بھیونڈی بلڈنگ سانحہ ‘بلڈر منور گرفتار ‘تین دن کی پولیس تحویل

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- شہر کے پیرانی پاڑہ علاقے میں ہوئے بلڈنگ حادثے کے ذمہ دار بلڈر منور علی احمد حسین انصاری (48) اور اس کی ماں پر حادثے کا ذمےدار ٹھہراتے ہوئے بلڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ جبکہ کی اس کی ماں اپنی گرفتاری سے دور بتائی جارہی ہے ۔

سانتی نگر پولیس اسٹیشن کی سینئر پولیس انسپکٹر ممتا ڈیسوزا نے بتایا کہ حادثے کے بعد اس کے ذمہ دار بلڈر منور علی احمد حسین انصاری (48) اور اس کی والدہ پر آئی پی سی کی دفعہ 304 اے ، 337 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر شانتی نگر پولیس نے بلڈر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا ۔جسے تین دن کے لئے عدالت نے پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے ۔ ممتا دیسوزا نے بتایا کہ اس واقعہ کے ذمہ دار کسی بھی ملزم کو بخشا نہیں جائے گا چاہے وہ کوئی بھی ہوں ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھیونڈی کارپوریشن پربھاگ سمیتی نمبر 2 کے تحت پیرانی پاڑہ علاقے میں واقع ایک 4 منزلہ عمارت جسے بھیونڈی کارپوریشن کے افسران کے ذریعہ قریب 3 گھنٹے قبل اس میں مکینوں سے بحفاظت خالی کرایا گیا تھا ۔

جو جمعہ کی شب دیر رات دیڑھ بجے کے قریب اچانک تاش کے پتوں کی طرح بھرا بھرا کر زمین دوز ہوگئی ۔ عمارت کے چوتھے منزلہ پر رکھی موٹرسائیکل اور عمارت میں مکین اور موجودہ جان پہچان والوں کا گھریلوں سامان نکالنے کے لئے عمارت میں داخل ہوئے 5 افراد پر آفت ٹوٹ پڑی موٹرسائیکل اور سامان باہر نکالے کی کوشش میں لگے افراد کے باہر نکلنے سے پہلے ہی پوری عمارت تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہوگئی اور عمارت میں دب کر 2 نوجوان جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقائی شیوسینا ایم ایل اے روپش مہاترے ، کارپوریشن کمشنر اشوک کمار رنکھامب ، ڈپٹی پولیس کمشنر راجکمار شندے ، تحصیلدار ششیکانت گائیکواڑ سمیت این ڈی آر ایف کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور تیزی سے راحت رسانی کا کام شروع کردیا ۔ سنیچر کے روز دوپہر 12 بجے کے بعد این ڈی آر ایف کی ٹیم کے ذریعہ عمارت کے ملبے میں کسی کے دبے نہیں ہونے کا اعلان کرتے ہوئے راحت رسانی کا کام روک دیا ۔ میونسپل کمشنر اشوک کمار رنکھامب کے حکم پر پربھاگ آفیسر نمبر 2 کے اسسٹنٹ کمشنر سنیل بھوئر کے ذریعہ عمارت مالک پر شانتی نگر پولیس اسٹیشن میں فوجداری کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے ۔پولیس کے خوف سے عمارت مالک مفرور بتایا جارہا ہے ۔

واضح ہو کے سانتی نگر کی حد میں واقع پیرانی پاڑہ کے مکان نمبر 401 کی ملکیتی اراضی پر منور خان کے ذریعہ 4 منزلہ عمارت کی تعمیر تقریبا 12 برس قبل غیر قانونی طریقے سے کیا گیا تھا۔ پیرانی پاڑہ کی بے حد تنگ گلیوں کے درمیان تعمیر چار منزلہ عمارت میں کل 22 فلیٹوں میں تقریبا سو افراد رہتے تھے ۔جسے کارپوریشن انتظامیہ نے پہلے ہی خطرناک قرار دیا تھا ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق جمعہ کی شام قریب سات بجے کے بعدعمارت کے کچھ حصوں کا پلاسٹر اچانک بھرا بھرا کر گرتے ہوئے دیکھ کر راہگیر اور عمارت کے رہائشی سکتے میں پڑ گئے اور جنگل میں لگی آگ کی طرح یہ خبر پورے شہر و علاقے میں پھیل گئی ۔

اطلاع ملتے ہی میونسپل کمشنر اشوک کمار رنکھامب فوری طور پر ایمرجنسی محکمے کے افسران و اہلکاروں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ۔ میونسپل کمشنر اشوک رنکھامب کے ذریعہ سوجھ بوجھ دیکھتے ہوئے مکینوں کی سلامتی کے پیش نظر رات 11 بجے تک ہی عمارت میں مقیم 22 خاندان کو سمجھا بجھا کر نیچے اتارا گیا اور سنیچر کی صبح اس عمارت کو منہدم کرنے کا حکم افسران کو دیتے ہوئے حفاظتی نقطہ نظر سے وہاں اہلکاروں کو بیٹھایا گیا تھا ۔ تاکہ کوئی مکین یا باشندہ اس خطرناک عمارت میں داخل نہ ہوسکے ۔ پھر بھی انتظامیہ کی لاپرواہی صاف اجاگر ہوتی ہے کے مذکورہ عمارت میں کچھ لوگوں کے داخل ہونے سے 2 لوگ جا بحق اور 3 زخمی ہو گئے ہیں ۔
وہی کارپوریشن ذرائع کا کہنا ہے کے رات کے قریب 1 بجے کے دوران عمارت کی حفاظت میں تعینات سیکیورٹی گارڈز اور وارڈ آفیسر سنیل بھوئر سے جھگڑا اور دھکا مکی کر 5 افراد اچانک عمارت میں داخل ہوگئے جو چوتھی منزل کے مکان پر رکھی ہوئی موٹر سائیکل اور گھریلو سامان نکالنے میں جٹ گئے۔ موقع پر موجود وارڈافسر سنیل بھوئر سمیت کارپوریشن ایمرجنسی محکمے کے 3 اہلکار مذکورہ لوگوں کو نکالنے کی کوشش میں جٹ گئے تھے ۔تبھئ اچانک عمارت بھر بھرا کر نیچے گرنا شروع ہوگئی ۔ عمارت کی نچلی منزل سے گھریلوں سامان نکال کر تین افراد باہر نکل آئے ۔لیکن چوتھی منزل کے رہائشی سراج احمد اصغر علی انصاری (25) اور دوسری عمارت میں رہنے والے محمد عاقف محمد حبیب شیخ (27) جب اپنی موٹرسائیکل لے کر نیچے اتر رہے تھے تبھی عمارت گرنے سے وہ لوگ ہلاک ہوگئے ۔

عمارت میں گھس کر پہچان والوں کا گھریلوں سامان نکالنے میں جٹے عزیز سید (65) ، جاوید شیخ (40) ، مبین ندیم محمد شفیق کو ہاتھ پیر سمیت کمر میں چوٹیں لگی ہے ۔ جنہیں آئی جی ایم میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا ہے ۔ڈاکٹروں نے زخمیوں کی حالت بہتر بتائی ہے ۔زمین دوز عمارت کا ملبہ اچانک قریب گرنے سے کارپوریشن کے اسسٹنٹ کمشنر سنیل بھوئر اور اہلکار نریندر باوانے ، دیویداس واگھ ، ہریش چندر سنویرے بھی زخمی ہوگئے ہیں ۔ جنھیں ابتدائی علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے ۔میئر جاوید دلوی اور میونسپل کمشنر اشوک کمار رنکھامب نے عمارت حادثے پر غم کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمارت حادثات کی روک تھام کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ شہر میں خطرناک اور انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے کا کام جنگی پیمانے پر شروع کیا جائے گا ۔ تاکہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کی جاسکیں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading