بھیونڈی:ورال دیوی تالاب و گارڈن بنا نشہ خوروں کی آماجگاہ » شراب پینے کے بعدخالی بوتل کو تالاب میں پھینک دیتے ہے

بھیونڈی (شارف انصاری ):- بھیونڈی کے مشہور ورال دیوی تالاب کے چاروں سمت بنے گارڈن کو نشہ خوروں نے اپنی آماجگاہ بنا رکھی ہے ۔ جہاں پر اندھیرا ہوتے ہی شراب پینے والے شرابیوں کی محفل سج جاتی ہے ۔ جو دیر رات تک جمعی رہتی ہے۔ اتنا ہی نہیں نشہ خور شراب پینے کے بعد بوتل کو بھی تالاب میں پھینکنے سے گریز نہیں کرتے ہے ۔

سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے بعد بھی پولیس یا کارپوریشن انتظامیہ انھیں پکڑنے یا ان پر کاروائی کو لے کر عدم توجہی برت رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے تالاب کے کنارے پینے والوں کی تعداد دنوں دن بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔

واضح ہو کے دھامنكرناکہ سے مان سروور اور كامتگھر کے درمیان سینکڑوں ایکڑ میں ورال دیوی تالاب پھیلا ہواہے ۔ جسكے چاروں طرف کارپوریشن کے ذریعہ عوام کو ٹہلنے اور بیٹھنے کے لئے گارڈن بنایا گیا ہے ۔ جس میں چہل قدمی کے بجائے شام ہوتے ہی نشہ خور جٹ جاتے ہے ۔ جو باہر سے تالاب کے گارڈن میں سستی قیمت کی شراب اور دیگر منشیات و کھانے کی چیزیں لاکر مذکورہ گارڈن میں نشہ خوری میں جٹ جاتے ہیں ۔ بے خوف ہوکر نشہ خوری کرنے پر پابندی کے باوجود مانسروور سے كامتگھر کے درمیان رات سات سے 12 بجے تک نشہ کرنے والے لگے رہتے ہے ۔ بہت سے لوگ شراب کی بوتلوں کو بھی تالاب میں پھینک دیتے ہے ۔ جس کی وجہ تالاب کے اندر جانے والے زخمی ہوجاتے ہے ۔ بتا دیں کہ ورال دیوی تالاب سے کارپوریشن ہر دن دو ایم ایل ڈی پانی عوام کو پینے کے لئے سپلائی کرتی ہے ۔

لیکن مذکورہ تالاب پر انتظامیہ عدم توجہی برت رہی ہے ۔اس تالاب کے احاطے میں کارپوریشن یا پولیس کی طرف سے سیکورٹی کا کوئی انتظام نہ کئے جانے کی وجہ سے اس تالاب کو نشہ خوروں نے اپنا اڈہ بنا رکھا ہے ۔ اس وجہ سے آئے دن شراب کے نشے میں یہاں نہ صرف مارپیٹ ہوتی رہتی ہے بلکہ تالاب سے لاشیں بھی ملتی ہے ۔ مقامی لوگوں نے تالاب کے احاطے میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے جانے کے ساتھ تالاب گارڈن میں نشہ خوری کرنے والوں پر کاروائی کا مطالبہ کارپوریشن اور پولیس محکمے سے کیا ہے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading