ممبئی:28ڈسمبر۔(ورق تازہ نیوز) کولہاپور کے چندگڑھ میں گزشتہ اتوار کو چرچ میں دعا کے لئے جمع عیسائیوں پر شدت پسندوں نے پتھراؤاور تلواروں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں کئی لوگ شدید زخمی ہوگئے اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ اس حملے کے چار روز گزرنے کے بعد بھی ابھی تک حملہ آورں کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت اور پولیس انتظامیہ کی پشت پناہی کی وجہ سے شدت پسندوں کی جانب سے اقلیتوں پر حملے کئے جارہے ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کولہاپورمیں عیسائی برادری کے لوگوں پر ہوئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ23دسمبر کو کولہاپور کے چندگڑھ میں نیولائف فیلوشپ چرچ میں عیسائی برادری کے ۰۴ لوگ مذہبی عبادت کے لئے جمع تھے۔ اسی وقت موٹرسائیکل پر سوار آئے ہوئے کچھ نامعلوم لوگوں نے عبادت میں مصروف لوگوں پر بیئر کی بوتلیں وپتھر پھینکتے ہوئے تلوار ولوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں10سے12 لوگ شدید زخمی ہوگئے جبکہ ان میں سے چار لوگوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے اور آئی سی یو میں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔ یہ واردات تمام مذاہب کی عزت کرنے والی ریاست کے لئے شرمناک ہے۔ سچن ساونت نے کہا کہ ملک وریاست میں بی جے پی کی حکومتیں آنے کے بعد دلتوں واقلیتوں پر حملے میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی فائدے کے لئے حکمراں پارٹی کی جانب سے ملک میں مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔ مہاراشٹر میں بھی بی جے پی وشیوسینا کی حکومت قائم ہونے کے بعد ریاست میں مذہبی منافرت پھیلانے کا کام کیا جارہا ہے۔ بھیما کوریگاؤں کا واقعہ اس کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وشیوسینا حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں کچھ نہیں کیا ہے اس لئے بی جے پی وآر ایس ایس ووٹ حاصل کرنے کے لئے پولرائزیشن کی سازش رچ رہے ہیں۔ کولہاپور کا واقعہ اس کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کا سب کا ساتھ سب کا وکاس کا مکھوٹا اتر گیا ہے اور اب اصل فرقہ پرستی کا چہرہ اجاگر ہوگیا ہے۔ سچن ساونت نے مطالبہ کیا کہ حملہ آوروں کو فوری گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔