اجودھیا:03 نومبر(یواین آئی)وشوہندو پریشد کے میڈیا انچارج شرد شرما نے اتوار کودعوی کیا کہ اجودھیا میں متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر کے لئے تمام اشیاء کی مکمل تیاری کی جاچکی ہے اب صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔
وی ایچ پی کے ریجنل میڈیا انچارج شرد شرما نے اتوار کو یواین آئی سے بات چیت میں دعوی کیا کہ مندر کی تعمیر کا کام شروع ہونے سے پہلے تقریبا 65 فیصدی کام پورا کیا جاچکا ہے۔ جیسے ہی مندر کی تعمیر شروع ہوگا ویسے ہی دوسری منزل کے لئے پتھروں کے تراشنے کا کام شروع ہوجائےگا۔
مسٹر شرد نے بتایا کہ رام مندر کی تعمیر کے لئے ورکشاب کا قیام 1990 میں ہوئی تھی اسی وقت سے مندر کے لئے پتھر تراشے جارہے ہیں۔ سال 1855 سے ہی چل رہے اجودھیا تنازع کے معاملے کی بھلے ہی سپریم کورٹ میں سماعت اب جاکر پوری ہوئی ہے لیکن اجودھیا میں مجوزہ رام مندر کا ماڈل 1889 میں پریاگ راج کمبھ میں تیار کرلیا گیا تھا۔چندن کی لکڑی سے بنے مندر کے مجوزہ ماڈل کو 1990 میں قائم ورکشاب میں رکھا گیا ہے۔۔
مسٹر شرد نے بتایا کہ رام مندر کے کی ہر منزل پر 106 کھمبے اور ایک کھمبے میں 16مورتیاں ہونگی۔مندر ایک لاکھ پچہتر ہزار گھن ٹن پتھر لگایا جائے گا جس کہ راجستھان،گجرات اور اترپردیش کے کاریگروں کے ذریعہ تراشا جائے گا۔