
دبئی ۔ (العربیہ/الجزیرہ) -العربیہ اردو ڈاٹ نیٹ کی خبر کے مطابق سعودی عرب میں مشرقِ اوسط کے ایک مقبول نائٹ کلب نے آج جمعرات سے اپنی ایک شاخ کا افتتاح کردیا ہے۔ یہ نائٹ کلب سعودی عرب میں حالیہ برسوں کے دوران میں تفریح کے نام پر دی جانے والی آزادیوں اور بعض سماجی پابندیوں کے خاتمے کا ایک نیا مظہر ہے لیکن مملکت میں نافذ اسلامی قوانین کے تحت اس کلب میں شراب پیش نہیں کی جائے گی۔
الجزیرہ کی خبر کے مطابق سعودی حکومت نے اس نائٹ کلب کیلئے کوئی اجازت نہیں دی ہے جبکہ سعودی عرب جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس خبر کی تردید کرتے ہوئے سرکاری سطح پر انکوائری کرنے کی بات کہی ہے.
واضح ہوکہ سوشل میڈیا اور مقامی خبروں کے مطابق یہ نائٹ کلب ساحلی شہر جدہ میں سمندر کنارے قائم کیا گیا ہے اور وہاں لباس کا سخت ضابطہ نافذ نہیں ہوگا۔ ایڈمنڈ ہاسپٹلیٹی کلب کے مینجر ابلاغیات سرجی ٹراڈ نے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کو بتایا ہے کہ وائٹ کلب سعودی عرب میں ایک ماہ تک کھلا رہے گا۔اس کا امریکی فن کار ’نی یو‘ کے فن کے مظاہرے سے آغاز ہورہا ہے۔
الهيئة العامة للترفيه تفتح تحقيقاً فورياً في مقاطع فيديو تم تداولها لإحدى الفعاليات في مدينة جدة لم يتم ترخيصها من قبل الهيئة pic.twitter.com/MAIKTCM2EZ
— الهيئة العامة للترفيه (@GEA_SA) June 13, 2019
مسٹر ٹراڈ کا کہنا ہے کہ اس کلب کے لیے ’عام اسمارٹ‘ لباس ہوگا ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کلب میں آنے والی خواتین کو کھلے ملبوسات پہننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔مملکت کے ضابطہ لباس کے تحت خواتین مکمل ستر والا لباس پہننے اور برقع اوڑھنے کی پابند ہیں۔
ٹراڈ نے بتایا ہے کہ اس کلب کے انسٹاگرام پر اکاؤنٹ کے پیروکاروں کی تعداد گیارہ ہزار تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کے ناقدین کی رپورٹ کے بعد اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بند کردیا گیا ہے۔