ممبئی :4دسمبر(ورقِ تازہ نیوز)سپریم کورٹ آف انڈیا میں آج گودھرا ٹرین سانحہ حادثہ میں سزا یافتہ 29 مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر سماعت عمل میںآئی جس کے دوران دو رکنی بینچ کے سامنے استغاثہ نے ملزمین کی سزاﺅں کی تفصیلات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ملزمین کی سزاﺅں میں اضافہ کی عرضداشت پر سماعت کرنے کی گذارش کی جس کی مخالفت دفاعی وکلاءنے کرتے ہوئے کہا کہ پھانسی کی سزا ءکے معاملات کی سماعت تین رکنی بینچ کرسکتی ہے ، دو رکنی بینچ کو ایسے معاملات کی سماعت کرنے کا آئینی حق نہیں ہے نیز اگر استغاثہ کو پھانسی کی سزاءپر ہی بحث کرنی ہے تو اسے یہ معاملہ کثیر رکنی بینچ کے سامنے لیجانا ہوگا ۔
جمعیة علماء(ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کردہ سینئر وکیل پی وی مشراءاور سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امریندر شرن نے عدالت کو بتایاکہ عمر قید کی سزا پانے والے ۹۲ ملزمین ابتک جیل میں ۶۱ سال سے زائد کا عرصہ گذار چکے ہیں اور ان کی اپیلوں پر مستقبل قریب میں سماعت ہونے کے امکانات نہیں ہیں لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے جس پر عدالت نے بھی مثبت رویہ اپناتے ہوئے جنوری ۹۱۰۲ءکے پہلے ہفتہ میں سماعت کیئے جانے کے تعلق سے احکامات جاری کیئے۔آج عدالت میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف انڈیا تشار مہیتا نے جسٹس ارون مشراءاور جسٹس ونیت شرن سے عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین کو پھانسی اور دیگر ملزمین کی پھانسی کی سزا ءکو برقرار رکھنے کی گذارش کی لیکن جمعیة علماءکے وکلاءکی بروقت مداخلت کے بعد عدالت نے استغاثہ کی عرضداشت پر سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پر حتمی بحث کے لیئے وقت مقرر کردیا جس سے ملزمین اور ان کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں د اخل اپیل کو عدالت نے پہلے ہی سماعت کے لیئے قبول کرلیا تھا جس کے بعد ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی جس پر آج دو رکنی بینچ کے جسٹس ارون مشراءاور جسٹس ونیت شرن کے روبرو سماعت عمل میںآئی ۔ آج عدالت میں سینئر وکلاءکے ساتھ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ ابھیمنیو شریستا بھی موجود تھے ۔ جمعیة علماءمہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا مقدمہ ہے جس میں تحقیقاتی دستوں نے قتل ، اقدام قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت ۴۹ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جہاں نچلی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب ۳۶ ملزمین کو باعزت بردی کردیا تھا وہیں ۰۲ ملزمین کو عمر قید اور ۱۱ دیگر ملزمین کو پھانسی کی سزاءسنائی تھی نیز جمعیة علماء۱۳ ملزمین میں سے ۹۲ ملزمین کے مقدمہ سپریم کورٹ میں دیکھ رہی ہے جبکہ بقیہ دو ملزمین ذاتی طور پر عدالت سے رجوع ہوئے ہیں ۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ گذشتہ سال ۹ اکتوبر کو گجرا ت ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اننت ایس دوے اور جسٹس جی آر وادھوانی نے اپنے 987 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں ایک جانب جہاں نچلی عدالت سے ملی عمر قید کی سزاﺅں کو برقرار رکھا تھا وہیں پھانسی کی سزاﺅں کو عمر قید میں تبدیل کرکے ملزمین کو کچھ راحت دی تھیں ۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ ملزمین بلال احمد عبدالمجید، عبدالرزاق، رمضانی بنیامین بہیرا،حسن احمد چرخہ،جابر بنیامین بہیرا، عرفان عبدالمجید گھانچی،عرفان محمد حنیف عبدالغنی، محبو احمد یوسف حسن، محمود خالد چاندا، سراج محمد عبدالرحمن، عبدالستار ابراہیم، عبدالراﺅف عبدالماجد،یونس عبدالحق، ابراہیم عبدالرزاق، فارق حاجی عبدالستار، شوکت عبداللہ مولوی، محمد حنیف عبداللہ مولوی،شوکت یوسف اسماعیل،انور محمد ،صدیق ماٹونگا عبداللہ بدام شیخ،محبوب یعقوب، بلال عبداللہ اسماعیل، شعب یوسف احمد، صدیق محمد مورا،سلیمان احمد حسین، قاسم عبدالستارکی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی ہے ۔