آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ سائنس دانوں نے انسداد کورونا ویکسین کا انسانوں پر تجربہ شروع کر رکھا ہے۔ لیکن اس کے حتمی نتائج آنے سے پہلے ہی بھارتی کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ویکسین کی پروڈکشن شروع کر رہی ہے۔
بھارتی کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ مختلف امراض کے انسداد کی ویکسین تیار کرنے میں شہرت رکھتی ہے۔ اب اس کمپنی نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی تیار کردہ ویکسین کی پیداوار اگلے چند روز میں شروع کر دینے کا اعلان کیا ہے۔
Heat can cut short #coronavirus‘s life says White House citing a study. Gilead’s anti-viral drug ‘fails in first trial’ & plasma therapy offers hope in Delhi. @adarpoonawalla talks to @ShereenBhan on partnering with @UniofOxford for a #vaccine https://t.co/Bt5LyMSKfS
— CNBC-TV18 (@CNBCTV18News) April 24, 2020
سیرم کے مطابق اگر آکسفورڈ یونیورسٹی کا تجربہ کامیاب رہا تو وہ رواں سال اکتوبر یا نومبر کے مہینے تک لاکھوں کی تعداد میں یہ ویکسین مارکیٹ میں لے آئیں گے۔
سیرم انسٹی ٹیوٹ کمپنی کے مالک آدر پونے والا کے مطابق ان کی کمپنی کووڈ انیس کے لیے جاری کئی دیگر منصوبوں کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔ تاہم پونے والا کا کہنا تھا کہ سیرم نے جلد از جلد آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے تیار کردہ ویکسین کی پروڈکشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پونے والا کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیداوار شروع کرنے سے پہلے برطانیہ کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی ویکسین کے محفوظ ہونے کے بارے میں ٹرائل جلد شروع ہو جائے گا۔ عام طور پر انسانوں پر تجربہ کامیاب ہونے کے کئی مہینوں بعد ہی ویکسین کی پیداوار شروع کی جاتی ہے۔