شردپوار ‘ فاروق عبداللہ سے ملاقات ۔ ملک کی موجودہ صورتحال پر اظہار عدم اطمینان
نئی دہلی ۔ یکم نومبر۔ لوک سبھا انتخابات 2019ءمیں بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنانے کی اپنی کوششوں میں تیزی پیدا کرتے ہوئے چیف منسٹر آندھراپردیش اور صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو نے آج این سی پی سربراہ شرد پوار اور نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ سے ملاقات کی ۔ ان تمام تین سینئر قائدین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتحال پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ حالات غیراطمینان بخش ہے ۔ ان قائدین نے زور دے کر کہا کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں تمام پارٹیوں کو مل جل کر بی جے پی کے خلاف مقابلہ کرنا چاہیئے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ اس عظیم ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے ‘ ہمیں اس کے مستقبل کا تحفظ کرنا چاہیئے ۔ ایک ایسا ملک جو ہمارے تمام مفادات کا خیال رکھتا ہے ہمیں بھی اس کے مستقبل کے تحفظ کےلئے آگے آنا ہوگا ۔ ہم خیال پارٹیوں کے قائدین نے مجھے ہدایت دی ہے کہ میں ان تمام مخالف بی جے پی پارٹیوں کے قائدین سے بات چیت کروں اور آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دوں ۔ اسی لئے میں آپ کے سامنے موجود ہوں اور قومی قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ فاروق عبداللہ نے چندرا بابو نائیڈو اور شرد پوار سے ملاقات کے بعد کہا کہ ملک کی جمہوریت اور اس کے جمہوری ادارے جیسے سی بی آئی اور آر بی آئی کی صورتحال ابتر بنا دی گئی ہے ۔ یہ ملک شدید بحران سے دوچار ہے ‘ آج ہماری جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے اور ملک کی عوام بھی ایک خطرناک موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں ۔ پریس کانفرنس کے فوری بعد آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے ٹوئیٹر پر چندرا بابو نائیڈو پر تنقید کی اور کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے 2002ءمیں بی جے پی کا اُس وقت ساتھ دیا تھا جب گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے تھے اور مسلمانوں کو ہجومی تشدد کا شکار بناتے وقت جیسے اخلاق ‘ پہلوخاں کو زدوکوب کر کے ہلاک کیا گیا ‘ اس وقت نائیڈو کی پارٹی مودی کی کابینہ میں شامل تھی ۔ تلگودیشم نے روہت ویملا ‘ جنید علیم الدین کے قتل پر بھی خاموشی اختیار کی تھی ۔ قبل ازیں دن میں چندرا بابو نائیڈو نے اتفاقی طور پر اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد سے بھی ملاقات کی ۔ انہوں نے اس موقع پر مختصر تبادلہ خیال کیا اور غیر بی جے پی سیاسی پارٹیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ تلگودیشم ذرائع نے کہا کہ صدر تلگودیشم توقع ہے کہ دہلی میں صدر کانگریس راہول گاندھی سے ملاقات کریں گے اور اتحاد کے معاملہ پر بات چیت کریں گے ۔چندرا بابو نائیڈو کا ایک ہفتہ کے اندر دوسری مرتبہ دورہ نئی دہلی ہے ۔ گذشتہ ہفتہ بھی انہوں نے کہا تھا کہ سیاسی اتحاد کے ذریعہ ہی بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے ‘اسی لئے غیر بی جے پی پارٹیوں کا ایک مضبوط محاذ بنانا چاہیئے ۔ مل جل کر بی جے پی کے خلاف تیسرا محاذ تشکیل دیا جاسکتا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے اسی سال مرکزی حکومت سے علحدگی اختیار کرلی تھی۔