بے وقت بارش نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے، پنچنامہ کی رسم کیوں؟ ف وری 50 ہزار روپے فی ہیکٹر امداد دی جائے –  کانگریس رہنما بالا صاحب تھورات

بے وقت بارش نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے، پنچنامہ کی رسم کیوں؟ فوری 50 ہزار روپے فی ہیکٹر امداد دی جائے – کانگریس رہنما بالا صاحب تھورات

ممبئی (آفتاب شیخ)

ریاست مہاراشٹر میں گزشتہ تین ہفتوں سے جاری بے وقت بارش نے کسانوں کو زبردست بحران میں دھکیل دیا ہے۔ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، جانوروں کے چارے کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور کسان مالی طور پر پوری طرح سے کمزور ہو چکے ہیں۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سینئر لیڈر بالا صاحب تھورات نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنچنامہ جیسی رسمی کارروائی کو بالائے طاق رکھ کر فوری طور پر 50 ہزار روپے فی ہیکٹر کی مالی امداد دے۔

گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تھورات نے کہا کہ مئی کے مہینے میں جب کچھ فصلیں کٹنے کے قریب تھیں، اس وقت ہونے والی موسلادھار بارش نے کیلا، آم، کیسری، انار، پیاز، ٹماٹر جیسی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی کسانوں کے مکانات گر گئے ہیں، کچھ علاقوں میں مویشی ہلاک ہو گئے ہیں، سڑکیں اور جانوروں کے شیڈ بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو کسانوں کا سہارا بننا چاہیے، مگر افسوس کہ حکومت کے رویے میں کوئی ہمدردی نظر نہیں آرہی ہے۔

تھورات نے کہا کہ جب خریف کی تیاری جاری ہے، اس وقت کسانوں کے پاس نہ تو کھاد، بیج خریدنے کے پیسے ہیں اور نہ ہی زمین تیار کرنے کے وسائل۔ حکومت کی بے حسی اور انتظامیہ کی غیرفعالیت کی وجہ سے کسان سخت مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی آر ایف یا این ڈی آر ایف کے پرانے پیمانوں کے تحت مدد کی باتیں کسانوں کو کوئی راحت نہیں دیتی، بلکہ انہیں عملی طور پر فوری اور خاطر خواہ امداد ملنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے 3 ہیکٹر سے 2 ہیکٹر تک امدادی دائرہ کم کر دیا ہے، جو کہ کسانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ فصل بیمہ کی اسکیموں سے بھی کسانوں کو مناسب فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ پنچنامہ کا حکم تو دیا گیا ہے، مگر زمینی سطح پر کوئی ٹھوس کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ضلع کے نگراں وزیروں کو دورہ کرنا چاہیے، لیکن وہ بھی منظر پر نہیں ہیں۔

تھورات نے کہا کہ آج کھیتی کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے۔ ایک ایکڑ پیاز کی لاگت 60 ہزار روپے اور ٹماٹر کی لاگت 50 ہزار روپے سے زیادہ ہے۔ ایسے میں کسانوں کو فوری مدد نہ دینا حکومت کی ناکامی ہے۔ بی جے پی اتحاد کی حکومت نے انتخابی مہم کے دوران قرض معافی کا اعلان کیا تھا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد وہ اسے بھول چکے ہیں۔ جب کہ کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی کی حکومتوں نے ماضی میں کسانوں کی مدد کی اور قرض معافی کی اسکیمیں نافذ کیں۔ موجودہ حکومت صرف کھوکھلے اعلانات کر رہی ہے، جس سے کسانوں میں شدید ناراضگی ہے۔

وزیر زراعت مانک راؤ کوکاتے کے متنازع بیان پر تنقید کرتے ہوئے بالا صاحب تھورات نے کہا کہ جب کسان بحران میں ہوں تو انہیں سہارا دینا چاہیے، نہ کہ ماں باپ جیسے بیانات دے کر دل دکھانا چاہیے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر زرعی وزارت ایک اجاڑ گاؤں کی پاٹلکی ہے تو پھر باغبانی محکمہ کیا ہے؟ زرعی وزیر کے عہدے کی عظمت کو سمجھنا چاہیے۔

ودھان پریشد کے رکن ستیہ جیت تامبے کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بالا صاحب تھورات نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے انہیں بہت کچھ دیا ہے، انہیں شکر گزار ہونا چاہیے۔ ان کا بیان غیر سنجیدہ اور بچکانہ تھا، ابھی انہیں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اور خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر برائے تنظیم و انتظامیہ گنیش پاٹل، ممبئی کانگریس کے کارگزار صدر و قومی ترجمان چرنجیت سنگھ سپرا، ریاستی جنرل سیکریٹری رمیش شیٹی، سیکریٹری شری رنگ برگے اور دیگر رہنما موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading