یوگی حکومت کے دبنگ رکن اسمبلی کی بیٹی نے پولس سے اپنی سیکورٹی کی گزارش کی ہے۔ بریلی کے بتھری چین پور سے بی جے پی رکن اسمبلی راجیش مشرا کی بیٹی ساکشی مشرا نے اپنے والد سے ہی جان کو خطرہ بتایا ہے۔ ساکشی نے اپنے والد سے یہ خطرہ اس لیے بتایا کیونکہ انھوں نے دلت نوجوان سے محبت کی شادی کر لی ہے۔
Bareily MLA Pappu Bhartaul's daughter released a video appealing to her father to stop opposing her love marriage and call back his goons. The daughter had married a man against her families wishes and fears honour killing. @Uppolice pic.twitter.com/Z2hQcmWyJR
— Saurabh Trivedi (@saurabh3vedi) July 10, 2019
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کے مطابق ساکشی مشرا نے کہا کہ اسے ایک دلت نوجوان سے محبت ہو گئی تھی جس کے بعد اس نے شادی کر لی۔ اس شادی سے والد راجیش مشرا اور ان کے حامی خوش نہیں ہیں اور دلت نوجوان کے ساتھ ساتھ اس کی فیملی کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
Another video of the couple requesting help. pic.twitter.com/S9Uc63Zqc4
— Saurabh Trivedi (@saurabh3vedi) July 10, 2019
ساکشی مشرا نے سوشل میڈیا پر شیئر ایک دوسرے ویڈیو میں اپنے والد، بھائی اور ان کے ساتھیوں سے اپنی جان کو خطرہ بتاتے ہوئے بریلی کے ایس ایس پی سے سیکورٹی کی گزارش کی ہے۔ اس کے علاوہ ساکشی نے بریلی کے رکن اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ سے اپنے والد کی مدد نہ کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے والد اس کا قتل کرنا چاہتے ہیں۔

دراصل بی جے پی رکن اسمبلی کی بیٹی نے والد کی مرضی کے خلاف ایک دلت فیملی میں شادی کر لی۔ اس سے ناراض بی جے پی رکن اسمبلی نے اپنے آدمیوں کو ان کے پیچھے لگا دیا ہے۔ اس بات کا انکشاف ساکشی مشرا نے خود ویڈیو میں کیا ہے۔ ویڈیو میں ساکشی اور اس کا شوہر دونوں ہی بریلی پولس سے گزارش کر رہے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولس نے بھی ان کی مدد نہیں کی تو ان کی جان بچنا مشکل ہے۔
اس ویڈیو سے متعلق ڈی آئی جی آر کے پانڈے کا کہنا ہے کہ ’’مجھے ویڈیو کے بارے میں جانکاری ملی ہے اور میں نے ایس ایس پی کو انھیں سیکورٹی مہیا کرانے کے لیے کہہ دیا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ بریلی بتھری چین پور سیٹ سے رکن اسمبلی راجیش مشرا کی بیٹی ساکشی نے ایک دلت سے پیار کیا اور شادی کر لی۔ اب دونوں شوہر و بیوی اپنی جان بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
