ناندیڑ: یکم نومبر ( ورقِ تازہ نیوز) جمعیة علماءناندیڑ کے صدر سید آصف ملی ندوی نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ خسرہ یعنی گوبری اور روبیلا تیزی سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں، جن سے مسلسل جلاب، اندھاپن، نمونیہ اور دماغی بخار جیسے پیچیدہ بیماریوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ دنیا میں ہر سال ایک لاکھ بتیس ہزار سے زیادہ لوگ اس بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں جن میں زیادہ تر بچے ہوتے ہیں۔ روبیلا اور خسرہ جراثیم سے پھیلتا ہے جس سے بچے اور بڑے دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور سے اگر یہ انفیکشن کسی حاملہ عورت کو ہوجائے تو بچہ گرنے یا مردہ پیدا ہونے یا ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور، اندھا اور بہرا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ بھارت میں ایک لاکھ بچوں میں سے دیڑھ سو بچے اس بیماری کے شکار ہوتے ہیں۔ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا علاج کرنے پر اُبھارا ہے اور تمام مفید اور پاکیزہ چیزوں کو حلال اور تمام نقصان دہ اور گندی چیزوں کو حرام بتایا ہے۔ لہٰذا علاج کرنا آنحضرت محمد ﷺ کی سنت اور طریقہ ہے۔ بھارت سرکار نے سنہ 2020 تک مذکورہ دونوں بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیا ہے۔ جس کے لئے ہماری صوبائی اور مرکزی حکومت کے اشتراک سے ان دونوں بیماریوں سے بچاﺅ کے لئے ٹیکے لگوانے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ نومبر اور دسمبر میں تمام ہی سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں اور دواخانوں میں اس ٹیکہ کا نظم کیا جائے گا۔ ہم خدام جمعیت علماءنے شری نقطہ¿ نظر سے اس سلسلہ میں اکابر علماءسے رجوع کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ طبی ضرورت کی بنیاد پر یہ ٹیکہ لگوانے میں شرعی طور پر کوئی حرج نہیں ہے۔ لہٰذا جمعیت علماءشہر ناندیڑ تمام ہی ائمہ کرام، والدین اور سرپرست حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ محکمہ¿ صحت کے اس مفید اور عوامی خیر خواہی کے کام میں خوب تعاون کریں اور اپنے اطراف میں کوئی بھی بچہ اس ٹیکہ سے محروم نہ رہے اس کی کوشش کریں۔