MPCC Urdu News 02 June 25

بارش سے تباہ حال کسانوں کو فی ہیکٹر پچاس ہزار روپے کی فوری امداد دی جائے: بالاصاحب تھورات

بی جے پی حکومت کسان قرض معافی کو بھول گئی، صرف کھوکھلے اعلانات کافی نہیں، قرض معافی کا اعلان کریں

ایم ایل سی ستیہ جیت تامبے کا بیان بچکانہ ہے، کانگریس نے انہیں بہت کچھ دیا ہے، انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، وہ خود احتسابی کریں

ممبئی: مہاراشٹرا میں مانسون سے قبل ہونے والی شدید بارشوں نے کسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مسلسل تین ہفتے سے جاری بارش نے فصلوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ جانوروں کے چارے کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور کئی مقامات پر گھروں و سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سینئر لیڈر بالاصاحب تھورات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پنچنامہ جیسے رسمی طریقوں کو ترک کر کے فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کی فوری مالی امداد کسانوں کو فراہم کی جائے۔

گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تھورات نے کہا کہ مئی کے مہینے میں جب بعض فصلیں کٹائی کے مرحلے پر ہوتی ہیں، اسی وقت بارش نے تباہی مچا دی۔ کیلے، کیسر آم، سبزیاں، ٹماٹر، پیاز، انار جیسی فصلوں کو شدید نقصان ہوا ہے۔ جانور ہلاک ہوئے ہیں، کئی مکانات گر گئے ہیں، اور کسان پوری طرح پریشان ہیں۔ دوسری جانب خریف کی تیاریوں کا وقت بھی ہے، مگر کسانوں کے پاس اب سرمایہ نہیں بچا۔ ایسے حالات میں حکومت کی طرف سے سنجیدہ مدد کی امید تھی لیکن سرکار خاموش نظر آ رہی ہے۔

تھورات نے کہا کہ کسانوں کو این ڈی آر ایف یا ایس ڈی آر ایف کے اصولوں سے کوئی غرض نہیں، انہیں فوری اور مؤثر امداد چاہیے۔ حکومت نے 3 ہیکٹر کی حد کم کر کے 2 ہیکٹر کر دی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ فصل بیمہ کی شرائط بھی اس قدر سخت ہیں کہ اس سے بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا۔ حکومت نے اگرچہ پنچنامے کے احکامات دیے ہیں، مگر انتظامیہ کی جانب سے زمین پر کام ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ سرپرست وزراء کو اضلاع کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لینا چاہیے، لیکن وہ بھی منظر سے غائب ہیں۔

تھورات نے حکومت کو یاد دلایا کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی اتحاد نے کسان قرض معافی کا وعدہ کیا تھا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد وہ وعدہ فراموش کر دیا گیا۔ کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت نے مسلسل کسانوں کو امداد دی اور قرض معاف کیے، لیکن موجودہ حکومت صرف زبانی وعدوں تک محدود ہے۔ تھورات نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر قرض معافی کا اعلان کرے تاکہ کسانوں کو کچھ راحت ملے۔

وزیر برائے زراعت مانیک راؤ کوکاٹے کے متنازعہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے تھورات نے کہا کہ جب کسان مصیبت میں ہو تو وزیر کو حساس اور ہمدرد لہجے میں بات کرنی چاہیے۔ ودھان پریشد کے رکن اسمبلی ستیہ جیت تامبے کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے تھورات نے کہا کہ کانگریس نے انہیں بہت کچھ دیا ہے، اور جس جماعت نے ان کے لیے اتنا کچھ کیا، اس کا قرض چکانا چاہیے۔ ان کا بیان بچکانہ تھا، انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اور اس پر انہیں خود احتسابی کرنی چاہیے۔

اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر برائے تنظیم و انتظام گنیش پاٹل، ممبئی کانگریس کے کارگزار صدر اور قومی ترجمان چرنجیت سنگھ سپرا، پردیش کانگریس کے جنرل سیکریٹری رمیش شیٹی اور شری رنگ برگے بھی موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading