دہلی تشدد معاملہ میں ہائی کورٹ نے ہلاک افراد کی نامعلوم لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد صرف انہی نامعلوم لاشوں کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی جن کی تفصیلات اخبارات میں دو ہفتے پہلے شائع کی گئی تھیں۔ اس سے قبل ہائی کورٹ نے دہلی کے سرکاری اسپتالوں کو 11 مارچ تک نامعلوم لاشوں کو نہیں جلانے اور لاشوں کے پوسٹ مارٹم کی ویڈیوگرافی کرانے کے لیے کہا تھا۔ عدالت کا یہ حکم اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ تشدد کے تقریباً تین ہفتے بعد بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو اپنوں کی تلاش میں در در بھٹک رہے ہیں۔
Delhi HC had earlier asked the government hospitals of Delhi not to dispose of the unidentified bodies till March 11 and to conduct videography of post-mortem of bodies who died during violence in Northeast Delhi. https://t.co/imcCfl3zc1
— ANI (@ANI) March 11, 2020
ہائی کورٹ نے اپنے گزشتہ حکم میں کہا تھا کہ سرکاری اسپتالوں کے مردہ گھروں میں لائی گئی نامعلوم لاشوں کے بارے میں اپنی آفیشیل ویب سائٹ پر پوری جانکاری شائع کرے۔ جسٹس سدھارتھ مردل اور جسٹس آئی ایس مہتا کی بنچ نے ایک عرضی پر سماعت کے دوران یہ ہدایت جاری کی تھی۔ واضح رہے کہ دہلی میں حال میں ہوئے فسادات کے بعد سے لاپتہ اپنے ایک رشتہ دار کے بارے میں جانکاری کو لے کر ایک شخص نے یہ عرضی داخل کی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو