حجاب کی مخالفت کرنے والی لڑکی کو عدالت نے سنائی 24 سال کی سزا

دبئی : برقع کے خلاف ‘وہائٹ ویڈنیسڈے’ مہم چلانے والی 20 سالہ خاتون افسری کو تہران کی روولیوشنری عدالت کے ذریعے سزا سنائے جانے کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے ۔ حجاب کے التزام کو ختم کرنے کیلئے مہم چلانے والی لڑکی کو ایران کی عدالت نے 24 سال کی سزا سنائی ہے ۔

سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ خواتین کا حجاب اترواکر آپنے ملک میں بد عنوانی اور فحاشیت کو فروغ دیتا ہے ۔ اس لئے 24 سے 15 سال کی سزا آپ کو ان دو جرائم کے لئے دی جارہی ہے ۔

افسری اور اس کی ماں راحیلہ احمدی ایران میں چلائے جارہی وہائٹ ویڈنیسڈے مہم کی چیف ہیں ۔ افسری کو اس سے پہلے اگست 2018 میں تہران میں گرفتار کیاگیا تھا ۔ تب انہیں ایک سال کی سزا سنائی گئی تھی لیکن عالمی دباؤ کے چلتے انہیں فروری میں بری کردیا گیا تھا ۔

بتا دیں کہ ایران میں سوشل میڈیا پر حجاب کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے جس میں خواتین کو بغیر حجاب پہنے تصویر شیئر کئے جانے کی اپیل کی جارہی ہے ۔

اسے خواتین کی خودمخباری سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے ۔ کیمپین کے پہلے دو ہفتے میں 200 ویڈیوز پوسٹ ہوئی ہیں اور 5 لاکھ لوگوں نے انہیں دیکھا ہے ۔ جس کے بعد حرکت میں آئی تہران کی روولیوشنری عدالت نے حکم دیا کہ ایسا کرنے والی خواتین کو 1 سے 10 سال تک کی سزا دی جائے گی ۔ تب سے سینکڑوں خواتین کو جیل بھیجا جا چکا ہے ۔ اس ہفتے بھی 12 خواتین کو سزا ہوئی ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading