تھانے میں غیر قانونی تعمیرات پر سنجیدہ الزامات — سُہاس دیسائ ی کا انکشاف

تھانے میں غیر قانونی تعمیرات پر سنجیدہ الزامات — سُہاس دیسائی کا انکشاف

تھانے، 8 جولائی (آفتاب شیخ):
راشٹروادی کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے تھانے شہر (ضلع) صدر سُہاس دیسائی نے دعویٰ کیا ہے کہ تھانے شہر میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں اور مبینہ طور پر "ٹاؤن شپ کے افسران غیر قانونی تعمیر کرنے والوں سے 300 روپے فی مربع فٹ کے حساب سے رقم وصول کر رہے ہیں۔"

ایک پریس کانفرنس کے دوران سُہاس دیسائی نے الزام لگایا کہ "تھانے میونسپل کارپوریشن کے بعض افسران کی ترجیح شہر کی ترقی نہیں بلکہ ذاتی فائدہ بن گئی ہے، جس کی وجہ سے غیر قانونی تعمیرات کو خاموشی سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔"

اس موقع پر پارٹی کے دیگر عہدیداران بشمول کارگزار صدر پرکاش پاٹل، شعبہ خواتین صدر سجاتا گھاگ، ترجمان رچنا ویدیہ، ریاستی یوتھ جنرل سیکریٹری راجیش کدم اور راجو چپلے بھی موجود تھے۔

سُہاس دیسائی کے مطابق بی-کبن علاقے میں ایک آٹھ منزلہ عمارت تعمیر کی گئی ہے جبکہ ساکیت میں ایک آر ایم سی پلانٹ بغیر اجازت کے کئی برسوں سے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس پلانٹ کا نقشہ شہری ترقیاتی محکمے سے منظور نہیں کیا گیا، جو اس کی غیر قانونی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔"

دوسری جانب انسداد تجاوزات کے ڈپٹی کمشنر شنکر پاٹولے کا کہنا ہے کہ "ٹھانے شہر میں کوئی غیر قانونی تعمیر نہیں ہو رہی۔" اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سُہاس دیسائی نے سوال کیا کہ "جو عمارتیں آج گرائی جا رہی ہیں، کیا وہ پہلے افسران کو نظر نہیں آئیں؟"

دیسائی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ "غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے پر عوام کے ٹیکس سے جو اخراجات ہو رہے ہیں، ان کی وصولی متعلقہ افسران سے کی جائے۔" ان کا کہنا تھا کہ اگر کمشنر نے جلد از جلد کارروائی نہ کی تو پارٹی شہر میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading