تمام چینلوں کے ایگزٹ پول میں عآپ کی حکومت، بی جے پی کی کراری ہار
دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا اختتام ہونے کے ساتھ ہی تمام نیوز چینلوں کی طرف سے ایگز پول کے نتائج کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ تمام چینلوں کے ایگزٹ پول میں عام آدمی پارٹی کی حکومت آسانی سے بننے کے آثار نظر آ رہے ہیں جبکہ دہلی کے عوام نے بی جے پی کی جارحانہ سیاست اور بیانبازی کو پوری طرح سے مسترد کر دیا ہے۔
اے بی پی-سی ووٹر کے ایگزٹ پول کے نتائج کے مطابق 70 اسمبلی سیٹوں میں سے عام آدمی پارٹی کو 49 سے 63 سیٹیں، بی جے پی کو 5-19 سیٹیں ملنے کا امکان ہے جبکہ کانگریس کو 4 سیٹیں تک حاصل ہو سکتی ہیں۔
چھ بجے تک 54 فیصد سے زیادہ پولنگ
دہلی میں شام 6 بجے تک 54 فیصد سے زیادہ پولنگ درج کی جا چکی ہے۔ صبح 8 بجے سے شروع ہونے والی ووٹنگ اب ختم ہو چکی ہے لیکن جو لوگ قطاروں میں لگے ہیں ان کو ووٹ ڈالنے کا حق ہوگا۔

#DelhiElections2020: Voting underway at a polling booth in Shaheen Public School in Shaheen Bagh. AAP's Amanatullah is the sitting MLA and 2020 candidate of the party, he is up against Congress's Parvez Hashmi and BJP's Brahm Singh Bidhuri. pic.twitter.com/URTFL7OpJq
— ANI (@ANI) February 8, 2020
ابھی تک صرف 44.76 فیصد پولنگ درج
دہلی اسمبلی انتخابات کے تحت پولنگ جاری ہے اور الیکشن کمیشن کی ’ووٹر ٹرن آؤٹ‘ ایپ کے مطابق، شام پانچ بجے تک محض 44.76 فیصد پولنگ درج کیا گیا ہے۔ سال 2015 میں شام 3 بجے تک 51.2 فیصد پولنگ درج کیا گیا تھا۔
شاہین باغ سمیت پورے جامعہ نگر میں رائے دہندگان کی طویل قطاریں
نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون (سي اےاے)، قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سي) کے خلاف گزشتہ تقریبا دو ماہ سے جاری احتجاج کے درمیان شاہین باغ سمیت پورے جامعہ نگر علاقے میں پولنگ مراکز پر ووٹ کرنے کیلئے لوگوں کی طویل لمبی قطاریں لگی ہیں۔
شاہین باغ میں مظاہرہ کے مقام سے ایک کلو میٹر دور شاہین پبلک اسکول کے پولنگ مراکز پر پولنگ شروع ہونے سے آدھے گھنٹے پہلے ہی طویل قطاریں لگ گئیں۔ خواتین بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر ووٹ کرنے پہنچ رہی ہیں۔ شاہین باغ کے احتجاج ومظاہرہ میں کئی دنوں سے شامل رہنے والی آرٹسٹ حنا احمد نے کہا کہ اس بار ووٹنگ کے لئے لوگوں میں ایک الگ طرح کا جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ صبح سے ہی بڑی تعداد میں خواتین، بزرگ اور نوجوان لائن میں لگ کر ووٹنگ کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسل کے لئے بہترین تعلیم اور محفوظ ماحول کو ذہن میں رکھ ووٹ کیاجاریا ہے۔
دلّی والوں آپ گھروں سے نکلو اور وطن پرست پارٹی کو ووٹ ڈالو: پرویش ورما
شاہین باغ میں چل رہے مظاہرہ کو بی جے پی لیڈران و اراکین لگاتار تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے بھی اس سلسلے میں کچھ متنازعہ بیان دیے ہیں، اور آج ووٹنگ کے بعد ایک بار پھر انھوں نے شاہین باغ کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر شاہین باغ کے لوگ لمبی لمبی قطاروں میں چیخ چیخ کر بول سکتے ہیں کہ عآپ کو ووٹ ڈالو تو دلّی والوں آپ بھی گھروں سے نکلو اور دیش بھکت پارٹی کو ووٹ ڈالو۔‘‘
کئی پولنگ بوتھوں پر لوگوں کی لمبی قطار، اب تک تقریباً 30 فیصد ووٹنگ
دہلی میں کئی پولنگ بوتھوں پر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق سیلم پور سیٹ پر بھی سڑک پر کم از کم 200 لوگوں کی لائن ووٹنگ کے انتظار میں کھڑی ہے۔ مسلم اکثریتی اس سیٹ پر برقع میں خواتین کی لمبی لائن ہے تو وہیں مردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ پولنگ سنٹر کے اندر اور باہر زبردست بھیڑ اب ووٹنگ کرنے نکلی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں شہریت قانون کو لے کر سب سے پہلا تنازعہ ہوا تھا۔ یہاں اب بھی ٹینٹ میں خواتین این آر سی اور سی اے اے کے خلاف دھرنے پر بیٹھی ہیں۔ اس کے باوجود سیلم پور میں ووٹر لائنوں میں لگ کر ووٹنگ کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ قابل غور ہے کہ اس قدر طویل قطاریں ہونے کے باوجود اس وقت تک تقریباً 30 فیصد ووٹنگ ہی درج کی گئی ہے۔
لوگوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے گری راج سنگھ نے دیا انتہائی متنازعہ بیان
دہلی میں آج اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ووتنگ جاری ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں ووٹنگ مراکز پر پہنچ کر ووٹ کر رہے ہیں۔ اسی درمیان مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر گری راج سنگھ نے لوگوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے ایک انتہائی متنازعہ بیان دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’اگر دہلی کو اسلامک اسٹیٹ بننے سے بچانا ہے تو گھروں سے نکل کر بی جے پی کو ووٹ کریں۔‘‘ گری راج سنگھ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں واضح لفظوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’شاہین باغ کے حامی جو کل تک ملک کو توڑنے کی بات کر رہے تھے، وہ آج کیجریوال کو جتانے کے لیے لائن میں کھڑے ہیں۔ میری اپیل ہے کہ شاہین باغ کا جواب دینا ہے اور دہلی کو اسلامک اسٹیٹ بننے سے بچانا ہے تو لوگ گھروں سے نکل کر بی جے پی کے لیے ووٹ کریں۔‘‘
سرسوتی وِہار پولنگ بوتھ کے قریب بی جے پی اور عآپ کارکنوں میں ہوئی بحث
دہلی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سرسوتی وِہار پولنگ بوتھ پر پرامن انداز میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے، لیکن اس بوتھ سے تھوڑی ہی دوری پر کچھ بی جے پی اور عآپ کارکنان کے درمیان بحث ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ عآپ کارکنان بار بار ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگا رہے تھے جس پر عآپ کارکنان نے کہا کہ وہ الیکشن کے دن مذہبی ماحول بنا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ درست نہیں۔ ہنگامہ کے بعد پولس نے بی جے پی کارکنان کو وہاں سے ہٹ جانے کی گزارش بھی کی۔
پولنگ بوتھ پر ووٹروں کی لمبی قطاریں، پھر بھی ایک بجے تک محض 19 فیصد ووٹنگ
ایک طرف پولنگ بوتھ پر لمبی لمبی قطاروں کی تصویریں سامنے آ رہی ہیں، اور دوسری طرف میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ایک بجے تک محض 19.37 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ دھیمی ووٹنگ کو لے کر لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس صورت میں ووٹرس پریشان ہو کر واپس گھر جا سکتے ہیں۔
19.37 % voter turnout in Delhi assembly polls till 1 pm. #DelhiElections2020 pic.twitter.com/jXRhgm4SQI
— ANI (@ANI) February 8, 2020
دہلی: برج پوری میں پولس اور نیم فوجی دستہ کے جوانوں نے کیا فلیگ مارچ
دہلی کے برج پوری میں پولس اور نیم فوجی دستہ کے جوانوں نے فلیگ مارچ کیا۔ ایسٹرن رینج کے جوائنٹ سی پی آلوک کمار نے کہا کہ ’’ووٹنگ کو لے کر سیکورٹی کے پختہ انتظام کا جائزہ لینے کے مقصد سے یہ فلیگ مارچ کیا گیا۔‘‘
Delhi: Police¶military force personnel hold flag march in Brij Puri. Jt CP Eastern Range Alok Kumar says, "There's adequate arrangement in place for smooth conduct of polls. All senior officers along with the forces patrolling the area. PCR&QRTs deployed at sensitive areas". pic.twitter.com/HRyEMFGg6K
— ANI (@ANI) February 8, 2020
عآپ کارکن نے ووٹنگ کے بعد الکا لامبا سے کی بدسلوکی، پولس نے حراست میں لیا
کانگریس امیدوار الکا لامبا سے مجنوں کا ٹیلہ پر عآپ کارکن نے بدتمیزی کی۔ ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں نظر آ رہا ہے کہ عآپ کارکن پولس کے سامنے الکا لامبا پر قابل اعتراض تبصرہ کیا اور نازیبا سوال پوچھا۔ جب پولس نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تو الکا لامبا نے نازیبا تبصرہ کرنے والے کارکن کو تھپڑ مارا لیکن اسے لگا نہیں۔ بعد میں پولس حرکت میں آئی اور عآپ کارکن کو حراست میں لیا۔ ویڈیو میں الکا لامبا اس شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بات کہتی ہوئی بھی نظر آ رہی ہیں۔
#WATCH Delhi: Scuffle breaks out between AAP and Congress workers near Majnu ka Teela, Congress candidate Alka Lamba tries to slap an AAP worker. AAP leader Sanjay Singh has said the party will complain to Election Commission. #DelhiElections2020 (note: abusive language) pic.twitter.com/l5VriLUTkF
— ANI (@ANI) February 8, 2020
شاہین باغ دھرنا پر اس وقت محض درجن بھر خواتین، بقیہ ووٹ ڈالنے گئیں
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں دھرنا دے رہی خواتین بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے اپنے اسمبلی حلقوں کے پولنگ بوتھ پر چلی گئی ہیں۔ خبروں کے مطابق اس وقت دھرنا کے مقام پر محض 20-15 خواتین بیٹھی ہوئی ہیں۔ ووٹ ڈالنے کے بعد خواتین ایک بار پھر دھرنے کے مقام پر پہنچیں گی۔
دہلی کی سب سے ضعیف خاتون نے ڈالا ووٹ، عمر ہے 110 سال
110 سالہ کلیتارا منڈل نے ووٹ ڈال کر اپنے آئینی حق کا استعمال کر لیا ہے۔ وہ دہلی کی سب سے ضعیف ووٹر قرار دی جا رہی ہیں۔ انھوں نے گریٹر کیلاش اسمبلی حلقہ کے تحت چترنجن پارک واقع ایس ڈی ایم سی پرائمری اسکول بوتھ پر جا کر ووٹ دیا۔
110-yrs-old Kalitara Mandal, the oldest voter of Delhi, casts her vote for #DelhiElections2020, at SDMC Primary School, Chittaranjan Park in Greater Kailash assembly constituency https://t.co/AVBeQmkrpc pic.twitter.com/sqGFT1kyHy
— ANI (@ANI) February 8, 2020
بابر پور پرائمری اسکول میں ایک الیکشن افسر کا انتقال
دہلی پولس ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق بابر پور پرائمری اسکول میں ایک الیکشن افسر کا انتقال ہو گیا ہے۔ میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق ووٹنگ کے عمل کے دوران ہی انھیں ہارٹ اٹیک آیا اور ان کا انتقال ہو گیا۔
Delhi Police: An election officer deployed at a polling booth in Babarpur Primary School in Northeast Delhi has died. More details awaited. #DelhiElections2020
— ANI (@ANI) February 8, 2020
کچھ مقامات پر ای وی ایم خراب، ووٹنگ کا عمل متاثر
دہلی میں 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، لیکن کچھ مقامات پر ای وی ایم کی خرابی کی وجہ سے ووٹنگ میں رخنہ پیدا ہو گیا ہے۔ علی الصبح یمنا وہار میں سی 10 بلاک پر ای وی ایم میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے ووٹنگ کا عمل شروع نہیں ہو پایا اور اب تازہ خبر آ رہی ہے کہ نئی دہلی اسمبلی حلقہ کے تحت سردار پٹیل ودیالیہ بوتھ نمبر 114 پر موجود ای وی ایم بھی کام نہیں کر رہا ہے۔
EVM is also not functioning at Sardar Patel Vidyalaya booth number 114, New Delhi constituency #DelhiElections2020 https://t.co/OCUWYfK65a
— ANI (@ANI) February 8, 2020
ماڈل ٹاؤن سے عام آدمی پارٹی امیدوار اکھلیش پتی ترپاٹھی پر حملہ
ماڈل ٹاؤن سے عام آدمی پارٹی امیدوار اکھلیش پتی ترپاٹھی پر حملہ ہوا ہے۔ اس حملہ کے تعلق سے عآپ لیڈر سنجے سنگھ نے ٹوئٹ کیا ہے اور بتایا ہے کہ حملہ کرنے والے بی جے پی کے غنڈے تھے اور ان کے خلاف پولس کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ اس تعلق سے انتخابی کمیشن سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لے اور بی جے پی کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کرے۔ حملہ ووٹنگ سے پہلے کی رات کیا گیا جس میں وہ معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 2015 کے دہلی اسمبلی انتخاب میں بھی ان پر حملہ ہوا تھا اور زخمی حالت میں انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بعد ازاں جب الیکشن نتیجہ سامنے آیا تھا تو وہ فتحیاب ہوئے تھے۔
मॉडल टाउन के विधायक @akhilesht84 पर भाजपा के गुंडों ने हमला कर दिया है पुलिस कोई कार्यवाही नही कर रही है चुनाव आयोग इसका संज्ञान ले और गुंडों के ख़िलाफ़ कार्यवाही करें @ECISVEEP pic.twitter.com/ZGV480mK4p
— Sanjay Singh AAP (@SanjayAzadSln) February 7, 2020
شاہین باغ میں ووٹنگ شروع ہوتے ہی لوگوں کی لگی لمبی قطاریں
ووٹنگ کا عمل شروع ہوتے ہی شاہین باغ واقع ’شاہین پبلک اسکول‘ میں لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ شاہین باغ کے دیگر پولنگ بوتھ پر بھی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اوکھلا اسمبلی حلقہ سے عآپ کے امانت اللہ خان کھڑے ہیں جو اس وقت اوکھلا اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی ہیں۔ کانگریس کی جانب سے اس سیٹ پر پرویز ہاشمی کھڑے ہیں جب کہ بی جے پی نے برہم سنگھ بدھوری کو کھڑا کیا ہے۔
A queue of voters at a polling booth in Shaheen Public School in Shaheen Bagh, Okhla. AAP's Amanatullah is the sitting MLA and 2020 candidate of the party, he is up against Congress's Parvez Hashmi and BJP's Brahm Singh Bidhuri. #DelhiElections2020 pic.twitter.com/4hB60BtqGd
— ANI (@ANI) February 8, 2020
دہلی انتخابات: دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں کےلئے ووٹنگ شروع
دہلی اسمبلی کی 70 سیٹوں کے لئے ٹھیک 8 بجے ووٹنگ شروع ہوگئی اور یہ ووٹنگ شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔آج کی ووٹنگ کے لئے الیکشن کمیشن نے خصوصی انتظامات کئے ہیں ۔ ووٹنگ کے لئے 13ہزار 750 مراکز بنائےگئے ہیں ۔ 70 سیٹوں کے لئے 672 امیدوار میدان میں ہیں ۔ دہلی میں مقابلہ تین سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہیں جس میں ریاست میں بر سر اقتدار جماعت عام آدمی پارٹی ، مرکز میں بر سر اقتدار جماعت بی جے پی اور دہلی میں 15 سال حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی ہے ۔ویسے دہلی میں جنتا دل یو ، بی ایس پی اور کئی دیگر پارٹیاں بھی اپنی قسمت آزما رہی ہیں ۔ 148 آزاد امیدواربھی میدان میں ہیں ۔
انتخابی تشہیر کے دوران جہاں کیجریوال کی عآپ نے ووٹر کےسامنے اپنے کام گنوانے کی کوشش کی تو وہیں کانگریس نے اپنے دور کے کاموں کو عوام کےسامنے پیش کیا لیکن بی جے پی کے پاس کیونکہ عوام کے سامنے کچھ پیش کرنے کے لئے نہیں تھا تو اس نے قوم پرستی اور شاہین باغ پر ہی اپنی پوری انتخابی تشہیر مرکوز رکھی۔
Delhi: Vehicles being checked by Police in Jamia area, as security has been tightened in Delhi, in the light of #DelhiElections2020. pic.twitter.com/DFLZPaYvgC
— ANI (@ANI) February 8, 2020
انتخابات کے پیش نظر دہلی پولیس نے سیکیورٹی بڑھا دی ہے ، اتر پردیش اور ہریانہ سے آنے والی گاڑیوں کی جانچ ہو رہی ہے ۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری مظاہروں کی وجہ سے جامعہ میں حفاظتی انتظامات سخت کر دئے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو