ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کے باقی عرصے کے دوران آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر کھلی رہے گی۔تاہم ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک ’سینئر فوجی عہدیدار‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان جہازوں کو مخصوص راستے کے ذریعے اور پاسدارانِ انقلاب نیوی کی اجازت سے گزرنا ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ مخصوص راستہ ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے طے کیا ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی نے مزید کہا ہے کہ فوجی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت بدستور ممنوع ہو گی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ لبنان کی جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، اس کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

  1. برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنما اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول رہا ہے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ یہ ایک دیرپا اور قابلِ عمل حل ہونا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ عالمی رہنما ایک متحد پیغام دینے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ آبنائے کو بغیر کسی ٹول ٹیکس اور بغیر پابندیوں کے کھلا رکھا جائے۔سٹارمر نے مطالبہ کیا کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں، جہاز رانی کو بحال کیا جائے تاکہ معاشی جھٹکے کو سنبھالا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ فرانس اور برطانیہ ایک بین الاقوامی مشن کی قیادت کریں گے تاکہ جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ کیا جا سکے، ’جیسے ہی حالات اجازت دیں، یہ مشن مکمل طور پر پرامن اور دفاعی نوعیت کا ہو گا‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے لندن میں ایک کانفرنس ہوگی، جس میں ایک درجن ممالک اس مشن کے لیے وسائل فراہم کریں گے۔آخر میں انھوں نے کہا: ’ہمارے شہریوں کو امن اور استحکام کی واپسی نظر آنی چاہیے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading