جنہیں منزلوں پہ خبر ہوئی کہ راستہ کوئی اور ہے

ذوالقرنین احمد
9096331543

اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہر شئے بے حد خوبصورت اور حسین ہے کائنات میں موجود دلکش نظارے خوشبودار پھول، مہکتے چمن، بہتی ندیاں، سبز رنگ کے درخت، مختلف ذائقے دار پھل، رم جھم برستی بارش، سردیوں میں گرتے شبنمی قطرے، آسمان میں نمودار ہونے والی دھنک، زمین پر خوبصورت نظارے، رنگ برنگی تتلیاں، آسمانوں میں پرواز کرتے آزاد پرندے،کڑکتی دھوپ میں میٹھے اور ٹھنڈے جھرنے کا پانی، بدلتے موسموں کے خوشنما رنگ، یہ تمام چیزیں اللہ کے حکم سے اپنے جلوے بکھیر رہی ہیں، یہ عیش و عشرت اور آرائش و زیبائش کی تمام دولت انسانوں کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے تخلیق بخشی ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے قانون اور ضابطہ بنایا ہے گر اللہ تعالیٰ کی فرما برداری کرتے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزر رہی ہیں تو یہ تمام چیزیں ہمارے لئے نعمت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی میں زندگی گزر رہی ہیں تو یہ تمام عیش و آرام کی چیزیں دھوکہ ہے سیراب ہے زحمت ہے، یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ اگر ایمان والے کو یہ تمام عیش و عشرت کی چیزیں میسر ہو لیکن پھر بھی دل بے چینی کا شکار ہے تو یہ اللہ تعالیٰ سے دوری کا سبب ہے کائنات کی تمام چیزیں مہیا ہونے کے باوجود دل کو سکون نہیں، رات میں نیند نہیں، تو اپنے آپ کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہیں ہم غفلت کی حالت میں تو زندگی نہیں گزار رہے ہیں، کیونکہ چیزوں میں لذت و آرام، سکون قلب، قرار، پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہیں، ان تمام چیزوں کو تخلیق کرنے والے رب کے حکم سے اس میں لذت سکون اور چین آرام، قرار، پہنچایا جاتا ہے، اصل سکون قلب تو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہے، حدیث میں آتا ہے کہ ذکر کرنے والے زندہ ہیں اور ذکر نہ کرنے والے مردہ ہیں، گر تخلیق کرنے والے کو بھول کر اسکی تخلیق کردہ چیزوں میں لطف ڈھونڈنا چاہونگے تو سکون کہاں سے ملیں گا، اللہ تعالیٰ نے یہ تمام لوازمات کو انسانوں کیلئے ہی بنایا ہے لیکن یہ سب مختصر وقفے کے لئے ہے یہ امتحان کی جگہ ہے یہ جنت و جہنم کی طرف لے جانے والے راستے کا سفر ہے اور‌ دونوں راستے ہمارے سامنے عیاں ہے چاہے تو دنیاوی لذتوں میں مست ہوکر اللہ کے قانون کو توڑتے ہوئے اس سراب میں اپنے آپ کو محو رکھتے ہوئے آنے والی لا محدود زندگی کو فرموش کردیا جائے، یا پھر صراط مستقیم پر عمل کرتے ہوئے زندگی کے سفر کو جنت کی منزل کی طرف لے جاؤ یہی حقیقی چین و سکون والی زندگی ہے جو اللہ اور اسکے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے گزاری جائے، دنیا اور آخرت کی بھلائی اسی میں ہے۔ اپنا محاسبہ کیجئے کے ہم کون سے راستہ پر کھڑے ہیں کہی منزلوں پر پہنچنے کے بعد افسوس نہ کرنا پڑے کے یہ راستہ کوئی اور ہے، اور پھر جہاں سے واپسی کی بھی کوئی امید نظر نہ آئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading