حیدرآباد: تلنگانہ کے سائبرآباد پولس کمشنر وی سی سجنار نے عصمت دری اور قتل واقعہ کے ملزمین کے انکاؤنٹر میں ہلاکت پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پولس نے خود کے دفاع میں گولی چلائی۔ اُنہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولس اہلکاروں پر اگر حملے ہوتے ہیں تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ ہم نے گولی چلائی کیونکہ ہمیں زخمی کرتے ہوئے یہ ملزمین پولس تحویل سے فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔
Cyberabad CP, VC Sajjanar: The police warned them and asked them to surrender but they continued to fire. Then we opened fire and they were killed in the encounter. During encounter, two police men have been injured and they have been shifted to the local hospital. https://t.co/CaVAXikdjo
— ANI (@ANI) December 6, 2019
پولس کمشنر کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تفصیلات اور منظرکشی کے لئے پولس کی ٹیم اسکاؤٹ کے ساتھ کل شب 2 بجے تونڈپلی ٹول پلازا پہنچی۔ ان ملزمین کو چٹان پلی کلورٹ کے علاقہ لے جایا گیا جہاں مقتولہ ڈاکٹر کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ ان سے یہ پوچھا گیا کہ 28نومبر کی شب کس طرح یہ واردات انجام دی گئی۔
پولس کا کہنا ہے کہ جب ملزمین اس واقعہ کے تعلق سے تفصیل بتا رہے تھے اسی دوران دو ملزمین عارف اور چنا کیشولو نے پولس کے ہتھیار چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی۔ ان ملزمین نے پولس ٹیم پر پتھر بازی بھی کی۔ پولس نے خود کے دفاع میں اُن پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں یہ ملزمین موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
واضح رہے کہ اس تصادم میں تین پولس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی خبریں ہیں جن کا علاج اسپتال میں چل رہا ہے۔ علاوہ ازیں انکاؤنٹر میں مارے گئے سبھی ملزمین کی لاش کافی دیر تک جائے وقوع پر ہی رکھی رہی۔ جب فورنسک ٹیم نے وہاں پہنچ کر جانچ کی اپنی کارروائی پوری کر لی تب پوسٹ مارٹم کے لیے لاشوں کو اسپتال لے جایا گیا۔ سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تصویریں بھی سامنے آئی ہیں جس میں ہلاک ملزم کے ہاتھوں میں پستول موجود ہے۔ بہر حال، لاشوں کا پوسٹ مارٹم حیدرآباد کے گاندھی اسپتال میں کیا گیا۔ اسی دوران انکاؤنٹر میں ہلاک ملزمین کے ارکان خاندان کو انکاؤنٹر کے مقام پر لایا گیا جہاں عوام کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
