اورنگ آباد:(جمیل شیخ)خود کو کھاٹک او رمسلمانوں کاہمدرد بتانے والے حاجی عرفات کے شیوسینا کو خیر باد کہتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور بطور تحفہ انہیں ریاستی مائناریٹی کمیشن کا صدر نامزد کیااقلیتوں کے مسائل سے ناواقف حاجی عرفات بی جے پی کی وفاداری میں مسلمانوں اور سیکولر طاقتوں کے جذبات کا لحاظ کئے بنا گذشتہ روز منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں تاریخی شہر اورنگ آباد کو سنبھاجی نگرکہہ ڈالاحاجی عرفات کی زبان سے ان الفاظ کا جاری ہونا تھا کہ صحافیوں نے انہیں نہ صرف ٹونکا بلکہ عرفات کو آڑے ہاتھوں لیا۔تفصیلات کے مطابق ریاستی اقلیتی کمیشن کے صدرحاجی عرفات اورنگ آباد کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔اور گذشتہ روزیہاں انھوں نے ایک پریس کانفرنس کی اس پریس کانفرنس میںحاجی عرفات گذشتہ کی طرح اس بار بھی رٹی رٹائی باتیںکرتے رہے اور سوال کے گول مول جواب دیتے رہے۔ریاست کی بی جے پی حکومت نے مراٹھا ریزرویشن بل اسمبلی میں پاس کیا ہے۔صحافیوں نے مسلم ریزرویشن کے مسئلے پر اقلیتی کمیشن کے صدر کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ لیکن وہ مسلمانو ںکے تئیںموجودہ حکومت کے متعصبانہ رویہ پر کچھ بولے اور نہ ہی مسلم ریزرویشن کے مسئلے پر کھل کر بات کی۔گول مول جواب دے کر وہ اپنی جان چھڑانے کو ہی انہو ںنے بہتری سمجھاالبتہ یہ ضرور کہا کہ حکومت مسلم سماج کی ترقی چاہتی ہے اور اس کی پابند ہے۔چاپلوسی کی حد وں کو پار کرتے ہوئے حاجی عرفات نے حکومت کے کارنامے گنانے شروع کردئے۔انہوں نے مسلمانوں کی موجودہ حالت پر تو کچھ نہیں کہا لیکن یہ یقین ضرور دلایا کہ مستقبل میں سماج پر ہونے والے مظالم کی روک تھام اور ترقی کے لئے انکی قیادت والا مائناریٹی کمیشن کوشاں رہے گا۔اس پریس کانفرنس سے قبل حاجی عرفات نے وقف بورڈ کے کام کاج زیر تعمیر حج ہاﺅس اور وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام ودیگر اسکیمات کا جائزہ لیاغور طلب بات یہ ہے کہ اس میٹنگ سے ضلع کلکٹر ادئے چودھری پولس کمشنر چرنجیوی پرساد اور پولس سپرنٹنڈٹ کے علاوہ دیگر افسران غائب رہے۔پریس کانفرنس میں حاجی عرفات نے بتایاکہ ان دنوں وہ ریاست کے مختلف اضلاع کے دورے پر ہیں جہاں اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے کے مسائل اور ان کی شکایتوں کا پتہ لگارہے ہیں۔یہ بھی کہا کہ اردو مدارس میں مراٹھی زبان کی ترقی اشد ضروری ہے۔نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں تعلیمی اور طبی سہولیات ملے اس کے لئے وہ ہرممکن قدم اٹھائیں گے ۔عرفات سے جب رام مندر کے مسئلے پر سوال کیا گیا توانہو ںنے بتایا کہ پہلے غریبوں کو پیٹ بھر اناج اور روزگار ملنا چاہئے شیوسینا سے بھاجپ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد آپ کیسا محسوس کررہے ہیں یہ پوچھے جانے پر انھو ںنے کہا کہ ریاست میں کمیشن کی جانب سے جائزہ لینے کے بعد حکومت کو سفارش کی جائے گی۔اس موقع پر ضلع پریشد چیف ایکزیکٹیو آفیسر پونیت کورڈپٹی کلکٹر ریتا میترے وار اور اقلیتی کمیٹی کے رکن نبی پٹیل ڈاکٹر شاکر راجہ ودیگر موجود تھے۔