سون بھدر معاملہ: پرینکا گاندھی اپنی دادی اندرا گاندھی کے نقش قدم پر چل رہی ہیں

سون بھدر کے دل دہلانے والے واقعہ نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ظلم کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے دس غریبوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اس واقعہ کے بعد کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے متاثرین سے ملنے کے لئے جو کوششیں کیں اور رد عمل میں ان کو ملنے سے روکنے کے لئے اتر پردیش انتظامیہ نے جو کچھ کیا اس نے اترپردیش کی سیاست میں انقلاب بپا کر دیا ہے۔ پرینکا گاندھی متاثرین سے ملنے کے لئے گزشتہ روز وہاں گئی تھیں لیکن انتظامیہ نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا اور الٹا ان کو حراست میں لے لیا، لیکن اب جہاں ان کو حراست میں رکھا گیا تھا وہیں متاثرین کو ملنے دیا گیا۔ پرینکا گاندھی سے مل کر متاثرہ خواتین زار و قطار روئیں اور ان کے دکھ کودیکھ کر پرینکا بھی اپنے آنسؤوں کو نہیں روک پائیں۔

سون بھدر معاملہ پر پرینکا گاندھی نے جس طرح ریاستی حکومت اور انتظامیہ پر سوال اٹھائے اور سڑکوں پر اتریں اس نے ان کی دادی اندرا گاندھی کی 1977 کی وہ یاد تازہ کر دی جب وہ بہار کے بیلچھی گاؤں میں ہوئے قتل عام کے بعد متاثرین سے ملنے کے لئے وہاں گئی تھیں۔

27 مئی1977 کو بہار کے بیلچھی گاؤں میں سون بھدر کی طرح ہوئے قتل عام میں11 دلتوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ حلقہ کے کرمی ذات کے ایک بڑے گروپ نے غریبوں کے گھروں پر حملہ کیا تھا، 11دلتوں کو ان کے گھروں سے گھسیٹ کر میدان میں لاکر باندھ دیا اور پھر انہیں زندہ جلا دیا تھا۔ اندرا گاندھی کو جیسے ہی اس واقعہ کی اطلاع ملی وہ فوراً متاثرہ خاندان سے ملنے کے لئے بیلچھی گاؤں کے لئے روانہ ہو گئیں۔ وہاں زبردست بارش کی وجہ سے ان کا آگے جانا مشکل تھا لیکن وہ جانے کے لئے بضد رہیں اور پھر مندر کے ہاتھی پر سوار ہو کر انہوں نے آگے کا سفر طے کیا۔ آخر بیلچھی گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندان کے لوگوں سے ملاقات کی۔

واضح رہے اندرا گاندھی کی سیاسی واپسی میں بیلچھی گاؤں کے واقعہ نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ سون بھدر میں پرینکا گاندھی نے وہی سب کچھ کیا جو بیلچھی گاؤں میں ان کی دادی نے کیا تھا۔ بیلچھی کے واقعہ سے مایوسی کا شکار کانگریس ارکان میں امید کی کرن جاگی تھی اور کچھ ایسا ہی کل کے پرینکا گاندھی کے عمل سے بھی محسوس ہو رہا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading