل عدم پھیلاؤ معاہدے کا رکن ہے؟ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ آپ جاسوسی کر رہے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading