جامعہ فائرنگ: حملہ آور کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ، شاہین باغ میں رات 11 بجے پریس کانفرنس
دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر سی اے اے مخلافف مظاہرہ کر رہے طلبا پر فائرنگ کرنے والے حملہ آوار کے خلاف پولیس نے اقدام قتل (آئی پی سی کی دفع 307) اور آرمس ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ معاملہ کی جانچ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کو سونپی گئی ہے۔
ادھر، شاہین باغ میں رات 11 بجے پریس کانفرنس طلب کی گئی ہے۔ خواتین مظاہرین یہاں صحافیوں سے خطاب کریں گی اور جامعہ فائرنگ پر اپنا موقف پیش کریں گی۔
Delhi: A press conference to be held at Shaheen Bagh at 11 pm tonight.
— ANI (@ANI) January 30, 2020
زخمی طالب علم شاداب فاروق سے ملے اسپیشل کمشنر آف پولیس
فائرنگ میں زخمی ہونے والے جامعہ کے طالب علم شاداب فاروق ایمس کے ٹروما سینٹر میں زیر علاج ہیں، جہاں دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر نے ان کی عیادت کر کے خیریت معلوم کی۔ ہندوتوا حامی انتہا پسند رام پال (بدلا ہوا نام) نے جامعہ پر سی اے اے مخالف مظاہرے کے دوران گولی چلائی تھی، جس کی زد میں آکر شاداب زخمی ہوئے تھے۔
Praveer Ranjan, Special Commissioner of Police met Shadab Farooq, a Jamia Millia Islamia student, at AIIMS Trauma Centre. He was injured after a man opened fire in Jamia area today during protests there earlier today. pic.twitter.com/XYvcp2xSHP
— ANI (@ANI) January 30, 2020
ادھر، جامعہ علاقے میں فائرنگ کے بعد مظاہرے میں شدت آ گئی ہے۔ مظاہرین پولیس کی طرف سے لگائے گئے بیریکیڈ کو توڑنے کی کوشش کی۔ علاقے میں بھاری تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ پولیس کی طرف سے طلبا کو ہٹانے کے لئے لاٹھی چارج کی بھی اطلاع ہے۔
Praveer Ranjan, Special Commissioner of Police met Shadab Farooq, a Jamia Millia Islamia student, at AIIMS Trauma Centre. He was injured after a man opened fire in Jamia area today during protests there earlier today. pic.twitter.com/XYvcp2xSHP
— ANI (@ANI) January 30, 2020
بی جے پی رہنما اشتعال انگیز بیان دینگے تو یہی ہوگا، پرینکا گاندھی
جامعہ نگر میں انتہا پسند رام پال (بدلا ہوا نام) کی طرف سے گولی چلا کر سی اے اے مخالف مظاہر کر رہے ایک شخص شاداب کو زخمی کرنے کے معاملہ پر پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کر کے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’جب بی جے پی کے وزرا اور رہنما لوگوں کو گولی مارنے کے لئے اکسائیں گے، اشتعال انگیز بیان دیں گے تب یہ سب ہونا ممکن ہے۔ وزیر اعظم کو جواب دینا چاہئے کہ وہ کیسی دہلی بنانا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے وزیر اعظم مودی سے سوال کیا، ’’وہ تشدد کے ساتھ کھڑے ہیں یا عدم تشدد کے۔ وہ ترقی کے ساتھ کھڑے ہیں یا انارکی کے۔‘‘
जब भाजपा सरकार के मंत्री और नेता लोगों को गोली मारने के लिए उकसाएँगे, भड़काऊ भाषण देंगे तब ये सब होना मुमकिन है। प्रधानमंत्री को जवाब देना चाहिए कि वे कैसी दिल्ली बनाना चाहते हैं?
वे हिंसा के साथ खड़े हैं या अहिंसा के साथ?
वे विकास के साथ खड़े हैं या अराजकता के साथ? pic.twitter.com/jWywAqAW3G
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) January 30, 2020
ملک کے سب سے ’ناکارہ‘ وزیر داخلہ ہیں امت شاہ: عآپ
جامعہ طالب علم شاداب پر شرپسند کے ذریعہ گولی چلائے جانے کے بعد عآپ کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف بڑا حملہ کیا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہلی الیکشن جیتنے کے لیے ان کے پاس نہ کوئی لیڈر ہے اور نہ کوئی ایشو، اس لیے امت شاہ دہلی کا ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ دہلی کا الیکشن ٹالا جا سکے۔ امت سنگھ ملک کے سب سے ناکارہ وزیر داخلہ ہیں۔‘‘ دراصل ملزم نے جب شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے طلبا میں سے ایک شاداب پر گولی چلائی تو کئی پولس اہلکار وہاں پر موجود تھے اور کچھ ہاتھ باندھے یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے۔ اسی کے پیش نظر سنجے سنگھ نے امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ انھوں نے دہلی پولس کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کی انتخابی تشہیر پر لگائی پابندی
دہلی اسمبلی الیکشن میں ریلیوں کے دوران متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں انتخابی کمیشن نے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرویش ورما کے خلاف کارروائی کی ہے۔ انوراگ ٹھاکر پر 72 گھنٹے اور پرویش ورما پر 96 گھنٹے کے لیے انتخابی تشہیر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
Election Commission bans MoS Finance Anurag Thakur for 72 hours from campaigning, BJP MP Parvesh Verma banned for 96 hours. #DelhiElections2020 pic.twitter.com/4KzPTozig8
— ANI (@ANI) January 30, 2020
پولس کی موجودگی میں شرپسند افراد نے جامعہ طالب علم پر چلائی گولی
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم شاداب پر شرپسند شخص کے ذریعہ گولی چلائے جانے کا ویڈیو سامنے آیا ہے۔ اس ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ درجنوں پولس اہلکار اس وقت شرپسند شخص کے پیچھے کھڑی ہے اور وہ دیسی کٹّا لہرا لہرا کر جے شری رام کا نعرہ لگا رہا ہے۔ گولی چلانے والا شخص یہ بھی کہتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ ’یہ لو آزادی‘۔
جامعہ نگر: فائرنگ میں زخمی شاداب ہولی فیملی اسپتال میں داخل
نئی دہلی: راجدھانی کے جامعہ نگر علاقہ میں جمعرات کو کئی طلبا شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مارچ نکال رہے تھے۔ یہ مارچ جیسے ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس سے باہر نکلا، ایک باہری نوجوان نے بھیڑ پر گولی چلادی جس میں ایک طالب علم زخمی ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گولی چلانے والے نوجوان کا نام پرشانت ہے جس نے پولس کے سامنے گولی چلائی۔ یہ گولی جس طالب علم کے ہاتھ میں لگی اس کا نام شاداب ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ پولس کچھ دور سے اس شخص کو دیکھتی رہی جو پستول لہرا کر مارچ روکنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ گولی چلنے کے بعد اسے پولس پکڑ کر لے گئی۔ اس واقعہ سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زخمی شاداب ماس کمیونکیشن کا طالب علم ہے اور اسے علاج کے لیے ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
(یو این آئی)
جامعہ میں ’جے شری رام‘ نعرہ لگا کر شرپسند نے کی فائرنگ، ایک طالب علم زخمی، حملہ آور گرفتار
دہلی کے جامعہ نگر علاقہ میں ایک شرپسند شخص نے ’دہلی پولیس زندہ آباد‘ اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگا کر فائرنگ کی۔ حملہ میں شاداب نامی ایک طالب علم کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے۔ معاملہ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق گولی چلانے سے پہلے شرپسند شخص نے کہا کہ ’’لو میں تمھیں آزادی دیتا ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے گولی چلائی جو کہ شاداب کے ہاتھ میں لگی۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے۔
#UPDATE Delhi Police: Man, who brandished the gun and opened fire in Jamia area, has been taken into custody. He is being questioned. The injured, said to be a student, has been admitted to a hospital. Investigation is continuing. https://t.co/6Mh2021fyw
— ANI (@ANI) January 30, 2020
کورونا وائرس: ہندوستان میں پہلے مریض کی تصدیق، کیرالہ اسپتال میں داخل
کیرالہ میں کورونا وائرس کا پازیٹو مریض سامنے آیا ہے۔ یہ طالب علم چین میں وُہان یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ طالب علم کی حالت مستحکم ہے اور فی الحال ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ ہندوستان کا پہلا مریض ہے جس کے کورونا وائرس کے شکار ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
One positive case of Novel Coronavirus has been found, in Kerala. The student was studying at Wuhan University in China. The patient is stable and is being closely monitored. #coronavirus pic.twitter.com/fDlME0UdRR
— ANI (@ANI) January 30, 2020
ناتھو رام گوڈسے اور نریندر مودی ایک ہی نظریہ میں رکھتے ہیں یقین: راہل گاندھی
کیرالہ کے کلپیٹا میں راہل گاندھی نے پی ایم نریندر مودی کے تعلق سے بڑا بیان دیا ہے۔ انھوں نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ناتھو رام گوڈسے اور نریندر مودی ایک ہی نظریہ میں یقین کرتے ہیں۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ نریندر مودی میں یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ کہہ سکیں کہ وہ گوڈسے میں یقین نہیں کرتے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ’’ہندوستانیوں کو یہ ثابت کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ہندوستانی ہیں۔ یہ طے کرنے والے نریندر مودی کون ہوتے ہیں کہ میں ہندوستانی ہوں؟ کس نے انھیں یہ طے کرنے کا لائسنس دیا ہے کہ کون ہندوستانی ہے اور کون نہیں؟ میں جانتا ہوں کہ میں ایک ہندوستانی ہوں اور مجھے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
#WATCH Rahul Gandhi, Congress in Kalpetta, Kerala: Nathuram Godse & Narendra Modi believe in the same ideology, there is no difference except Narendra Modi does not have the guts to say he believes in Godse. pic.twitter.com/J7GmOlBW55
— ANI (@ANI) January 30, 2020
جیل جانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہیے: بنگال بی جے پی صدر
مغربی بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش کا کہنا ہے کہ ’’اگر آپ جیل نہیں جاتے ہیں تو آپ لیڈر نہیں ہیں۔ اگر پولس آپ کو گرفتار نہیں کرتی ہے تو آپ خود وہاں جائیے۔ اگر پولس آپ کو جیل کی کوئی گنجائش نہیں دیتی تو جیل جانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہیے۔ تبھی لوگ آپ کی عزت کریں گے۔ سیاست میں نرم لوگوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔‘‘
BJP WB Chief Dilip Ghosh: You'll not be a leader if you don't go to jail, if Police don't take you, then you must go there yourself. If they don't give you any scope, you do something to go to jail, only then will people respect you. There is no place for soft people in politics. pic.twitter.com/tKXlggwuZP
— ANI (@ANI) January 30, 2020
انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی معاملہ میں الیکشن کمیشن نے بی جے پی کو بھیجا نوٹس
انتخابی کمیشن نے بی جے پی کو کانگریس کی شکایت پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی معاملے میں نوٹس جاری کیا ہے جس میں ان کے ایک الیکشن اشتہار کے ساتھ مثالی ضابطہ اخلاقی کی خلاف ورزی کا الزام لگا تھا۔ انتخابی کمیشن نے بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ کو 31 جنوری کی دوپہر 12 بجے تک جواب دینے کے لیے وقت دیا ہے۔
Election Commission issues notice to BJP on Congress' complaint for prima facie violating Model Code of Conduct with one of their election advertisements. EC has given time till 12 noon 31 Jan to Arun Singh, BJP National General Secretary to explain their position.#DelhiElections pic.twitter.com/IQ8OVt3gip
— ANI (@ANI) January 30, 2020
شہریت قانون: اب بی جے پی قومی سکریٹری نے دیا ’شاہین باغ‘ کے تعلق سے متنازعہ بیان
دہلی امسبلی الیکشن میں ایک بار پھر بی جے پی لیڈر کی جانب سے شاہین باغ کو لے کر متنازعہ بیان دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری ترون چگھ نے کہا کہ وہ دہلی کو سیریا نہیں بننے دیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ راجدھانی میں آئی ایس آئی ایس جیسا دہشت گردانہ ماڈیول چلانے کی اجازت بالکل نہیں دیں گے جہاں خواتین اور بچوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
We will not let Delhi become Syria and allow them to run an ISIS-like module here,where women and kids are used. They are trying to create fear in the minds of people of Delhi by blocking the main route. We will not let this happen.(We will not let Delhi burn).#ShaheenBaghKaSach
— Tarun Chugh (@tarunchughbjp) January 29, 2020
شہریت ترمیمی قانون: اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام میں ڈاکٹر کفیل ممبئی میں گرفتار
اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس نے بدھ کے روز ڈاکٹر کفیل خان کو ممبئی میں گرفتار کیا۔ اس وقت ڈاکٹر کفیل ممبئی کے سہر پولس اسٹیشن میں رکھے گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔ اس مظاہرے کے تقریباً ایک مہینہ گزر چکا ہے، گویا کہ بیان دیے جانے کے ایک مہینے بعد ڈاکٹر کفیل خان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
Maharashtra:Dr Kafeel Khan is under police custody at Sahar police station in Mumbai after he was arrested by Uttar Pradesh Special Task Force in Mumbai y'day.He's accused of making instigating remarks at Aligarh Muslim University during protest against Citizenship Amendment Act. https://t.co/4JGGqPhS1o pic.twitter.com/qOyiIHc5fV
— ANI (@ANI) January 29, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو