بروزاتوار ۲۷ ؍ جمادی الاولیٰ بمطابق ۳؍فروری مغرب کی نمازکے بعد حاجی محمد طہ ابن قاری محمد نوح عرف طہٰ بھائی ، طٰہٰ بھیّا اس دار فانی سے کوچ کر گئے اناللہ وانا الیہ راجعون ۔آپ کی عمر ۷۹سال شمسی اعتبار سےاور قمری اعتبار سے۸۱؍ سال ہوتی ہے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا عبدالمنان صاحب کے مطابق پرانی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے زیادہ تر گھر پر ہی رہتے تھے، عصر کی نماز گھر پرہی ادا فرمائی عصر کی نماز پڑھ کر آپ کی بہنیں گھر پر آئیں تھیں جن سے ملاقات کی۔ اسکے بعد استنجاء کےلیے گئے کمزوری کی وجہ سے استنجاء خانہ سے پکڑ کر لایا گیا تو غشی جیسی کیفیت ہو نے لگی ،ڈاکٹر عامر صاحب نے جانچ کی تو معلوم ہوا کہ پریشر کم ہوگیا ہے ، پھر کچھ افاقہ ہوا تو مغرب کی نماز کا وقت ہو چکاتھا ،حاجی صاحب ؒ باربار دریافت کررہے تھے کہ مغرب کب پڑھیں گے، گھر پر آہستہ آہستہ تمام بیٹے اور گھر والے جمع ہو رہے تھے غشی کی وجہ سے سب کو خطرہ محسوس ہوگیاتھا۔ آپ کوتسلی دی گئی کہ ابھی طبیعت سنبھلنے پر نمازپڑھی جائے گی ، مشورہ ہواکہ العزیزہاسپٹل لے جانا چاہئےچنانچہ آپ کو رکشا پر بٹھاکر لے جانے کے لیے نکلے ہاسپٹل پہنچنے پر معلوم ہواکہ آپ کی روح پروازکرچکی ہے ۔ اس موقع پر خاص بات یہ رہی کہ آپ کے گھر والوں کے مطابق صرف اسی وقت کی مغرب کی نماز آپ کی فوت ہوئی وہ بھی عذر کی وجہ سے ورنہ اس سے پہلے کوئی نماز اغلب گمان کے مطابق نہیں چھوٹی ہوگی ۔ دوسری بات یہ ہوئی کہ آپ کے سفر آخرت پرجانے سے پہلے تقریباً تمام ہی قریبی رشتہ دار موجود رہے ۔
دینی ودعوتی سرگرمیاں:میرے والد محترم (اقبال احمد عبدالقدوس) سے ملی ہوئی تفصیلات کے مطابق آپ نےمیٹرک (دسویں)کا امتحان دیا اوراپنی اسکول کے دوستوں کے ساتھ دہلی آگرہ تفریح کے لیے تشریف لے گئے ،خاندانی دینی داری موجود تھی، چنانچہ نظام الدین بنگلے والی مسجد بھی جاناہوا، وہاں حضرت جی مولانا محمد یوسفؒ کے فکر انگیز بیان کوسن کر دل کے اندر ایک عجیب کیفیت پیدا ہوئی اور اسی وقت عزم بالجزم کرلیاکہ اب اپنی پوری زندگی دعوت و تبلیغ میں صَرف ہوگی ۔اس وقت دعوت کاکام اتنا عام نہیں تھا لیکن خوبی تقدیر دیکھئے ، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا، آپ اس کام کے اولین علمبرداوں میں شامل ہوں تو اللہ نے نظام غیبی سے آپ کو بنگلے والی مسجد پہنچایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ آپ ابتداء جوانی میںکام سے وابستہ ہوئے تقریباً ۶۵ سال اس مبارک کام سے جڑے رہے ۔۶۵ سالوں میں آپ نے ملک وبیرون میں وقت توبہت لگایالیکن آپ نے اپنے وقت کے اکابر کے ساتھ وقت لگایا۔ حاجی طہٰ صاحب نے اپناپہلاچارہ ماہ (تین چلہ ) لسان التبلیغ حضرت مولانا احمد لاڈ صاحب مدظلہ العالی کے ساتھ لگایا، ا س طرح حضرت مولانا محمدیونس صاحب ؒ پونہ والوں کے ساتھ دوماہ ساؤتھ افریقہ میں کام کیا اور اس دوران پورے ملک کادورہ کیا، وہاں کے لوگوں کو کام سمجھایااوربہت سارے لوگوں کو کام پر کھڑاکیا۔ آپ کی زندگی کا اصل کارنامہ ایک بہت بڑاکار خیر جوا ن شاءاللہ آپکے ذریعے نجات ووسیلہ رضائے الٰہی بنے گا وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنےوقت کے درد مند اور جرأت مند داعی الی اللہ ، یوسف بھائی پالنپوریؒ کے ساتھ ممالک افریقہ میں ۶ ماہ رہ کرکام کیا، حضرت جیؒ کے تقاضے پر آپ کایہ سفر ہواتھا، دراصل ان ممالک میں کوئی خاص واقعہ پیش آیاتھاجس سے کام کانہج متاثر ہوا، حضرت جیؒ نے تشکیل کی اورآپ بھی اس جماعت میں شامل ہوئے ،یہ سفر بڑا ہی مجاہدانہ تھا، جہاں جہاں کام کی شکلیں موجود تھیں وہاں کام کو نہج پر برقرار رکھنے کیلئے محنتیں کیں ، ان غریب اورپسماندہ علاقوں میں جہاں مسجدیں بھی موجود نہ تھیں ، ان حضرات نے ایسے علاقوں میں گھاس پھونس کی مسجدیں بنائیں اور ساتھ ہی ساتھ درخت بھی لگائے ۔ آج ان ممالک میں آپکے لگائے مادی اور روحانی دونوں ہی قسم کے درخت سرسبز وشاداب ہیں ،اور اپنی زبان حال سے باعث نجات و سبب رفع درجات بنے ہوئے ہیں۔ فی الحال آپ اپنی قدامت اورکام میں اپنی محنت ومجاہدات کے باعث ایک نمایاں مقام رکھتے تھے، چنانچہ صوبہ مہاراشٹر کی قدیم مجلس شوریٰ کے بنائےگئے تاحیات رکن رہے ،جو آپکی اولو العزمی کی دلیل ہے کہ آپ آخری تین ارکان شوریٰ میں سے ایک تھے آپ کے انتقال کے وقت اس شوریٰ کے دیگر دو حافظ منظور صاحب اورحاجی بابا جانی کے علاوہ حاجی صاحبؒ تیسرے تھے ،پہلے پورے ملک میں چنندہ مقامات پر ہی اجتماعات منعقد ہوتے تھے ، اس میں آج کی بہ نسبت تعداد تنی زیادہ نہیں ہوتی تھی ،ا س سلسلے میں پورے مہاراشٹر سے ۱۵ ؍لوگوںنے صوبےکے مشورےکے نام سے اجتماعات شروع کیے، ان پندرہ میں سے مالیگاؤں کے د وحضرات سر فہرست تھے، جس میں ایک حاجی عبدالمجید صاحب رح (قاری مختار ملی صاحب کے تایاابا)اور یہی حاجی محمدطہٰ صاحب، آج حال یہ ہے کہ ان اجتماعات میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔
حاجی صاحب کی خاص خوبیاں اور محاسن
(۱) پنجوقتہ نمازوں کا بڑا ہی اہتما م فرماتے تھے ، اوپر لکھا جاچکاہے کہ گھر والوں نے مشاہدہ کیاتھا آپ نمازوں کی حد درجہ پابندی کرتے تھے ،اسکی برکت یہ ہے کہ آپ کی صرف ایک نماز چھوٹی ہے ۔مولوی عبدالمنان صاحب نے بتایاکہ سفرحج میں مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے نماز کا وقت ہوگیا، پہلے تو گاڑی رکوانے کی کوشش کی جب ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی تو گاڑی پر سے کود گئے یہ دیکھ کر پھر اس نے گاڑی کو روک دیا۔ اس طرح جب شہر میں شادیوں کی دعوت کا رواج دوپہر بارہ بجےتھا اس وقت آپ کے بیٹوں میں سے کسی بیٹے کی شادی تھی، کھانا جاری ہوچکا تھا، لوگ کھانا کھارہے تھے لیکن جب نماز کا وقت ہوا تو آپ نے کھانا روک دیاکہ پہلے نماز پڑھیں ا س کے بعد کھاناہوگا ، راقم الحروف ایک مرتبہ ڈابھیل کے سفر میں ساتھ تھا، فجر کی نماز کاوقت نکلا جارہاتھا ایک ہوٹل پر نماز کے لیے ٹھہر گئے ،جلدی جلدی وضو سے فارغ ہوکر طالب علمانہ عادت کے مطابق اندازہ لگانے لگے کہ سورج طلوع تو نہیں ہوگیا، حاجی طہٰ صاحب ؒ قدرے تلخ لہجے میں فرمانے لگے کہ فوراً نماز پڑھو ایسے وقت فوراً فریضہ کی ادائیگی کرنی چاہئے، وجہ اسکی یہ تھی کہ سورج طلوع ہوگا تو نظر آہی جائے گا ۔وقت تنگ ہونے کے وقت بحث کی ضرورت نہیں۔ ایک بات یاد آگئی کہ ایک مرتبہ بندہ فرض نماز پڑھ کر اپنی جگہ سے تھوڑا ہٹ کر سنت کی ادائیگی کیلئے جانے لگا تو آپ نے روک لیا اور کہااپنی جگہ پر سنتیں پڑھو اسلئے کہ فرض کے بعد ہٹ کر دوسری جگہ سنتیں پڑھنے سے وہ نورانیت اور روحانیت باقی نہیںٰ رہتی اس وقت تو بات سمجھ میںنہیں آئی لیکن جب حدیث پڑھی جس میں ہے کہ مصلے فرض نماز کی ادائیگی کے بعد جب تک اپنی جگہ سے نہ ہٹے اور خلاف صلوٰۃ کوئی کام نا کرے تو فرشتوں کے اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں، تو پھر حاجی صاحب کی بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ۔
داعی گر
آپ نے دعوت کے کام میں لگنے کے بعد اس کی پوری فکر اوڑھ لی اور ایک دھن سوار رہتی کہ کیسے کام کوعروج و ترقی حاصل ہو اورزیادہ سے زیادہ لوگ کام سے جڑیں، اس لیے ایک خاص صفت یہ تھی آپ لوگوں کو بڑھاتے تھے اور آج کے ماحول کے برخلاف کہ اگر چھوٹا اور نیا کام کرنے والاآگے بڑھے تو اسکے پر کترنے کی فکر شرو ع ہو جاتی ہے ، میرے والد صاحب نے فرمایا کہ حاجی طہٰ صاحبؒ اگرکسی کے اندر صلاحیت دیکھ لیتے تو پھر اس پر پوری توجہ صرف کرتے اور اس پر محنت کرتے اور صرف ایک چلہ بھی لگایاہوتو اس کو جماعتیں لے لے کر بھیجتے ، حوصلہ افزائی کرتے ، ذہن سازی کرتے، ایک خاص بات جو موجودہ کام کے ساتھیوں کو عجیب لگے گی وہ یہ ہےکہ ہمارے شہر کے ان دونوں حضرات مرحومین حاجی عبدالمجید صاحب ؒ اور حاجی طہٰ صاحب رح نے ہی حضرت مولانامحمدیونسؒ پونہ والے کو پورے مہاراشٹر میں متعارف کروایا اور ان کو بڑھایا یہاں تک کہ کام کی مکمل ذمہ داری مولانا یونس صاحبؒ کے کاندھوں پر آگئی اسلئے مولانا یونس صاحب ؒ ، حاجی طہ ٰ ؒ کی بڑی قدر فرماتے تھے ۔ آ پ نے ہزاروں افراد کی نہ صرف رہنمائی کی بلکہ مکمل تربیت فرمائی ہے ۔ آج آپ کے تربیت یافتہ علاقوں کو سنبھال رہے ہیں۔ مثال کے طورپر ڈاکٹر سعید صاحب (راندیر، سورت) ، شیخ احمد صاحب(پونہ ) اسی طرح ضلع ناسک اور دھولیہ کے کام کرنے والے اکثر افراد آپ ہی کے تربیت یافتہ ہیں ، آپ کی افراد سازی کی بنیادپرہی شہر مالیگاؤں میں کام کو عروج اور ترقی نصیب ہوئی ۔
قربانی اور عمومیت والامزاج
آپ کے نمایاں اوصاف میں ایک خاص وصف یہ تھاکہ آپ نے ہمیشہ جان ومال سے وقت لگایا۔ اصولوں پر کار بند رہتے ہوئے، بڑوںکی ترتیب کو کبھی نہیں چھوڑا، اجتماعی و ا نفرادی اعمال کی بے حدپابندی کرتے تھے ، اسی وجہ سے ہمیشہ عمومیت میں رہتے ، اپنے لیے خصوصیت طلب نہیں کرتے تھے ،ساتھیوں اور کام کرنےوالوں کے ساتھ لگے رہتے ، تقاضوں پرلبیک کہنے کی وجہ سے ملک کے ہر چھوٹے بڑے کی نگاہ میں محبوب ومحترم رہے ، نظام الدین بنگلےوالی مسجد میں حضرت جی ؒ جن لوگوں کو نام بنام جانتے تھے ان میں سے ایک صاحب طہٰ ؒ بھی تھے ،اور ہمیشہ حضرت جی ؒ آنے جانے والوں سے نام لے کر پوچھتے تھے ، ہمارے علاقے والوں کو حضرت جیؒ سے کوئی کام یابات منظورکروانی ہوتو حاجی طہٰ صاحب کانام ذہنوں میں آتاتھا، معمولات کی پابندی بے مثال تھی ، احقر راقم نے سب سے پہلے حاجی طہٰ صاحب کو ہی ذکر بالجہر کرتے ہوئے مرکز نورانی مسجد میں دیکھا، اسی طرح اخیر عشرے کا اعتکاف پابندی سے کرتے غرضیکہ تمام اجتماعی و ا نفرادی اعمال پر مداومت تھی ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ میںنے مسواک کااستعمال کبھی نہیں چھوڑا ، دیگر منجن وغیرہ کا استعمال بہت کم کیا ہے ۔ اس سے استقامت علی اتباع السنۃ معلوم ہوتی ہے ، اسی طرح بال و لباس کی وضع قطع میں بھی اتباع سنت کا اہتمام رہتاتھا، آپ نے اس ۶۵ سالہ دورمیں بڑی سے بڑی قربانیاں بھی دی ہیں اور بڑی صعوبتیں بھی جھیلی ہیں پرائے تو پرائے اپنوں کے طعنوں کا نشانہ بھی بنے ، عوام کی طرف سے آنے والی تکالیف بھی جھیلی ہیں، لیکن جب استقبال کا دور آیاتو اصولوں سے ذرا بھی انحراف نہیں کیا، قربانیوں والامزاج برابر رہا، اور عمومیت ہی کو پسند کرتے رہے ، پورے ملک میں پرانے کام کرنے والے ساتھیوں میں سے شاید ہی کوئی ایسا رہا ہو جو کہ آپ کو نہ جانتاہو ۔ ڈابھیل پڑھنے کے زمانے میں اور نظام الدین میں بھی جب مالیگاؤں کی نسبت سےکسی ساتھی سے تعارف ہوتا تو وہ ضرور حاجی طہٰ صاحب ؒ کوپوچھتے ۔
آخری بات :حاجی طہٰ صاحب کے بندے پر دیگر احسانات کے ساتھ ایک بڑا احسان یہ تھاکہ بچپن سے لے کر کچھ سالوں پہلے تک مجھ پر کڑی نگاہ رکھتے تھے ، کہیں پر بھی دیکھ لیا اور نظر پڑ گئی تو ضرور پوچھتے تھے کہ کہاں جارہےہو ؟ کس کام سے نکلے ہو ؟ اگر میرا جواب معقول نہ ہوتا تو کہتے فوراً گھر جاؤ ، اگرکوئی غلط بات دیکھتے تو اسی جگہ پر ٹوکتے ، نورانی مسجد جمعہ کے دن کے آنے کی فہماش کرتے ۔ جب مرکز پر مقیم قاری بشیر صاحب ؒ کا انتقال ہوا تو میں نے پوچھاکہ اب ان کی جگہ کون رہے گا؟ ، ان کے کاموں کو کون سنبھالے گا تو آپ نے فرمایاکہ اس کام میں کوئی کسی کو عہدہ نہیں دیتا کام کرنے والے اپنے کام کی نسبت سے اس جگہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ جو جیسی قربانی دیتاہے اللہ اس کو اس مقام تک پہنچا دیتاہے آج کے اس دورمیں جبکہ مال و جاہ منصب و عہدہ کی ہوس بڑھتی جارہی ہے حاجی طہٰ صاحبؒ کا یہ اصولی جملہ ہم سب کیلئے مشعل راہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ حاجی صاحبؒ کی بال بال مغفرت فرماکر درجات بلند فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے، سیئیات کو در گذر فرماکر حسنات کو قبول فرمائے۔