کولکاتا:مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں تاریخی کامیابی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت بنانے جا رہی ہے، جبکہ شُبھندو ادھیکاری کو ریاست کا نیا وزیرِ اعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے۔ جمعہ کو منعقدہ بی جے پی کے قانون سازوں کے اجلاس میں انہیں متفقہ طور پر لیڈر چنا گیا، جس کا اعلان مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کیا۔
وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد شُبھندو ادھیکاری نے پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اب ترقی اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام کو دی گئی تمام ضمانتوں کو وقت پر پورا کیا جائے گا۔
ممکنہ بڑے فیصلے
بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد ریاست میں کئی اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے:
- یکساں سول کوڈ (UCC): ریاست میں نیا قانون لا کر یکساں سول کوڈ نافذ کیا جا سکتا ہے۔
- ساتواں تنخواہ کمیشن: سرکاری ملازمین کے لیے ساتواں پے کمیشن نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔
- امن و امان: سیاسی تشدد اور جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
- خواتین کا تحفظ: خواتین کی سلامتی کے لیے ‘اینٹی رومیو اسکواڈ’ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
- خواتین پولیس اسٹیشن: ہر سب ڈویژن میں ایک خصوصی خواتین پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔
- مالی امداد: خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے ماہانہ 3000 روپے کی مالی مدد دی جا سکتی ہے۔
- غیر قانونی دراندازی: ‘ڈٹیکٹ، ڈیلیٹ اور ڈیپورٹ’ پالیسی کے تحت غیر قانونی دراندازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
- سرحدی سیکیورٹی: غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لیے سرحد پر باڑ لگانے اور دیگر سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
“ہم سب مل کر حکومت چلائیں گے”
شُبھندو ادھیکاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا انتخاب پارٹی کے اندر جمہوری عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مرکزی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت اجتماعی طور پر چلائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدعنوانی اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ گزشتہ 15 برسوں میں ناانصافی کا شکار افراد کو انصاف دلانا اور شفاف نظام حکومت قائم کرنا اولین ترجیح ہوگی۔