تبلیغی جماعت سے وابستہ انڈونیشیائی اراکین کی پولیس کسٹڈی ختم،عدالتی تحویل بھیجے گئے

ممبئی۔ 28 اپریل مرکز نظام الدین کے معاملے کو لے کر کر انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ  12  احباب جن میں 6 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں، جو کہ7 مارچ سے نوی ممبئی کے مختلف علاقے میں قیام پذیرتھے، ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان اور پھر نظا م الدین مرکز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں گرفتار کرکے پولیس حراست میں رکھا گیا تھا آج اسے ختم کرکے انڈونیشائی اراکین کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے خواتین کو بائیکلہ جیل اور مرد حضرات کو تلوجہ جیل میں رکھا گیا ہے جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے ان ملز مین کی رہائی کے لئے  باندرہ عدالت میں در خواست ضمانت داخل کر دیا ہے جس کی سماعت 4 مئی کو عمل میں آئے گی اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمے کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم ]جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔

واضح رہے کہ 29 فروری 2020  کو تبلیغی جماعت کے طریقہ کار کو دیکھنے کے لئے انڈونیشا کا ایک وفد انڈیا کے مرکز نظام الدین دہلی آیاچند دن قیام کے بعد6مارچ کو انڈو نیشا کا وہ وفد بذریعہ ٹرین ممبئی پہونچا اور نوی ممبئی کے مختلف علاقوں میں قیام پذیر رہا،ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کے اعلان اور پھر مرکز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں حراست میں لے کرکے باندرہ میں کورنٹائن کر دیا گیاتھا،ا ن کا ٹسٹ کرایا گیا جن میں سے10 لوگوں کی رپورٹ نگیٹیو آئی،کورنٹائن کی مدت مکمل ہوتے ہی پولیں نے انہیں گرفتار کرکے ان پر پاسپورٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے غیر قانونی طریقہ سے انڈیا میں داخل ہونے،کرونا وائرس پھیلانے جیسے مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے اقدام قتل دفعہ 307   اور دفعہ 304 انڈین پینل کورٹ  دفعہ 14 اور سیکشن کوڈ 19  سینٹرل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیاہے۔

اس نا انصافی کے خلاف جمعیۃ علما مہا راشٹر ان اراکین کی رہائی کے لئے باندرہ میٹرو پولٹین مجسٹریٹ کورٹ سے رجوع ہوئی ہے جس کی کاروائی شروع ہوچکی ہے گذشتہ 23 اپریل کو باندرہ عدالت میں انڈونیشیا کے ان تمام ساتھیوں کو پیش کیا گیا تھا جس پرعدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 28 اپریل تک پولیس کسٹڈی میں اضافہ کردیا تھا۔آج عدالت نے ان تمام ملز مین کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے ان کی رہائی کے لئے باندرہ کورٹ میں درخواست ضمانت داخل کردی ہے جس کی سماعت 4مئی کو عمل میں آئے گی۔جمعیۃ علما مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے کہا کہ جماعت کے ا ن ساتھیوں کی رپورٹ نگیٹو آنے کے بعد ان پر کیس درج کرنا اور سنگین دفعات لگانا سراسر ظلم اور نا انصافی ہے اور اس نا انصافی کے خلاف ہماری لیگل ٹیم ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کی نگرانی میں جمعیۃ علما مہا راشٹر عدالت سے رجوع ہو چکی ہے، جماعت کے ساتھیوں کو انصاف ضرورملے گا۔ضرورت پڑنے پر جمعیۃ علما ء مہا راشٹرممبئی ہائی کورٹ سے بھی رجوع ہوگی،آج عدالت میں جمعیۃ لیگل ٹیم کے وکلا اور ممبئی جماعت کے گوونڈی،و باندرہ کے ذمہ داران مولانا اسعد،پرویز بھائی و دیگرعدالت میں مو جود تھے

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading