کیجری وال اور اماموں کی تنخواہ

تحریر :محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف

آج ہم دہلی کی سیاست کے بارے میں بات کریں گے. دلی میں 70 اسمبلی کی نشستیں اور 7 لوک سبھا کی نشستیں ہیں. دلی کے ہر لوک سبھا کے حلقے میں 10 اسمبلی کی نشستیں موجود ہیں. دلی میں لوک سبھا کی نشستوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

1. چاندنی چوک
2. نئی دہلی
3. مشرقی دہلی
4. مغربی دہلی
5. جنوبی دہلی
6. شمال مشرقی دہلی
7. شمال مغربی دہلی

اب ایک نظر دہلی کی آبادی پر ڈال لیتے ہیں.

ہندو 81.68٪
مسلمان 12.86٪
عیسائی 0.87٪
سکھ 3.40٪
بدھ 0.11٪
جین 0.99٪
دیگر مذاہب 0.01٪
غیر دہلی شہری 0.08٪

شمال مشرقی دہلی اور چاندنی چوک کی لوک سبھا نشستوں میں مسلم 20 سے 27 فیصد ہیں اگر ایس سی ایس ٹی کو بھی شامل کریں تو تقریباً 50%ووٹ کا حصول کیجری وال اس لالی پوپ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں. نیز ان اعداد و شمار کے مطابق ودھان سبھا کی تقریباً 20 سے 25 سیٹوں میں مسلم ووٹرس مؤثر ہیں. اور دہلی ودھان سبھا الیکشن بھی 2020 میں ہونا ہیں.

یہ ساتوں نشستیں بی جے پی نے 2014 کے الکشن میں جیتی تھیں. یہ بھی یاد رہے کہ ان 7 لوک سبھا کی نشستوں میں، شمال مشرقی دہلی لوک سبھا حلقہ مسلم اکثریت ہے، جس میں تقریبا 27.00٪ مسلم ووٹر ہیں.
دہلی لوک سبھا سیٹ:

• شمال مشرقی (شمال مشرق) دہلی میں 10 اسمبلی کی نشستیں ہیں، جن کے نام درج ذیل ہیں: –
1. براڑی (سنجیو جھا – آپ)
2. تیمار پور (پنکج – آپ)
3. سیما پوری (راجندر پال – آپ)
4. روہتاس نگر (سریتا سنگھ – آپ)
5. سیلم پور (محمد اشراق – آپ)
6. گھونڑا (شری دتت شرما – آپ)
7. بابر پور (گوپال رائے – آپ)
8. گوکل پور(فاطمہ سنگھ – آپ)
9. مصطفی آباد (جگدیش پردھان – بی جے پی)
10. کراول نگر (کپل مشرا – آزاد)

چار سال بعد مسلم کیوں یاد آئے

دہلی حکومت کی جانب سے اماموں، مؤذنوں کی تنخواہیں 9ہزار سے بڑھاکر سولہ اور 18 ہزار کردی گئی ہیں. یہ فائدہ دہلی کی 250 مساجد کے اماموں، مؤذنوں کو ملے گا.جبکہ صوبہ دہلی کی پندرہ سو مساجد کے امام و مؤذن حضرات کو 14 ہزار روپے ہر ماہ فروری سے دئے جائیں گے. اسے دنیائے اردو کے اخبارات نے "دہلی حکومت کا تاریخی فیصلہ” کہا ہے. تعجب ہوتا ہے اردو اخبارات کے صحافیوں پر کہ اتنی سی بات کو تاريخي قرار دے رہے ہیں جس سے محض 1750 مسلمانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے! اور جو فائدہ پہنچ رہا ہے اس میں بھی حکومت نے کچھ نیا نہیں کیا ہے بلکہ 45 سے 50 فیصد افزودگی کو منظوری دی ہے. اور یہ تنخواہ حکومتی سطح کے تھرڈ کلاس ملازم سے بھی کم ہے. اور اس 45 سے 50 %میں بھی وقف بورڈ کی محنت شامل ہے جس کا اقرار خود کیجری وال نے کیا ہے. دوران تقریر انھوں نے کہا کہ” وقف کی املاک پر کرایا وغیرہ کی رقم کو یقینی بنایا گیا ہے جس سے بورڈ میں لاکھوں روپیہ جمع ہوا ہے” نیز وقف کی زمین کی خورد برد پر بھی مہر لگا دی ہے کہ وقف کی املاک پر اسکول، کالجز وغیرہ کھولے جائیں گے. زمین مسلمانوں کی اور اسکول کالجز جو کھلیں گے تو پڑھیں گے سبھی، ٹیچرس کی تقرری بھی محض مسلمانوں کی ہی تو نہیں ہوگی؟ ایک عرصے بعد بس نام وقف کا ہوگا اور فائدہ دوسروں کا. ایک تیر سے یہاں کئی نشانے سادھنے کی کوشش کی گئی ہے. ظاہر سی بات ہے جب وقف کی مساجد کے ذمے داران، ائمہ و مؤذنین کو حکومت اپنے پالے میں کئے ہوگی تو احتجاج کون کرے گا؟ اسی تقریب میں تقریر کے دوران اپنا مقصد بھی بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "دہلی کی سات لوک سبھا سیٹیں ہیں پچھلی لوک سبھا میں عام آدمی پارٹی کو 33%بی جے پی کو 46%اور کانگریس کو 15%ووٹ ملے تھے اگر اس بار یہ ووٹ (جو کانگریس کو گیا) ہمیں مل جائے تو دہلی کی ساتوں لوک سبھا سیٹوں پر ہمارا پرچم لہرائے گا” جبکہ وقف وزیر جناب امانت اللہ صاحب نے تو سیدھے کہ دیا کہ” اگر مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا تو ووٹ تقسیم ہوجائے گا اور بی جے پی جیت جائے گی لہٰذا ووٹ عام آدمی پارٹی کو کیا جائے.
اب آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آخر کیجری وال کو یہ فیصلہ کیوں لینا پڑا؟ اگر حکومت مسلمانوں کے حق میں اتنی ہی سنجیدہ تھی تو یہ فیصلہ چار سال گذرنے کے بعد کیوں لیا؟ عین لوک سبھا الیکش سے پہلے یہ فیصلہ صرف سیاسی روٹیاں سینکنے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟ مسلم معاملات میں دہلی حکومت کتنی سنجیدہ ہے اس کے لیے ڈیڑھ دو ماہ قبل ہوے مدرسے کے طالب علم محمد عظیم کے قتل کا معاملہ دیکھ لیں. دہلی کے” اتم نگر” قبرستان میں آر ایس ایس کا قبضہ بھی دیدنی ہے. 16 اپریل 2018 رام نومي کا جلوس” شاہدرا” علاقے کی مسجد کے باہر پندرہ منٹ تک اشتعال انگیز نعرہ بازی کرتا رہا مزے کی بات یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی نے اس کو بی جے پی کی سازش بتایا تھا مگر "منوج تواری” نے ویڈیو پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ یہ اشتعال انگیز نعرے عام آدمی پارٹی کے اراکین نے لگائے تھے. اس کی گواہی مسجد کے سکریٹری محمد وسیم بھی کرتے ہیں انھوں نے کہا "کہ تصویر میں جو آدمی نعرے لگاتا دکھ رہا ہے اسے میں نے عام آدمی پارٹی کے ودھان سبھا صدر کے ساتھ دیکھا ہے” یہ جلوس مسجد کے پاس اشتعال انگیز نعرہ بازی کرتے گذرگیا اور پولیس تماش بین بنی رہی. ایک دوسرے مدرسے میں طلبہ پر کیروسن تیل چھڑک کر آگ لگا دی گئی کس کی گرفتاری ہوئی؟ در حقیقت مسلمانوں کو اس حکومت میں کچھ ملا ہی نہیں ہے حالیہ فیصلہ بھی دینا کم لینا زیادہ ہے کیونکہ جتنا دیا نہیں اس سے زیادہ وقف کی پراپرٹی پر قبضے کی نیت زیادہ ہے. جامعہ نگر، بٹلہ ہاؤس قبرستان، جامعہ ملیہ اسلامیہ، تکونہ پارک، وغیرہ مختلف شاہراہوں پر کبھی بارش کے بعد آئیے تو بٹلہ ہاؤس بس اسٹینڈ سے نومبر کی طرف جانے والے راستے پر آپ کو فور وہیلر اور ٹو وہیلر پر ہی "اسٹیمر” کا مزہ مل جائے گا. تنگ گلیاں، بارش میں سڑکوں پر بھرا گندا پانی دہلی میں مسلمانوں کی حالت زار بیاں کرنے کے لیے کافی ہے اور یہاں کوئی توجہ اس لیے نہیں کیونکہ یہ علاقہ مسلم اکثریت کا ہے.

خلاصہ یہ کہ کیجری وال نے محلہ کلینک، پانی، بجلی، سرکاری اسکول وغیرہ کا نظام بہتر کیا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے مگر مسلمانوں کا جو حال کانگریس یا بی جے پی میں تھا اس میں کوئی سدھار نہیں ہوا.

مسلمانوں نے جو کیجری وال کو دیا ہے اسکے مقابلے کیجری وال کا یہ داؤں صرف "اونٹ کے منہ میں زیرہ” سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا.

محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading