جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے نے وفد امارت شرعیہ بہار جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کا استقبال کیا

امارت شرعیہ بہت جلد ضلع گڈا کے کسی مقام پر سی بی ایس سی پیٹرن کا ایک اسلامک اسکول قائم کرے گی

بسنت رائے بلاک میں واقع مشہور علمی گاوں جہاز قطعہ میں جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے کے زیر اہتمام منعقد ایک پروگرام کے ذریعہ امارت شرعیہ کے ایک موقر وفد کی آمدکو قابل فخرو سعادت سمجھتے ہوئے پرجوش خیر مقدم کیا گیا ۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مفتی سہراب الدین ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ قرآن و احادیث کی ہدایت مطابق کسی امیر کی بیعت ضروری ہے، جو شخص امیر کی بیعت کے بغیر ہی مر گیا ، گویا وہ جہالت کی زندگی گذار کر مرا۔ انھوں نے کہا کہ امارت شرعیہ سے مربوط ہونا صرف موجودہ حالات کی مجبوری نہیں؛ بلکہ دین کا ایک اہم فریضہ ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہماری پریشانی اور مسائل کسی حکومت کی وجہ سے نہیں؛ بلکہ ہماری اسلامی تعلیمات سے دوری اور جہالت ہے، انھوں نے پرجوش انداز میں مجمع سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا شادیوں میں جہیز لینے کے لیے کسی حکومت نے آپ کو مجبور کیا ہے؟ تین طلاق دینے پر کیا کسی اسلام دشمن نے آپ کو مجبور کیا ہے؟ انھوں نے مزید کہا کہ شریعت کی حفاظت کے لیے ہیں خود ہی آگے آنا ہوگا۔ مولانا ندوی نے امارت کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کئی اہم شعبوں کے توسط سے ملک و ملت کی خدمات میں مصروف ہے، جن میں تعلیم ، تنظیم، تعاون اور قضاکے شعبے اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ سر دست امارت کے پاس اٹھ ہزار گاوں میں سولہ ہزار نقیب ہیں، اور جھارکھنڈ کے ضلع رانچی، گریڈیہہ اور دیگر مقامات پر سی بی ایس سی پیٹرن کے اسکول بھی چل رہے ہیں، جہاں امت کی بیٹیوں کو اسلامی ماحول میں تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ انھوں نے مزید معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ضلع گڈا میں بھی کسی مقام پر سی بی ایس سی پیٹرن کا ایک اسلامک اسکول قائم کیا جائے گا۔

مفتی محمد سہیل قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی مسلمانوں کے ملی و قومی مسائل کے لیے سب سے زیادہ فعال اور متحرک دو تنظیمیں ہیں، قوم و ملت کی نگہبانی کے لیے جمعیۃ علماء ہند ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے، جب کہ ملی مسائل کے لیے امارت شرعیہ ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔ انھوں نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ ہیں، اسی طرح اس پروگرام میں آپ کی شرکت امارت شرعیہ سے محبت اور وابستگی کی کھلی دلیل ہے۔ انھوں نے جمعیۃ اور امارت کی تاریخ و خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔ اور وفد کے دورہ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کے پاس بیت المال کا نظم قائم ہے، جس سے بیواوں ، یتیموں اور تعلیمی کاموں کو انجام دیا جاتا ہے۔

مولانا محمد یاسین جہازی جمعیۃ علماء ہند نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیۃ علماء کے بینر تلے امارت شرعیہ کے وفد کا استقبال ، درحقیقت ان دونوں تنظیموں کے قدیم اور مضبوط رشتے اور وحدت کا عملی مظاہرہ ہے، کیوں کہ دونوں تنظیمیں ہمارے اکابر کی جدوجہد کے نمونے ہیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند نے بسلسلہ تقریبات صد سالہ جن سو اکابرین پر بڑے بڑے سیمینار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ان میں 15 و 16 دسمبر کو سب سے پہلے ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجاد علیہ الرحمۃ بانی امارت شرعیہ پر بڑا سیمینار کرکے قابل تقلید نمونہ پیش کرچکی ہے۔

اس سے قبل اصلاح معاشرہ پر گفتگو کرتے ہوئے ، مولانا عبد الحی زاہدقاسمی استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ نے کہا کہ مسلمان اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے ، جب تک کہ وہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے عملی محبت کا مظاہرہ نہ کریں۔ انھوں نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہ ہم اپنے علماء سے جو کچھ سنتے ہیں، ان پر عمل کرنے کا جذبہ بھی بیدار کریں۔ مولانا مفتی محمد احتکام الحق قاسمی نائب مفتی امارت شرعیہ نے کہا کہ امارت شرعیہ کے قیام کو ننانوے سال پورے ہوچکے ہیں، اس طول طویل ادوار میں ملک و ملت کے لیے جو کارہائے عظیم انجام دیے ہیں، وہ تاریخ کا ایک گراں قدر باب ہے۔ مولانا مزمل حسین صاحب قاسمی مبلغ امارت شرعیہ نے وفد کے دورہ کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کا یہ دورہ مفکر اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی امیر شریعت و جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت پر ہوا ہے۔ جس کی قیادت مولانا مفتی محمد سہراب الدین قاسمی و ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضلع گڈا میں سولہ مختلف مرکزی جگہوں پر وفد کا پروگرام طے کیا گیا ہے، جس کا سلسلہ 24/ جنوری 2019 سے جاری ہے اور 31 جنوری 2019 تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آج سے پہلے جامع مسجد قصبہ، مدرسہ شمسیہ گرگاواں، عیدگاہ نارائن پور رامکول، جامع مسجد نیا نگر، جامعہ حمیدیہ انوار العلوم ہنوارہ ملکی، جامع مسجد پرسہ میں پروگرام ہوچکے ہیں، آج کا یہ پروگرام مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں ہوا، جب کہ آگے کے پروگرام آج ہی سر شام مدرسہ اسلامیہ عربیہ خرد سانکھی میں، 28 جنوری کو سروتیا جامع مسجد اورجامع مسجد لکرمارامیں، 29 / جنوری کو جامع مسجد کھیری باڑی اوردارالعلوم رانی ڈیہہ میں، 30 جنوری کو جامع مسجد جمنی پہاڑ پور اوردارالعلوم رحمانیہ رحمن نگر موہن پورمیں، 31 جنوری کو مدرسہ منیر العلوم لوگائیں اورمدرسہ نظامیہ دارالقرآن دگھی میں ہوگا۔

جمعیۃ علماء بسنت رائے کے ناظم اعلیٰ مفتی محمد نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ نے کہا کہ امارت شرعیہ کے اکابرین نے اس گاوں اور مدرسہ کو میزبانی کے لیے چنا ، ہم اس کے لیے اکابرین امارت شرعیہ کے مشکو ر ہیں۔ علاقی اقتصادی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء نے بسنت رائے بلاک کی بیواوں اور یتیموں کے لیے ماہانہ امداد کے لیے ایک درخواست بھی پیش کی، جس پر قائد وفد نے کہا کہ امیر شریعت کے سامنے پیش کریں گے اور اس معاملہ میں کچھ پیش رفت کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔ مفتی صاحب نے بیت المال کے لیے فراہم کردہ چندہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چودہ ہزار دو سو پندرہ روپیے کی رقم وفد کے حوالے کیا گیا ہے اور ان شاء اللہ آگے مزید پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مولانا محمد سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ کی تاریخ و تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدرسہ 22 دسمبر1949 کو اس وقت قائم کیا گیا تھا، جب کہ یہ پورا علاقہ جہالت و ضلالت کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا ۔ اس کے بانی مولانا محمد منیر الدین ؒ نے دارالعلوم دیوبند کی ملازمت کو خیر باد کہہ کر اس مدرسہ کی داغ بیل ڈالی اور آج اس کا ثمرہ آپ سب کے سامنے ہے کہ گاوں میں کوئی بھی گھر ایسا نہیں ہے ، جس میں کوئی حافظ یا مولوی یا کوئی پڑھا لکھا فرد نہ ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس علاقے میں ابھی تک جنتے بھی بڑے علماء ہیں، وہ کسی نہ کسی اعتبار سے مولانا محمد منیر الدین کے شاگرد ہوتے ہیں اور ان کی شاگردی اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ پروگرام کے اخیر میں مولانا نے تمام حاضرین و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام میں قرب و جوار کے جن اہم شخصیات نے شرکت کیں، ان میں مفتی زاہد امان قاسمی، مولانا غلام رسول ریسمبا، مولانا یونس جہازی، مولانا اشفاق جہازی، مولانا سجاد ندوی ایڈیٹر ای ٹی وی بھارت ،مولانا ثناء الحق قاسمی، مکھیا نصیر الدین ، محمد مظفر ، محمد فاروق، ماسٹر غلام رسول، محمد اختر اور دیگر صاحبان کے نام شامل ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading