بہار: سیلاب کے پانی میں ڈوبا اسکول، سڑک پر ٹینٹ لگاکر پڑھائی

مظفرپور: بہار کے مظفرپور ضلع کے کئی اسکول جب سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے تو ضلع انتظامیہ کی طرف سے ایک منفرد قدم اٹھایا گیا۔ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو اس کے لئے راحت کیمپ میں رہ رہے بچوں کے لئے سڑک پر ہی کلاسیں لگوا دی گئیں۔ واضح رہے کہ مظفرپور کے میناپور اور کانٹی بلاکوں کے کئی گاؤں غرقآب ہو چکے ہیں اور متعدد لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر قومی شاہراہ 77 کو ہی اپنا ٹھکانہ بنائے ہوئے ہیں۔

مظفرپور کے ضلع مجسٹریٹ آلوک رنجن گھوش نے بتایا کہ ضلع کے کئی علاقوں میں سیلاب کا پانی بھر گیا ہے۔ اس کی وجہ سے درس و تدریس میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ سڑک پر رہ رہے لوگوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں جو اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ ایسے حالات میں میناپور میں واقع اسکول کے اساتذہ نے سڑک پر ہی کلاسیں لگانی شروع کر دیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق سڑک کو ایک جانب سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اساتذہ بچوں کو یہیں درس دے رہے ہیں۔ یہاں اہم طور سے لشکری پور اور مصطفیٰ پور کے بچے موجود ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہاں کمیونٹی کچن کو بھی چلایا جا رہا ہے۔

ایک افسر نے بتایا کہ بچے اکثر سڑک پر ٹہل کر یا پانی میں کھیل کر وقت گذار رہے تھے مگر اب پڑھائی بھی کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیلاب کا پانی کچھ دن اور رہتا ہے تو دیگر بالائی مقامات پر اسی طرح کا انتظام کیا جائے گا۔

افسر نے بتایا کہ بچوں کو چاکلیٹ، بسکٹ، کاپی اور قلم بھی انتظامیہ کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہار میں یہ پہلا ضلع ہے جہاں سیلاب سے متاثرہ بچوں کو کیمپ میں تعلیم دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ مظفرپور ضلع کے 7 بلاکوں کی 49 گرام پنچایتوں میں سیلاب کا پانی بھر گیا ہے، اس کی وجہ سے 1.30 لاکھ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے۔ اس ضلع میں 31 کمیونٹی کچن کو چلایا جا رہا ہے جہاں سے لوگوں کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading