ممبئی :یکم مارچ(ورق تازہ نیوز)دہشت گردی کے الزامات کے تحت 14 سال با مشقت کی سزا پانے والے ایک ملزم کی سزا کے خلاف داخل اپیل کو سپریم کورٹ نے آج سماعت کے لیئے قبول کرتے ہو ئے نوٹس جاری کیا نیز ضمانت عرضداشت پر چار ہفتوںکے بعد سماعت کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ملزم حافظ عبدالمجید کلو خان کی اپیل جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی جس کی سماعت آج جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس سبھاش ریڈی کے سامنے ہوئی ۔ سینئر ایڈوکیٹ رتنا کر داس (سابق جسٹس اڑیسہ ہائی کورٹ) نے عدالت کو بتایا کہ جئے پور ہائی کورٹ سے ملزم کو ۴۱کی سزا ہوئی ہے جس کے خلاف اپیل داخل کی گئی ہے کیونکہ عرضد گذارش ہائیکورٹ کے فیصلہ سے متفق نہیں ہے ۔ایڈوکیٹ رتنا کر داس نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے عمر قید کی سزا کو ۴۱ سالوں میں تبدیل کردیا ہے حالانکہ ملزم کو باعزت بری کیا جانا چاہئے تھاکیونکہ استغاثہ اس کے خلاف کوئی بھی پختہ ثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکا ۔ ایڈوکیٹ رتنا کر داس نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کو ہائی کورٹ سے ملی سزا غیر قانونی ہیں کیونکہ یو اے پی اے قانون کے تحت مقدمہ قائم کرنے کے لیئے ضروری خصوصی اجازت نامہ (سینکشن) حکومت سے حاصل نہیں کیا گیا تھا نیز سرکاری گواہوں کے بیانات میں تضاد کا ملزمین کو فائدہ دینے کی بجائے ہائی کورٹ نے استغاثہ کو دیا۔دو رکنی بینچ نے دفاعی وکیل کے دلائل کی سماعت کے بعد اپیل کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہو ئے نوٹس جاری کیا۔دوران سماعت عدالت میں جمعیة علماءکی جانب سے ایڈوکیٹ رتنا کر داس کے ساتھ ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و یگرموجود تھے۔واضح رہے کہ نچلی عدالت سے عمر قید کی سزا پانے والے ملزم عبدالمجید کی سزا کو ہائی کورٹ نے ۴۱ سالوں اور جرمانہ کی رقم دس لاکھ کو دس ہزار میں تبدیل کردیا تھا جس کے بعد ملزم کی اپیل سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیة علماءقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایاکہ اس معاملے میں ۱۔ اصغر علی محمد شفیع۲۔ بابو علی حسن علی۳۔ حافظ عبدالمجید کلو خان۴۔ قابل خان امام خان ۵۔ شکر اللہ صوبے خان ۶۔ محمد اقبال بشیر احمد کو جئے پور ہائی کورٹ نے ۴۱ سالوں کی سز سنائی تھی نیز پہلے مرحلہ میں ملزم عبدالمجید کی اپیل سماعت کے لیئے آج پیش ہوئی ، جلد ہی بقیہ ملزمین کی اپیلیںبھی سماعت کے لیئے پیش ہونگی۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ جمعیة علماءسے قانونی امداد طلب کرنے کے لیئے ملزمین نے راجستھان جمعیة علماءکے صدر مفتی حبیب اور جمعیة علماءمہاراشٹر کے خازن مفتی یوسف کے توسط سے رابطہ قائم کیا تھا جس کے بعد مقدمہ کے دستاوزیزات کا مطالعہ اور ملزمین کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے بعد جمعیة علماءنے نچلی عدالت کے فیصلہ کوہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجو ع کیا گیا۔واضح رہے کہ راجستھان اے ٹی ایس نے ملزمین کو یو ے پی اے کی دفعات 10,13,17,18,18A,18B, 20, 21 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 511 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھے۔