زہر اگلنے والے میڈیا پر لگام کسنے کامعاملہ، سپریم کورٹ میں کل سماعت ،مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر جمعیۃ علماء کا جواب داخل

نئی دہلی، 25اگست (یو این آئی)مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر27 اگست کو سماعت ہوگی۔گذشتہ شام سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری فہرست میں یہ بات بتائی گئی۔جمعیۃ نے جہاں مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر جواب داخل کیا ہے وہیں اس نے گزشتہ جمعہ کو بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے تبلیغی جماعت کے بارے میں آنے والے فیصلے کو بھی منسلک کیا ہے۔معاملے کی سماعت چیف جسٹس اے ایس بوبڈے کی سربراہی والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس اے ایس بوپننا اور جسٹس وی رام سبرامنیم شامل ہیں کریں گے۔جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے بحث کریں گے جبکہ ان کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ اکریتی چوبے و دیگر موجود رہیں گے۔

اس معاملے میں فریق بنے جمعتہ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ گذشتہ سماعت پر سینئر ایڈوکیٹ دوشینت دوے (صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن) نے عدالت کو بتایا تھا کہ تبلیغی مرکزکو بنیادبناکر پچھلے دنوں میڈیا نے جس طرح اشتعال انگیز مہم شروع کی یہاں تک کہ اس کوشش میں صحافت کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کو بھی پامال کردیا گیا اس سے مسلمانوں کی نہ صرف یہ کہ سخت دلآزاری ہوئی ہے بلکہ ان کے خلاف پورے ملک میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک عام سے واقعہ کو میڈیا کے بڑے حلقے نے غیر معمولی واقعہ بناکر پیش کیا اور اس کے لئے جھوٹ کو بنیادبنایا گیا یہاں تک کہ کرونا وائرس کی وبا ء کو کرونا جہاد سے تعبیر کرکے یہ تاثردینے کی مجرمانہ کوشش کی گئی کہ ملک میں اس وباکو مسلمانوں نے پھیلایا ہے اس سے عوام کی اکثریت نہ صرف گمراہ ہوئی بلکہ عام مسلمانوں کو لوگ شک کی نظرسے دیکھنے لگے ہیں۔

ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عدالت سے گذارش بھی کی تھی کی پٹیشن پر جلداز جلد فیصلہ صادر کیا جائے جس پر چیف جسٹس آف انڈیا ناراض ہوگئے تھے اور انہوں نے کہا کہ تھا کہ عدالت پر ایسے دباؤ نہیں بنایا جاسکتا جس پر دشینت دوے نے کہا تھا کہ چار ماہ سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود ابھی تک عدالت فیصلہ نہیں کرسکی ہے اور تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے نیز حکومت کی جانب سے بھی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے اس کے برخلاف حکومت نے اپنا جواب داخل کرنے میں دو ماہ کا وقت لیا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ وکیل اعجاز مقبو ل نے مرکزی حکومت کی جانب سے داخل حلف نامہ کی مخالف میں عدالت میں جواب داخل کیا ہے جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ حکومت نفر ت اور جھوٹی خبریں پھیلانے والے نیوز چینلزپر بجائے کارروائی کرنے کے انہیں بچانے کا کھیل کھیل رہی ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ایک جانب جہاں حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا وہیں دیڑھ سو چینلوں اور اخبارات کی کٹنگ اور تفصیلات داخل کی ہیں جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینل شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش رچی تھی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading