امراوتی کے پرتواڈا سے سنسنی خیز کیس ،محبت کے جال میں پھنساکر بلیک میل کر کمسن لڑکیوں کا استحصال  کر ویڈیوز بنانے والا محمد ایان گرفتار

ناندیڑ -15/اپریل (اکرم چوہان):- امراوتی ضلع کے پرتواڑہ (اچلپور تعلقہ) میں جنسی زیادتی اور بلیک میلنگ کے معاملے نے مہاراشٹر میں بڑی ہلچل مچا دی ہے۔ مرکزی ملزم محمد ایان محمد تنویر (عمر 19) ساکن پرتواڈا پر متعدد نوجوان و کمسن لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان کا جنسی استحصال کرنے، ان کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے اور انہیں بلیک میل کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے میں ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی تھی کہ 180 نوجوان خواتین کا جنسی استحصال کیا گیا۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان نوجوان خواتین کی 350 سے زیادہ قابل اعتراض ویڈیوز موجود ہیں۔ اب اس معاملے میں ایک بڑا اپ ڈیٹ سامنے آیا ہے۔

کیس میں پہلا بڑا موڑ ملزم کی سیاسی وابستگی ہے۔ انکشاف ہوا کہ ایاز اے آئی ایم آئی ایم پارٹی کا عہدیدار ہے۔ انہیں اچل پور میونسپل کونسل کے انتخابات کے دوران پارٹی کا سوشل میڈیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم اے آئی ایم آئی ایم کے ضلع صدر محمد عادل شیخ نے واضح کیا کہ ’’اس نے پورے انتخابی دور میں پارٹی کے لیے کوئی کام نہیں کیا، اس لیے انھیں پارٹی سے نکال دیا گیا، اس لیے فی الحال اے آئی ایم آئی ایم پارٹی اور اس ملزم کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

دوسرا اور اس سے بھی بڑا موڑ اقلیتی کمیشن سے آیا ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان نے ناگپور میں ایک پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اچل پور امراوتی سے خواتین کے استحصال کی شکایت ملی تھی۔ اس لیے اس جگہ کے ایس پی سے بات کی اور دریافت کیا۔ یہ بات سامنے آئی کہ آٹھ مسلم خواتین کا استحصال کیا گیا ہے.

ان میں سے 6 خواتین کی تصاویر اور 2 خواتین کی ویڈیوز دستیاب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ باقی ویڈیوز اور تصاویر کو ملزمان نے ڈیلیٹ کر دیا تھا اور انہیں بازیاب کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ اقلیتی کمیشن کی ٹیم کل وہاں جارہی ہے۔ اس تعداد میں مزید اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تمام تحقیقات جاری ہیں۔

پیارے خان نے کہا، "میں نے انہیں سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی کے ذریعے کرائی جائے۔ کل اقلیتی کمیشن کی ٹیم وہاں جارہی ہے۔اس تعداد میں مزید اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تمام تحقیقات جاری ہیں۔

وہیں اس حادثے میں پولس نے محمد ایاز کے ساتھ کل چار ملزموں کو حراست میں لیا گیا ۔عزیر خان اقبال خان،تبریز خان تسلیم خان،محمد سعد محمد صادق پولس نے ان تینوں کو بھی حراست میں لیکر پوچھ تاچھ جاری ہے۔وہی اچلپور نگرپریشد کی جانب سے ملزم کے گھر بلڈوزر ایکشن کے تحت گھر کا کچھ حصہ منہدم کیا گیا ہے اور نوٹس جاری کر 30 دن میں جواب مانگا ہے۔

اس واقعے کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ متاثرین میں سے اکثر نابالغ ہیں۔ چونکہ کچھ ویڈیوز میں لڑکیوں کی بے بسی واضح طور پر نظر آرہی ہے، اس لیے قیاس کیا جارہا ہے کہ ان کا بلیک میلنگ کے ذریعے استحصال کیا گیا ہوگا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیوز فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ہیں جس سے متاثرین کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading