’ہندو رکشا دَل‘ نے جے این یو تشدد کی ذمہ داری لی، کہا ’ضرورت پڑی تو آگے بھی ہوگا ایسا‘
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اتوار کے روز طلبا و طالبات پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ حملہ کا معاملہ ٹھنڈا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ پورے ملک میں طلبا کا احتجاج جاری ہے اور سیاسی و سماجی ہستیوں کے ذریعہ لگاتار اس سلسلے میں بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس درمیان طلبا پر ہوئے حملے کی ذمہ داری ’ہندو رَکشا دَل‘ نے لے کر ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اس ہندو تنظیم نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جے این یو میں اتوار کو ہوئی مار پیٹ انہی کے کارکنان نے کی ہے۔
ہندو رکشا دل کے قومی صدر پنکی چودھری نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ طلبا کی پٹائی کرنے والے ان کے کارکنان تھے اور آگے بھی وہ جے این یو میں ملک مخالف سرگرمیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ پنکی چودھری نے کہا کہ اگر ملک مخالف سرگرمیاں اس یونیورسٹی میں آگے بھی دیکھنے کو ملیں تو ایک بار پھر اسی طرح کی کارروائی ہوگی۔ حالانکہ اس سلسلے میں دہلی پولس نے ابھی کچھ بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
Watch this video.
This guy associated with Hindu Raksha Dal has taken responsibility of JNU attack and said that his organisation will keep doing such attacks in future too if people will speak against Hindu religion.
#JNUTerrorAttack #ABVP_TERRORISTS #JNUattack pic.twitter.com/zWLYrs4Aad
— Md Asif Khan آصِف (@imMAK02) January 6, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
