خواتین ریزرویشن پر کھلی بحث کے لیے کانگریس تیار: رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے

خواتین ریزرویشن پر کھلی بحث کے لیے کانگریس تیار، وزیر اعلیٰ بتائیں کب اور کہاں چرچا کرنی ہے؟ مودی جی کو بھی بلائیں: رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے

خواتین ریزرویشن کے نام پر حلقہ بندیوں کے ذریعے ملک کو بانٹنے کی بی جے پی کی سازش

بی جے پی جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی ہے، وزیر اعلیٰ کی دستخطی مہم میں بھی فرضی دستخط دکھائے جائیں گے

خواتین ریزرویشن بل 2023 میں ہی پاس ہوا، 543 نشستوں میں سے ہی ریزرویشن دیں، شرائط کیوں؟: رکن پارلیمنٹ شوبھاتائی بچھاؤ

ممبئی: خواتین ریزرویشن کے نام پر بی جے پی نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا، لیکن اس کے ایجنڈے میں اس کا دور دور تک ذکر نہیں تھا۔ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں بی جے پی انتخابی حلقوں کی ازسرنو حد بندی کا بل پاس کروا کر ملک کو تقسیم کرنا چاہتی تھی۔ اقتدار کے لیے بی جے پی کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، لیکن کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے ان کی اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے اور اب حکومت مکمل طور پر بیک فٹ پر آگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی رکن اور رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے دی گئی کھلی بحث کی چیلنج کو قبول کیا اور کہا کہ کانگریس بحث کے لیے تیار ہے، وزیر اعلیٰ مقام اور وقت کا تعین کریں، اور بہتر ہوگا کہ اس بحث میں نریندر مودی کو بھی شامل کیا جائے۔

تلک بھون میں منعقدہ ایک خصوصی پریس کانفرنس سے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی رکن رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے اور رکن پارلیمنٹ شوبھاتائی بچھاؤ نے خطاب کیا۔ اس دوران دونوں خواتین رہنماؤں نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر بی جے پی کے جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کے تمام دعووں کو مسترد کر دیا۔ رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے نے مزید کہا کہ 2023 میں ہی خواتین ریزرویشن بل متفقہ طور پر منظور ہو چکا ہے، لیکن بی جے پی حکومت نے اس میں مردم شماری اور حلقہ بندی کی دو ایسی شرائط جوڑ دیں جن کا مقصد اس عمل میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔ کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ ان شرائط کے بغیر موجودہ لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے ہی 33 فیصد ریزرویشن دیا جائے، لیکن بی جے پی نے اسے یکسر نظر انداز کر دیا۔ 16 اپریل 2023 کو خصوصی اجلاس بلا کر خواتین ریزرویشن بل لانے کی بی جے پی کی کوشش محض ایک دکھاوا تھی۔ ان کا اصل مقصد حلقہ بندیوں کا بل پاس کروانا تھا، جس کے ذریعے جنوبی اور شمالی ہند کی ریاستوں کے درمیان خلیج پیدا کر کے ملک کو بانٹنے کی سازش کی گئی تھی۔ ساتھ ہی کانگریس اور ’انڈیا‘ اتحاد کو خواتین مخالف دکھانے کی ناکام کوشش کی گئی تاکہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں جاری اسمبلی انتخابات کو متاثر کیا جا سکے، لیکن بی جے پی کا یہ داؤ خود اسی پر الٹا پڑ گیا ہے۔

رکن پارلیمنٹ شوبھا بچھاؤ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے پنچایتی راج بل لا کر مقامی سوراج اداروں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کیا تھا۔ اس کے بعد سونیا گاندھی نے اسے بڑھا کر 50 فیصد تک پہنچایا، اور اس کے لیے کانگریس نے کوئی شرط نہیں رکھی تھی۔ آج ملک بھر میں پنچایتی راج اداروں میں 15 لاکھ خواتین مختلف عہدوں پر فائز ہیں، جو کہ کانگریس کی دور اندیشی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ کانگریس خواتین مخالف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی خود خواتین مخالف ہے۔ بی جے پی جھوٹا بیانیہ پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن خواتین اب اس کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوں گی۔ بی جے پی کا اصلی چہرہ اب عوام کے سامنے آچکا ہے۔ اگر خواتین ریزرویشن بل 2023 کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے نافذ کر دیا جاتا، تو آج 543 نشستوں میں سے تقریباً 180 خواتین ارکان پارلیمنٹ نظر آتیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی خواتین دشمن ہے اور اس معاملے پر پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت پر کانگریس کے خلاف وزیر اعلیٰ کے ’جنین کشی‘ والے بیان کا جواب دیتے ہوئے پرنیتی شندے نے کہا کہ منی پور میں خواتین پر ہونے والے مظالم، خاتون کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، ہتھرس، اناؤ، بدلاپور اور اشوک کھرات جیسے تمام سنگین معاملات بی جے پی کے دور اقتدار میں ہوئے ہیں۔ ان تمام معاملات کو بی جے پی نے کس طرح سنبھالا اور ملزمان کی پشت پناہی کی، یہ سب کو معلوم ہے۔ اس لیے بی جے پی کے دور میں صرف ’جنین کشی‘ ہی نہیں، بلکہ خواتین کی کردار کشی، ان پر مظالم اور ان کے قتل جیسے جرائم عام ہو رہے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس میں خواتین کو کتنی عزت دی جاتی ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی کی پوری تاریخ میں آج تک کوئی خاتون قومی صدر کیوں نہیں بنی؟ اس کا جواب بی جے پی قیادت کو دینا چاہیے۔

MPCC Urdu News 20 April 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading