لکھنو ، ہوا میں زہرگھولتی آلودگی نے دہلی این سی آر کے ساتھ ہی اترپردیش کی راجدھانی لکھنو اور ریاست کے دیگر شہروں کے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ حکومتیں بڑھتی آلودگی کا حل ڈھونڈنے میں لگی ہیں مگراسی درمیان اتر پردیش مزدور بہبود کونسل کے صدر سنیل بھرالا نے آلودگی کے لئے پرالی جلائے جانے کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر افسوس ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اندردیو کو خوش کرنے کے لئے یگیہ کروائیں، وہ سب ٹھیک کر دیں گے۔
#WATCH Uttar Pradesh minister Sunil Bharala: Farmers have always practiced stubble burning, it's a natural system. Repeated criticism of it is unfortunate. Govts should hold 'Yagya' to please Lord Indra (God of rain), as done traditionally. He (Lord Indra) will set things right. pic.twitter.com/EcImGAbVrl
— ANI UP (@ANINewsUP) November 3, 2019
بی جے پی کے سینئر لیڈر سنیل بھرالا یوپی حکومت میں درجہ حاصل وزیر مملکت ہیں اور اکثر اپنے بیانات کے لئے بحث میں رہتے ہیں۔ آلودگی سے پریشان عوام جہاں حکومت کی لاپرواہی کو کوس رہی ہیں، وہیں سنیل بھرالا آلودگی پرقابو پانے کے لئے حکومت کو متبادل اپنانے کا مشورہ دینے کی بجائے سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔
بھرالا کا کہنا ہے کہ آلودگی کے لئے پرالی کو ذمہ دار ٹھہرانا براہ راست کسانوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنے اور دالوں کو نکالنے کے بعد کھیتوں میں کوڑا ہو جاتا ہے، کسان ہمیشہ سے اس کو جلاتے آئے ہیں۔ اس سے تھوڑا بہت دھواں ہوتا ہے، اس سے آلودگی نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا کسانوں پر جو حملہ ہو رہا ہے اسے بند کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جتنا دھیان کسانوں کے پرالی جلانے پر دیا جا رہا ہے، اتنا ہماری پرانی روایت پر دیا جائے جس سے بارش کے لئے بھگوان اندردیو کو خوش کیا جاتا ہے، میری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ اندردیو کو خوش کرنے کے لئے یگیہ کرائے، وہ سب ٹھیک کر دیں گے۔
بتا دیں کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو کی ہوا اتوار کو دہلی سے زیادہ زہریلی ہو گئی۔ لکھنو کا ایئرکوالٹی انڈیکس (اے کیووائی) 422 رہا جبکہ دہلی کی399 رہا۔ زمرے کی بات کریں تو لکھنؤ کا اے کیو وائی خطرناک سطح پر ہے۔ جمعہ کو یہ 382 تھا جو کہ ’بہت خراب‘ زمرہ ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
