یوں تو دارے فانی میں اسباب فانی کی کسی نا کسی گوشے میں لامحالہ ضرورت پڑتی ہی ہے لیکن یہاں نتیجے کا انحصار ہمارے اعمال پر کم اور نیتوں پر زیادہ ہے ۔ اور ہم مسلمان عمل سے زیادہ نصیب اور تقدیرکا بہانہ کر کے بے عملی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیا بھیجھی ہم نے اپنے رب سے رشتے کی نوعیت اور کیفیت کو جانے کوشش بھی کی ہے کہ اند پاک سے ہمارا رشتہ دوستانہ ہے یا حریفانہ حالت تو یہ ہے کہ میدان جنگ کا رخ بھی نہ کریں اور فتح ہماری ہو جائے خدا کا نام لے کر شیطان کی تابعداری کی جائے اور خدا سے اجر کی امید رکھی جانے یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ بھی کتنا عجیب معاملہ ہے کہ جس قوم کے دین میں ایمان کے بعد عمل پر زور دیا گیا ہے وہی قوم سب سے زیادہ بے عملی کا شکار ہے۔ جب کہ دوسری قوم جس کے یہاں اندھ وشواس ہی سب کچھ ہے وہ عمل کے میدان میں سب سے آگے میں آج میرا مقصد آپ کے سامنے اس تنظیم کا ہلکا ساخاکہ پیش کر تا ہے، جس سے ہمارا مقابلہ ہے تاکہ ہم حقیقت سے روبرو ہو سکیں اور مقابلے کی کچھ تیاری کر سکیں ذیل میں آر ایس ایس (RSS) کے متعلق کچھ اعدادوشمار درج کیے جارہے
ہمیں بغور ملاحظہ کریں اور پھر اپنی کار کردگی بھی دیکھیے۔ یاد رکھے کہ محض قنوت نازلہ پڑھنے لینے سے یابد دعا کر دینے سے مقابل کو مات نہیں دی جا سکتی ۔ اس کے لیے نبیوں تک کو میدان عمل میں آنا پڑا ہے ۔
آرایس ایس جس کا قیام 1925 میں ہوا۔ جس کا اہم مقصد بھارت کو ہندو راشٹر بنانا ہے، آئین ہند کے مطابق بھارت کے ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب اپنانے ، اس کی تبلیغ کرنے ، اس کے مطابق جمہوری طریقے پر ہندوستان کو سنوارنے کی آزادی ہے ۔ آر ایس ایس نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ 96 سال پر محیط منظم کوششوں کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے ۔ آج صدر
جمہوریہ، نائب صدر جمهوریہ، وزیرا عظم ، وزیر داند ، پارلمنٹ میں 18 وزرائے اعلیٰ، 29 ریاستوں کے گورز، 1460 ممبران اسمبلی، 283 ممبران پارلیمنٹ کے اعداد شمار کئے جاتے ہیں اس کےعلاوہ ہزاروں گرام پنچایت اور سیٹ کیوں نظر پالیکا میں میں جہاں پر ان کا قبضہ ہے۔ لاکھوں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے بجرنگی ہیں جو دن رات اپنے مقصد کی جانب گامزن ہیں ایک لاکھ کے قریب
سرسوتی شمشومند ر اور کالج ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زیادہ آچار یہ اور ایک کروڑ سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
سیر و پیلیکشن ہیں۔ جن سے متعلق ہندو تہذیب پر مبنی لٹریچر مختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو تا ہے ۔سماج کے ہر طبقے کے لیے اس نے سوسائٹی اور ٹرسٹ بناتے ہیں ۔ علماء اور مسلمانوں کے لیے بھی اس نے اپنی انجمنیں قائم کی ہیں۔ کچھ اداروں کے نام آپ بھی ملاحظہ کریں شری رام جنم بھومی نیاس، احتماس سنگان سمیتی ، ان میں سے ہر ادارہ اپنی الگ دنیار کھتا ہے ۔ آپ ان کے ناموں سے ہی ان کے دائرہ کار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ہر زبان اور ہر عمر کے لیے اخبارات و رسائل شائع ہوتے ہیں۔ انقلاب جیسا اردو اخبار بھی سنگھ کا ہی ہے ۔ پانچ جنیہ، آرگنائزر، ہندوستان سماچار، جیسے اخبارات سنگھ کے ہی اداروں سے شائع ہوتے ہیں ۔۔الکٹرانک میڈیا میں درجنوں چھیتی ہیں جن پر دھیان گیان کے نام پر گیا اور ان کا ہاتھ ہوتا ہے کتنے ہی خبر یہ عمل ہیں جن کا کام ہی دن رات مودی جی کی شان میں قصیدہ خوانی ہے ۔
ان اداروں اور تحریکوں کے علاوہ بہت سی ایسی تنظیمیں ہیں جو باقاعدہ تو RSS سے وابستہ نہیں ہیں لیکن اس کے مقصد میں معاون ہیں۔ جس کے متعلق میں آپ Googel پر سرچ کرسکتے ہیں۔دھیان رہے یہ کام اور تیاریاں ان لوگوں کی ہیں جن کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ وہ جسم کا ایندھن نہیں گے۔ لیکن ہم کبھی نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ انھوں نے ہماری دنیا ہی جھنم بنانے کا منصوبہ بنارکھا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ خدا ہے ہمارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ۔ لیکن کیا اسپین، سمر قد اور بخار کی تاریخ کف افسوس ملنے کے لئے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اتر پردیش میں بی جے پی کی شحت RSS کی جڑیں ملادے گی ۔ لیکن ہم جام خیالی میں ہیں مگر جولوگ جیتیں گے وہ کون سے ہندو راشٹر کے مخالف ہیں۔ ان کی آرزوں کا عمل بھی رام مندر ہی ہے ۔
آپ کہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس بھی درجنوں آل انڈیا جماعتیں ہیں ۔ لاکھوں مساجد اور مدارس ہیں، جس میں لاکھوں اساتذہ اور معلمات ہیں، کروڑوں طلبہ ہیں ۔ اخبارات و رسائل بھی ہیں، ان کے سابقیہ کے مقابلے شعراء اور ادیوں کی بھر مار ہے ۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ان اداروں اور جماعتوں کے مقاصد میں بعد المشرقین ہے۔ ایک تنظیم سے وابستہ ممبران بھی ایک مقصد سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ اسلام جیسا فلاح انسانیت کا دین رکھنے والے اپنا مقصد زندگی متعین کرنے میں ہی ایک دوسرے سے دست بگریباں ہیں۔ اگر ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی در کار ہے تو ہم میں سے ہر شخص کو اپنا کوئی نہ کوئی ایسا بدف ضرور متعین کرنا چاہیے جو ہمیں ہماری منزل کی طرف لے جانے میں مددگار ثابت ہو ۔ ہماری منزل اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا من و سلامتی اور عدل و انصاف کا گہوارہ بن جائے لیکن اس کے لیے جذبات کے ساتھ عقل و دانش کا ہونا ضروری ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک سیاسی قوت بنیں RSS نے بھی اپنے تمام کام سیلوا اور سماج کے نام پر ہی کئے ہیں مگر اصل مقصد سیاسی طاقت کا حصول ہے اسی طرح ہم مسلم امہ کی سماجی و سیاسی قوت کی پشت پناہی کے بغیر قوموں کی ترقی بھی ناممکن ہے۔ کیونکہ کسی ایک قائد کی قیادت میں رہ کر ہی حکومت میں شرکت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اکابرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ لوگ برمی دوار رشی کیش آپنے قرب وجوار میں موجود آشرموں کی سیاحت ضرور کریں تاکہ آپ کی آنکھیں مقابل کی تیاریوں اور اغیار کی سازشوں کا مشاہدہ کر سکیں ۔ آرایس ایس اور اس کی ہمنوا تنظیموں کا مطالعہ و مشاہدہ ہمیں حرکت عمل پر آمادہ کرنے میں معاون ہو سکتا ہے ۔ورنہ توہم ہاتھ پر ہاتھ دھر سے منتظر فردا ہونگے اور فوز و فلاح کا جھنڈائی الفین کے ہاتھوں ہو گا اللہ پاک مسلم امہ کی مفسد دین کے خلاف مددفرمائیں۔
اس جہان آب و گل کا ہر تماشا دیکھ لے..!!
سازشیں اغیار کی اور اپنی تیاری بھی دیکھ لے..!!