این سی پی کے صدر جینت پاٹل کا وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کومکتوب
ممبئی: جب مہاراشٹر جیسی ترقی پسند ریاست میں فسادات، پتھراؤ اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں تو عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونالازمی ہے کہ پولیس اور خفیہ ایجنسیاں کیاکارروائیاں کر رہی ہیں۔یہ باتیں این سی پی کے ریاستی صدر اور آبی وسائل کے سابق وزیر جینت پاٹل نے وزیراعلیٰ ووزیرداخلہ کولکھے گیے ایک مکتوب میں کہی ہیں۔جینت پاٹل نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ حکومت کو ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کرنی چاہئے جو مہاراشٹر میں لاء اینڈ کوخراب کرکے مختلف طبقات میں نفرت پیدا کرکے اپنا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اپنے مکتوب میں جینت پاٹل نے کہا ہے کہ ممبئی کے چرچ گیٹ علاقے میں ساوتری بائی پھلے گورنمنٹ ہاسٹل میں لڑکی کے قتل کا واقعہ افسوسناک ہے۔ خواتین کو ریاست میں خود کو محفوظ محسوس کرنا چاہیے۔ حالیہ دنوں میں خواتین پر تشدد اور ان کی گمشدگی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔وزیراعلیٰ ووزیرداخلہ کولکھے گیے مکتوب میں یہ بھی کہا ہے کہ اس حکومت کو یہ دکھانا چاہیے کہ یہ حکومت ان واقعات کی مکمل تحقیقات کر کے اور مجرموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کر کے عام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پابندعہد ہے ورنہ عام لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہونگے کہ یہ حکومت صرف 40 ایم ایل اے کو بچانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ پھر عوام کے اندر سے اس حکومت کا رہا سہا اعتماد بھی ختم ہوجائے گا۔
جینت پاٹل نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ مہاراشٹر میں اس وقت سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی بڑے پیمانے پر کوششیں ہورہی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ریاست میں سماجی ہم آہنگی بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔