مجھے معاف کرو، میں ہار گیا : جتیندر اوہاڈ

تھانے (آفتاب شیخ) ہندوستان میں کورونا نے نو یا دس مارچ کو انٹری کی مجھےیا د ہے کہ میں اس وقت ڈپارٹمنٹ کے کاموں میں بہت زیادہ الجھا ہوا تھا کام بہت تھا میرے ساتھیوں وساتھی افسران نے مجھے کہا بھی کہ صاحب تھوڑا احتیاط برتو ، طبیعت کا خیال رکھو تو میں ان سے کہتا کہ شردپوارصاحب سے سکھا ہوں کہ کام کرو تو صرف کام عوام کی خدمت سمجھ کر ۔ ادھر دیکھتے ہی دیکھتے بیماری نے شہر کو گھیر لیا میں اپنے محکمہ کو چھوڑ کر اپنے اسمبلی حلقہ میں لگ گیا اور نہ جانے کب مجھے خود کو بھی کورونٹین ہونا پڑا ۔ جسکا مجھے بے پناہ افسوس ہورہا ہے ۔ اس طرح کا اظہار خیال ممبرا کلوا کے ایم ایل اے و کابینی وزیر جتیندر اوہاڈ نے سوشل میڈیا کے ذریعہ اس وقت پیش کیا جب انکی بیٹی کی طبیعت علیل ہونے کی ایک نیوز چینل نے نشر کی اوراس چینل کو وزیر داخلہ کا نوٹس بھیجا گیا ۔

اس دوران اوہاڈ نے کہا میںاس حالت میں اپنے کچھ نوجوان ساتھیو ں جمع کیا اور ان سے صلاح مشورہ کیا کہ لوگوں تک کھانا کیسے پہنچایا جائے سبھی نے جو مشورہ دیا اس پر عمل کیا گیا اور پھر 50ہزار کلو چاول،20ہزار کلو دال،ایک ہزار کلومرچی وغیرہ جمع کر کے ہم نے اسے 15مختلف مقامات پر سینٹر بنا کر وہاں پہنچایا کلوا کے لئے واگلے اسٹیٹ کے ایک کچن میں 15ہزار کھانے کا پیکٹ بنناے کا طئے ہوا اس طرح دن بھر دو وقت کا ملا کر ہم لوگ80ہزار کھانے کا پیکٹ بنانے و تقسیم کرنے کا یہ کار خیر چلنے لگا دیکھتے دیکھتے کلوا ممبرا کے علاوہ دیوا، ایرولی ،گھنسولی، بھیونڈی اور دیگر علاقوں سے بھی کھانے بھیجنے کا مطالبہ ہونے لگا اور ہم بھیجنے لگے اور لوگ بھی دور دراز سے آنے لگے بغیر کسی دھرم بغیر کسی علاقہ یا پارٹی بغیر کسی اختلافات کے کبھی کھچڑی تو کبھی دال کھچری ، کبھی مسور پلاو ¿ تو کبھی انڈا پلاو ¿ وغیرہ اسی درمیان یکایک ایک ایسا وقت آیا کہ کلوا میں یکایک کورونا کے مریضوں کی قطار لگنے لگی یکے بعد دیگر کئی مریض سامنے آنے لگے ایسے میں ڈاکٹرو ںنے اپنے دواخانے ہی بند کرنے لگے

اور لوگ کی شکایت آنے لگی کہ ہم چھوٹی موٹی بیماریوں کی دوا کس سے لیں کہاں سے لیں ؟فوری طور پر میں ڈاکٹروں کی میٹنگ طلب کی اور ان کی پریشانی سنی شہریوں کے مسائل انکے و حالات انکے سامنے رکھے اس طرح مہاراشٹر میں پہلا9کمیونٹی کلینک کلوا میں شروع ہوا مقامی ڈاکٹروں نے اپنے رسک پر یہاں بیٹھنا اور لوگوں کا علاج کرنے کا من بنایا جو کہ گذشتہ کل تک چل رہا تھاجس سے اب تک 10ہزار کلوا کے مریضوں نے استفادہ حاصل کیا تھا۔ اسی طرح ایک سینٹر ممبرا میں بھی فوری طور پر قائم کیا گیا جس میں سردی بخارکھانسی جیسی عام بیماری کا علاج و دوا دیا جانے کا کام چل رہا تھا اسی درمیان ہمیں ان دونوں شہروں میں ایمبولینس کی کمی محسوس ہونے لگی اور اسکے لئے جدو جہد شروع کی گئی

آج ممبرا کلوا میں 8ایمبولینس تعینات ہے۔ہر کسی تک میں پہنچ نہیں سکتا تھا لیکن کم از کم میرے اسمبلی حلقہ کا کوئی بھی شہری ایسا نہ ہو جسے بھوکے سونا پڑا میں اس فراق میں لگ گیا اور اسکے لئے انتھک محنت کرنے لگاساتھوں کو انتباہ کیا کہ کوئی بھی اپنے علاقہ میں بھوکا نہ رہے اس بات کا خاص خیال رکھنا کلوا میں میرے کئی ساتھی اور اسی طرح ممبرا کوسہ میں میرے سبھی دوست اور کارکنان سبھی اپنی ذمہ داری بحسن و خوبی نبھا رہے تھے ادھر سبزی مارکیٹ میں اشیاءکے دام آسمان چھونے لگے تاجر اور ہاکرس وقت کا جائز فائدہ اٹھانے لگے جس پر آنند پرانجپے نے فوری طور پر غریبوں میں مفت آلو پیاز تقسیم کرنے لگے ہم سب کو اس طرح عام انسانون کی خدمت کرنے کو بہت اچھا لگ رہا تھا ہم سبھی خوش تھے

پوری دلجمعی کے ساتھ کام کر رہے تھے میری بیوی صبح 3گھنٹے اور شام کو 3گھنٹے ممبرا وکلوا میں تن تنہا گشت کرتی رہی لوگو ں کے حالات پوچھتی رہی کیوں کہ ہمیں ہمارے آدرش پوار صاحب نے یہ سکھایا تھاانھیں ہم نے 1972کے سوکھے،1993کے بم بلاسٹ،1993کے ہی زلزلے زمین پر اتر کر کام کرتے ہوئے دیکھا ہے زلزلے کے دروان تو شر د پوار
4ماہ گھر ہی نہیں آئے تھے۔ہم اس طرح کام کر رہے تھے اس میں ہماری کیا غلطی تھی لیکن اسی دوران میرے بہت قریب کے ایک ساتھی کی طبیعت پر ہمیں شبہ ہوا ہم نے انسانی فریضہ نبھاتے ہوئے اس کا اور دیگر میرے قریبی ساتھیوں و اسٹاف کا فوری ٹیسٹ کروایا جس میں بہت سے کو کورونا پازیٹیو نکلا میں نے سبھی کو علاج کے لئے اسپتال پہنچوا دیا لیکن اس پر مجھے زیادہ نہیں بولنا آج نہیں کل سب اسپتال سے ڈسچارج ہوجائیں گے۔لیکن اس دوران جو لوگ میری نصف برہنہ تصویر فیس بک پر ڈال رہے ہیں ، جو لوگ مجھے اس بیماری کو لیکر اور میرے ساتھیوں کو بدنام کر رہے ہیں میری بیٹی اور میری بیوی کے متعلق توہین آمیز فقرے کس رہے تھے ان کے متعلق کسی بے کچھ نہیں بولا،بلکہ مجھ پر لعن و طعن کسے جارہے ہیں ان سب حالات کو دیکھ کر میں محسوس کر رہا ہوں کہ ڈاکٹر امبیڈکر کے دور میں کس طرح سے سماجی بائیکاٹ ہوا کرتا رہا ہوگا ؟اتنے نازک گھڑی میں اس قدر دل سے محنت کرنے کے بعد بھی اتنے شدید لفظوں سے مذمت کی جائے گی میں نے ایسا اپنے40سالہ سیاسی سفر میں کبھی نہیں دیکھامیرے باڈی گارڈ ، میرے ساتھ رہنے والے پولیس اہلکاران ، میرے پی اے سبھی میرے ساتھ انتھک کام کرتے کرتے بیمار ہوگئے تو لوگ آج اس چیز کولیکر مجھے سماج میںولن بنا کر پیش کر رہے ہیں ۔

اس موقع پر جتیند راوہاڈ نے کہا ٹائمس ناو ¿ نے میری بیٹی میں کورونا پازیٹیو بتا کر نیوز چلائی تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ سیاسی لیڈران کبھی بیمار نہیں ہوتے یا انکے اہل خانہ کو کوئی بیماری نہیں ہونی چاہئے کیا ؟ اوہاڈ نے کہا مجھے پتہ اس اس سماج میں اچھے کام کرنے والوں پر کئی سارے تہمت الزام تراشی کی جاتی ہے لیکن یہ بھی معلوم ہے کہ انسان کا جنم ہی ہوا ہے مرنے کے لئے ایک دن مرنا ہے تو اس درمیان کچھ اچھے کام کیوں نہیںکرلیا جائے میں لاکھ روکاوٹیں اور الزا م آئیں گے اپنی رفتار سے ہی چلوں گا کام کیا ہوں اور آگے بھی کروں گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading