مدورئی، 07 جولائی (یو این آئی) تمل ناڈو کے مدورئی میں ایک خاتون کانسٹیبل نے ایک خود ساختہ بابا اور ایک سابق کونسلر سمیت تین لوکوں کے خلاف جنسی تشدد اور ڈیڑھ لاکھ روپے ٹھگ لینے کا معاملہ درج کرایا ہے۔ پولس ذرائع نے بتایا کہ اتوار کو مدورئی کے تلّآلم تھانے میں تعینات خاتون کانسٹیبل نے اپنی شکایت میں کہا کہ وہ دو بچوں کی ماں ہے اور اس کے شوہر نے اسے طلاق دینے کا معاملہ دائر کر رکھا ہے۔ اس کے پیش نظر اس نے اپنی برادریتنظیم کے صدر سے رابطہ کیا۔ اس پر اس کی برادری تنظیم کے صدر نے شوہر سے سمجھوتہ کرانے کے بدلے خاتون کانسٹیبل سے ڈیڑھ لاکھ روپے مانگے۔ اس کے بعد بھی ملزم نے 50 ہزار روپے کا پھر مطالبہ کیا۔ متاثرہ خاتون کانسٹیبل نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ جمعہ کو ملزم نے اسے ایک ریستوران میں آنے کو کہا جہاں اسے ایک خود ساختہ بابا اور ایک سابق کونسلر سے ملوایا گیا۔ خود ساختہ با با نے آشیرواد دینے کے بہانے کانسٹیبل کی پیشانی پر کچھ لگا دیا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئی۔ اسے جب ہوش آیا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا ہے۔ کانسٹیبل نے اس معاملے میں خود ساختہ با با، برادری تنظیم کے صدر اور ایک سابق کونسلر کے خلاف معاملہ درج کرایا ہے جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔