حصار ذات کے شرسے مجھے رہائی دے

سعیدپٹیل جلگاؤں

آج دنیاکی دوسری قوموں کی طرح مسلمانوں کے پاس بھی ہر قسم کے سامان آرائش کی فراوانی ہے۔اسباب و سہولیات کی بہتات بھی ہیں۔اور اسی کے مساوی غریبی ،فاقہ کشی ،پسماندگی اور وہ تمام پریشانیاں ہیں جو دنیاکی دوسری قوموں کے پاس بھی ہیں۔ان مسائل کوتو ہم اغیار کے پیدا کۓ ہوۓ ہیں کہے سکتے ہیں ۔جسکےلۓ ہم بھی ذمدار ہے۔لیکن انتشار کےلۓ تو ہم خود ہی ذمدار ہیں۔ عالمی سطح سے ملک ملک کے اندرون اور بیرون سطح پر مسلمانوں کے آس پاس بیشمار مسائل اور اختلافات اور انتشار کاحصار ہے۔اس کی کیاوجوہات ہوسکتی ہیں۔یہ تو کوئ نہیں بیان کرتاہے۔جو بیان کیاجاتاہے وہ صرف مسائل بیان کرنے پرزور دیتاہے۔؟لیکن کوئ انتشار کا ذکرنہیں کرتاہے۔بلکہ ہرکوئ ہردوسرے کو اپنے جیسا بنانے کی زیادہ فکر کرتاہے۔لیکن یہ فکرنہیں ہوتی کہ مسلمانوں کی دستوری تعلیمات تو یکساں ہیں۔پھر کیابات ہے کہ ہم انتشار کاشکار بنے ہوۓ ہیں۔آج ہماری کشتی میں ہم خود ہی سراخ کرنے پرتلے ہوۓہیں۔آج کادور تکنیکی دور اور انٹرنیٹ کادور ہے۔پوری دنیا ایک گاوں بن چکی ہیں۔اس میں ایک انسان دوسرے انسان کے بہت قریب آچکاہے۔لیکن ایسے دور میں بھی ہم ایک دوسرے سے دور اور خوفزدہ ہے۔؟ہم سلام کلام بھی ایک دوسرے کی معلومات لینے کے بعد ہی کرتے ہیں۔ہمیں تو پوری انسانیت کی خدمت کرنی چاھئے تھی۔لیکن ہم خود ہی دوسروں سے اپنی خدمات کروانے کے عادی ہوتے جارہےہیں اور دوسروں کے رحم کے طالب بننا اپنی شان سمجھ رہیں ہیں۔ہم اپنے مسائل کو حل کروانے کےلۓ کوئ سنجیدہ کوشش نہیں کرتےہیں۔؟بس ہم سب ایک ہی رونا روتے ہیں کہ آج کے دور میں ہمارے حالات خراب ہیں۔اللہ تعالی نے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔اور بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے۔اس لۓ ہمیں توچاھۓتھاکہ ہم دین مبین کے حصار میں رہ کر زندگی گذارتے لیکن ہم نے اللہ کے پسنديدہ دین کو مختلیف خانوں میں تقسیم کرلیاہے۔اس میں سے اپنی سہولیات اور مفادات کو چن لیا ہیں۔؟جس کی وجوہ سے ہم رسوا اور ذلیل و خوار ہورہےہیں۔؟ہم اس قدر تنگ نظر اور عصبیت پسند ہوگۓ ہیں کہ ہم صلاحیتوں سےپر اپنے ہی بھائ کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے میں ذرابھی جھیجھک محسوس نہیں کرتے۔کیا ہماری زندگی دوسری قوموں کی طرح نہیں ہو چلی ہیں۔؟آج ہمارے لۓحالات سازگار نہیں ہیں ہرطرف ہم پرنۓنۓ حربے استمعال کرکے زیر کرنے ،ہر ہر مقام و شعبہ میں پسپا کرنے ،نظرانداز کرنے کی کوشش تیز سے تیز تر ہے۔ہمیں مذہبی، سماجی، سیاسی، تعلیمی اور معاشی ہر میدان میں منصوبہ کے تحت پسماندگی کی طرف ڈھکیلا جارہاہے۔اتنا سب کچھ ہمارے ساتھ ہونے کے باوجود ہم ہیں کے اپنے اپنے ح�

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading