بھیونڈی کی سبھی 6 اسمبلی سیٹیں بھی جیتے گے
استقبالیہ تقریب میں وزیر نگراں کا اعلان
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- تھانے ضلع پالک منتری ( وزیر نگراں ) اور شیوسینا لیڈر ایکناتھ شندے نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں تھانے و پالگھر ضلع کی چاروم لوک سبھا سیٹیں جیت کر مہایوتی کے کارکنان نے ایک تاریخ رقم کر دی ۔ اسی وجئے یاترا کو برقرار رکھتے ہوئے لوک سبھا علاقے کے تمام 6 اسمبلی سیٹوں کو بھی جیت جائے گا ۔ پالک منرتی شندے نے کہا کہ مہایوتی اسی طرح آگے بھی متحد ہوکر مقامی اداروں کا انتخاب لڑے گی.
بھیونڈی تعلقہ کے تحت ولگاوں میں مہایوتی کے نو منتخب ایم پی کپل پاٹل کے اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جہاں ان کا مہایوتی کی جانب سے شاندار استقبال کیا گيا۔ پروگرام میں موجود مہایوتی کے عہدیداران اور کارکنان سے خطاب کرتے پالک منتری ایکناتھ شندے نے کہا کہ مہایوتی کے کارکنان نے انتھک محنت کر لوک سبھا کی چاروں سیٹ جیتی۔ لوک سبھا کی طرح آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھی ایسی ہی صورت حال قائم رکھی جائے گی۔ بھیونڈی لوک سبھا علاقے میں ایم پی کپل پاٹل کا تعاون کر مہایوتی کے ساتھ تمام چھ جگہ جیتنا ہے۔ شیوسینا بالا صاحب ٹھاکرے کے شیو سینکوں نے پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کے حکم پر مہايوتی کا کام کیا ۔ اب ایم پی کپل پاٹل کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ چاروں ایم پی متحد ہوکر مرکز کی متفرق منصوبوں کو لاگو کر ترقی كرے۔ اس طرح کی اپیل شندے نے کی ہے ۔ اس موقع پر ایم پی کپل پاٹل نے کہا آج کا یہ اعزازی تقریب میری نہیں حقیقی معنوں میں کارکنان کا اعزاز ہے ۔ ایم پی کپل پاٹل نے کہا کہ بی جے پی شیوسینا کے درمیان تنازعہ اور قدورت دور کرنے کے لئے گرام پنچایت کا الیکشن اور ہر چناو مل جل کر لڑا جائے گا۔ پروگرام میں وزیر مملکت رویندر چوہان، ضلع پرمکھ پرکاش پاٹل ، بھیونڈی شہر ضلع صدر سنتوش شیٹی سمیت کئی لیڈروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
بھیونڈی کارپوریشن کے صحن میں بنے گا 25 فٹ بلند امبیڈکر کا پتلا ، 45 لاکھ ہوگا خرچ

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کارپوریشن کے نئے بلڈنگ کے صحن میں انتظامیہ 25 فٹ اونچی بھارت رتن بابا صاحب امبیڈکر کا پتلا بنانے جا رہی ہے ۔ جسكا بھومی پوجن میئر کے ہاتھوں آج جمعرات کے روز کیا گیا ۔واضح ہو کے بھیونڈی کارپوریشن کے چھ منزلے کے نئے انتظامی ہائی ٹیک عمارت کے صحن میں جمعرات کی صبح 11 بجے بابا صاحب امبیڈکر کے پتلے کا بھومی پوجن میئر جاوید دلوی کے ہاتھوں کیا گيا۔ اس دوران انھوں نے بتایا کہ بھارت رتن باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے بھیونڈی میں بڑے پیمانے پر ماننے والے ہے ۔ دو بار ان کا بھیونڈی بھی آنا ہوا تھا ۔اس وجہ سے کارپوریشن ان کا کل 25 فٹ بلند پتلا بنانے کے لئے جا رہی ہے ۔ جسے دو ماہ میں بنا کر تیار کیا جائے گا۔ انهوں نے بتایا کہ پتلا 10 فٹ کا ہوگا۔ جبکہ چبوترہ 15 فٹ بلند ہوگا۔ بتا دیں کہ اس پتلے کا بھومی پوجن اپریل ماہ میں ہونے والا تھا۔ لیكن لوک سبھا انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کی وجہ سے اسے آگے بڑھا دیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں بھیونڈی کے رکن اسمبلی رپیش مہاترے، بھیونڈی مغرب کے رکن اسمبلی مہیش چوگلے، کمشنر منوہر ہیرے، ڈپٹی مئیر منوج كاٹیكر، اضافی کمشنر اشوک رنکھاب ، اسٹینڈنگ کمیٹی چئیرمین مدن نائک، اپوزیشن لیڈرشام اگروال، سبھاگره لیڈر مطلوب سردار، کونارک وکاس اگھاڑی کے گٹ نیتا ولاس پاٹل، شیوسینا گٹ نیتا سنجے مهاترے، پتلا کمیٹی کارگزار صدر وکاس نکم، کارپوریٹر ملک نظیر مومن سمیت دیگر لوگ موجود تھے ۔
بھیونڈی ميونسپل کارپوریشن نے بھیجا سکنڈری اسکولوں کو "وجہ بتاو نوٹس "
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کارپوریشن کے سکنڈری اسکولوں میں تعلیم کا معیار دن بہ دن گرتاجا رہا ہے ۔ اس سال دسویں کا رزلٹ پچھلی سال کی توقع 23 فیصد کم رہا۔ جسكے بعد بوكھلائی کارپوریشن انتظامیہ نے اپنے ثانوی محکمہ کے تمام 11 اسکولوں کو وجہ بتاو نوٹس جاری کر اس کا جواب مانگا ہے۔ تعلیمی ترقی کے فقدان نے غریب والدین کی فکر بڑھا دی ہے۔ انكا کہنا ہے کہ جب کارپوریشن اسکولوں میں پڑھائی ہی نہیں ہوتی تو پیسے کی کمی میں اپنے بچوں کو کہا پڑھائیں ۔واضح ہو کے بھیونڈی کارپوریشن تعلیم محکمہ سال 2005 سے کارپوریشن نے سکنڈری اسکول یعنی آٹھویں سے دسویں تک اسکول کی شروعات کی تھی ۔ جسكے تحت کارپوریشن کی طرف سے شہر میں 11 اسکولوں کو جاری کیا جاتا ہے ۔ جس میں چار مراٹهی میڈیم ، چار اردو میڈیم، دو تیلگو میڈیم اور ایک ہندی میڈیم کے اسکولوں کی شمولیت ہے ۔ ان اسکولوں میں آٹھویں سے دسویں تک کل 2710 بچے روزانہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہے۔ جنھیں بہتر تعلیم دینے کے لئے کارپوریشن نے 11 ہیڈماسٹروں کے علاوہ 52 اساتذہ سمیت کل 63 اساتذہ کی تقرری کی ہے ۔ جن پر ہر سال کارپوریشن لاکھوں روپیہ خرچ کرتی ہے ۔ باوجود کارپوریشن کی تعلیمی سطح میں بہتری کے بجائے دن بہ دن کمی آ رہی ہے ۔
دسویں کا رزلٹ گزشتہ سال کی بہ نسبت 23 فیصد کم
ذرائع بتاتے ہے کہ اس سال بھیونڈی کارپوریشن کے دسویں کلاس میں 1113 بچے پڑھ رہے تھےجس میں 522 لڑکے اور 591 لڑکیاں شامل تھی ۔ لیكن دسویں کے امتحان میں 894 بچے بیٹھے تھے۔ جس میں سے صرف 361 بچے ہی پاس ہوئے ۔ کارپوریشن اسکول کا رزلٹ محض 40.38 فیصدa رہا ۔ جس میں نظام پورہ علاقے میں واقع صرف 7.45 فیصد رزلٹ آیا ہے ۔اس اسکول میں 161 بچوں میں سے صرف 12 بچے پاس ہوئے ہے۔ جبکہ اس سال دسویں کا رزلٹ گزشتہ سال کی توقع 23 فیصد کم ہے ۔ 2018 میں مذکورہ رزلٹ 63 فیصد تھا۔ کارپوریشن اسکولوں میں گرتے تعلیم اسٹار کی وجہ سے کوئی بھی سرپرست اپنے بچوں کو مذکورہ اسکولوں میں پڑاھنا نہیں چاہتا ہے۔ جسكے بعد کارپوریشن اسکولوں کے تعلیمی قابلیت اور تعلیمی ترقی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔بھیونڈی کارپوریشن کے انچارج ثانوی تعلیم کے سیکشن وبھاگ پرمکھ سنیل جھلكے نے بتایا کہ انہوں نے کارپوریشن اسکولوں میں گرتے تعلیمی اسٹار کے پیش نظر کارپوریشن کے ساتھ 11 اسکولوں کو رزلٹ کم آنے کی وجہ سے وجہ بتاو نوٹس جاری کیا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ بچوں کو آنے والے وقت میں اچھی تعلیم ملے اس کے لئے کوشش كریں گے ۔ كام میں لاپرواہی برتنے والے اساتذہ پر کاروائی کی جائے گی ۔aa