جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ پوری دنیا کرونا وائرس کی وبا سے متاثر ہونے کی وجہ سے روزانہ معمول کے کاروبار تھم سے گئے ہیں
وہیں روزانہ کمانے کھانے والے اور مزدور طبقہ لوگ بھکمری کا شکار ہو رہے ہیں جونکہ گردوارہ میں روزانہ لنگر جاری رہتا ہے جہاں کثیر تعداد میں مختلف مذاہب کے لوگ کھانا کھاتے ہیں موجودہ بھکمری کے حالات میں گردوارہ میں کھانا کھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے جمعیۃ علماء دھولیہ اور امید سوشل گروپ کی جانب سے 500 کلو چاول اور 30 کلو تیل بطورِ امداد دیا گیا، کیونکہ جہاں جمعیتہ علماء دھولیہ آج شہر دھولیہ میں رعایتی کھانے کے ذریعے روزآنہ تقریباً 5000 لوگوں کو کھانا دیا جارہا ہے لھذا انصاف کا و مذہبی تعلیم کا یہ تقاضہ یہ ہے کہ دوسری قوموں کی بھی کفالت کی پر دھیان دیا جائے جب یہ امدادگردوارہ کے منتظیم بابا دھیرج سنگھ مہاراج نے قبول کیا
اس وقت کہا کہ جیسے بیماری کا کوئی دھرم نہیں ہوتا ویسے ہی بھوک کا بھی کوئی دھرم نہیں ہوتا نا ہی بیماری مذہب دیکھ کر متاثر کرتی ہے تا تو بھوک اس موقع پر صدر جمعیۃ مفتی سید محمد قاسم جیلانی نے کہا کہ انسانیت ہمیشہ زندہ رہنے وایک اہم فریضہ ہے پوری دنیا میں بھارت جیسا عظیم ملک اور اسکے باشندے ہی ہیں جو اس انسانیت کے فریضہ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ورنہ دنیا کے بڑے بڑے ہمدرد کہلائے جانے والے ممالک جب کرونا جیسی مہلک بیماری کہ چپیٹ میں آئے تو وہاں انسان سے پہلے انسانیت ہی مر گئ. ہم آج اس جگہ سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں چاہے بیماری کا وائرس ہو یا فرقہ پرستی کا ہر کسی سے لڑنے کیلئے بھارت کا ہر شہری بلا تفریق مذہب ایک ساتھ کھڑا ہے اسی لئے شاعر علامہ اقبال نے کہا تھا *سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا*
آج مورخہ 16 اپریل 2020 بروز جمعرات شام 6 بجے مفتی سید محمد قاسم جیلانی صدر جمعیۃ علماء ضلع دھولیہ کی قیادت میں افتخار منا سیٹھ، زاہد عبدالحئی سر، عبدالاحد اسعدی ، حاجی غفران سیٹھ پوپٹ والے ،حاجی ذاکر حسین، شکیل عیسی، حاجی مناف شیخ ،شکیل احمد، کارپوریٹر سعید بیگ ،حاجی انیس ملاسر وغیرہ موجود تھے