تحریر: طاھر مدنی،
جنرل سیکرٹری، راشٹریہ علماء کونسل
تین طلاق سے متعلق جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا اور ایک ساتھ تین طلاق کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا تو کورٹ نے سرکار سے قانون بنانے کے لیے بھی کہا تھا. لیکن مرکزی سرکار کے وزیر قانون نے کہا تھا کہ کوئی قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے. بعد میں نہ جانے کیوں سرکار کو قانون بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی اور تین طلاق کا بل جلد بازی میں تیار کیا گیا جو تضادات کا مجموعہ ہے. طلاق کے معاملے کو کریمنل معاملہ بنا دیا گیا اور ایک طلاق بھی نہ ماننے کے باوجود تین سال کی جیل کی سزا رکھی گئی.
لوک سبھا میں اکثریت کے بل بوتے اس بل کو پاس کرا لیا گیا لیکن راجیہ سبھا میں ہزار کوشش کے باوجود، سرکار اس سیاہ بل کو پاس نہ کرا سکی. اگر اس سرکار کے اندر جمہوریت کا کچھ بھی پاس و لحاظ ہوتا اور پارلیمنٹ کا احترام ہوتا تو سرمائی اجلاس کا انتظار کرتی اور دو بارہ اس میں پیش کرتی، لیکن اس سرکار کی نیت خراب ہے اسے 2019 کے الیکشن کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا ہے، ہر محاذ پر ناکام حکومت جذباتی بنیادوں پر الیکشن جیتنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ ناکامی اس کا مقدر بن چکی ہے. یہ آرڈیننس ناقابل قبول ہے اور اس میں متعدد خامیاں ہیں؛
1 … سپریم کورٹ نے قانون پاس کرنے کی ہدایت کی تھی نہ کہ آرڈیننس لانے کی…
2 کورٹ نے جو مدت دی تھی وہ کب کی ختم ہوچکی ہے.
3 . جب بل راجیہ سبھا میں زیر التواء ہے تو آرڈیننس لانے کا کیا جواز ہے، سوائے الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے؟
4 … طلاق جیسے سماجی معاملے کو کرائم بنانے کی کیا منطق ہے؟
5.. جب ایک ساتھ تین طلاق کا کوئی اثر ہی قانون تسلیم نہیں کرتا تو یہ کرائم کیسے ہوگیا؟
6.. شوہر جب تین سال کے لئے جیل چلا جائے گا تو بیوی بچوں کا خرچ کیسے چلے گا؟
7 … کیا سرکار بچوں کو سرپرست سے محروم کرکے ان کو غلط راستے پر ڈالنا چاہتی ہے؟
8… ایک ساتھ تین طلاق اگرچہ ناپسندیدہ ہے مگر اس کے واقع ہونے پر اتفاق ہے، اختلاف صرف یہ ہے کہ ایک ہوگی یا تین، جبکہ قانون ایک بھی نہیں مان رہا ہے، یہ مسلم پرسنل لاء میں صریح مداخلت ہے.
9… اس قانون کی وجہ سے مطلقہ خواتین شدید الجھن کا شکار ہوں گی، شرعی لحاظ سے طلاق واقع ہوئی اور قانونی لحاظ سے نہیں، اب وہ کیا کریں؟
10.. سیکڑوں اجلاسوں کے ذریعے لاکھوں مسلم خواتین نے یہ اعلان کردیا کہ یہ سیاہ بل شریعت کے خلاف ہے، ہمارے لیے ناقابل قبول ہے تو سرکار چور دروازے سے اسے کیوں لا رہی ہے؟
ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب ہے؛ الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے علاوہ اور کچھ پیش نظر نہیں ہے………. اس لیے ہماری حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ ان کے منصوبے کو ناکام بنادیں؛
1… کوئی عوامی احتجاج اور مظاہرہ نہیں کیونکہ یہ آندھی بہری سرکار ہے، لاکھوں عزت مآب بہنوں نے دیش کے کونے کونے میں احتجاج کیا اور اس سیاہ بل کے خلاف شدید جذبات کا اظہار کیا، لیکن حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑا. احتجاج ہوگا تو سرکار الیکشنی فائدہ اٹھائے گی.
2 … اس موضوع پر ٹی وی چینلوں کے ڈیبیٹ کا بائیکاٹ، کیونکہ وہ سب منصوبہ بند ہوتا ہے اور اس وقت الیکشن میں ماحول اپنے حق میں سازگار بنانے کیلئے کیا جائے گا.
3 … سیمینار، مذاکرہ اور دانشوروں کے ساتھ نشستوں کا اہتمام اور تفہیم شریعت کی کوشش.
4 … اس غیر آئینی، غیر جمہوری آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں مضبوطی کے ساتھ چیلنج کیا جائے اور یہ کام آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو کرنا ہے.
5 … مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کہ ایک ساتھ تین طلاق، بدعت ہے اور سخت گناہ ہے، اس لیے اس سے یکسر اجتناب کریں اور اگر معقول وجوہات کی بنا پر طلاق دینے کی نوبت آہی جائے تو صرف ایک طلاق دینے پر اکتفا کریں.
6 … عائلی تنازعات کو حل کرانے کیلئے کونسلنگ کا مؤثر نظم ہو اور لوگوں کی صحیح رہنمائی کی جائے.
7 . یہ بیداری بھی پیدا کی جائے کہ اگر کوئی نادانی میں ایک ساتھ تین طلاق دے ہی دے تو معاملہ عدالت میں نہ لے جائیں بلکہ فریقین اسے شرعی پنچایت کے ذریعے حل کرائیں.
8 .. اسلام کے عائلی قوانین کا بڑے پیمانے پر تعارف کرایا جائے اور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے.
9 .. نکاح کو آسان بنایا جائے اور مطلقہ و بیوہ خواتین سے بھی نکاح کی ترغیب دی جائے.
10… مطلقہ، بیوہ اور بے سہارا عورتوں کی کفالت کیلئے بیت المال کا موثر سسٹم فروغ دیا جائے اور کسی کو بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے.
نوٹ؛ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ یا دینی جماعتوں کو مطعون کرنے کے بجائے، ہر شخص اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور جو ہوسکتا ہو، کرے، صرف دوسروں پر تنقید سے کام نہیں چلنے والا ہے، آگے بڑھ کر کام کرنے کا وقت ہے اور دوسروں کے احتساب سے پہلے اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے؛
باہمہ علم و آگہی، ہائے رے پستی بشر
سارے جہاں کا احتساب، اپنے جہاں سے بےخبر
20 ستمبر 2018… 9 محرم 1440