بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی میونسپل کمشنر منوہر ہیرے اور کارپوریشن ڈپٹی کمشنر (صحت) شریمتی وندنا گلوے کے ذریعہ پلاسٹک تھیلیوں کے استعمال پر پابندیوں کو لے کر اٹھائے گئے تمام اقدامات بھیونڈی میں بے اثر ثابت ہوتے نظر آنے لگے ہے ۔ ٹھیلا گاڑی ، دکاندار ، بھاجی بیچنے والے دھڑلے سے ممنوعہ پلاسٹک تھیلیوں میں چیزیں گاہکوں کو بھرکر دیتے دیکھے جارہے ہے ۔
ریاستی حکومت کی طرف سے عائد کی گئی پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی کا کوئی بھی اثر بھیونڈی شہر پر دکھائی نہیں پڑ رہا ہے ۔
واضح ہو کے ریاستی حکومت کی طرف سے گزشتہ 6 ماہ پہلے 50 micron سے کم کی پلاسٹک تھیلیوں پر سخت پابندی لگاتے ہوئے کارپوریشن افسران سے استعمال کر رہے ٹھیلا گاڑیوں ، دکانداروں ، بھاجی بیچنے والے سمیت دیگر صارفین پر کاروائی کئے جانے کی ہدایت دی تھی ۔ حکومت کے حکم کے باوجود کارپوریشن کمشنر ہیرے کے حکم کے مطابق بھیونڈی کارپوریشن ڈپٹی کمشنر (صحت) وندنا گلوے کے ذریعے پورے بھیونڈی شہر کے علاقے میں پلاسٹک تھیلوں پر پابندی کیلئے بیداری پروگرام چلا کر صارفین کو متنبہ کیا گیا تھا کہ ممنوعہ پلاسٹک تھیلیوں کا استعمال ہرگز نہ کریں ورنہ تادیبی کارروائی کی جائے گی ۔
کارپوریشن ڈپٹی کمشنر گلوے نے پلاسٹک تھیلی بندی کیلئے کارپوریشن سطح پر کارپوریشن اہلکاروں کی بہت سی ٹیمیں بنا کر وارڈ سطح پر شہر میں واقع بازاروں، بھاجی مارکیٹ وغیرہ جگہوں پر چیکنگ کیلئے لگایا تھا ۔جس کے نتیجےمیں پلاسٹک صارفین میں خوف نظر آنے لگا تھا ۔ حکومت کے حکم کے مطابق کارپوریشن انتظامیہ کی طرف سے پلاسٹک تھیلی سمیت دیگر پلاسٹک سامانوں کی سبھی چیزوں جیسے پلیٹ، تھیلی، گلاس، چمچ وغیرہ پلاسٹک کی اشیاء پر پابندی کے ساتھ کارروائی کی گئی ۔ لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل پا رہا ہے ۔ بھیونڈی میں دوبارہ میں دھڑلے سے ممنوعہ پلاسٹک تھیلیاں، گلاس، پلاسٹک پلیٹ، کپ کو فروخت کرنا دکانداورں شروع کر دیا ہے ۔ شہر میں واقع تمام دکاندار، ٹھیلا گاڑی ، سبزی بیچنے والے گاہکوں کو کھلے عام اشیاء خریدی پر پلاسٹک کی تھیلیاں فراہم کر رہے ہیں۔ ایک ٹھیلا گاڑی والے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ کارپوریشن اہلکار پلاسٹک تھیلی کی جانچ پڑتال کے دوران اپنی جیب بھررہے ہیں ۔ اور پلاسٹک تھیلی دینے والوں کو نظر انداز کر رہے ہے ۔ ممنوعہ پلاسٹک بندی کے اعلان کے باوجود کاغذ کی تھیلی بنانے والے چندریس نامی ہولسیلر نے بتایا کہ تقریبا 20 لاکھ روپئے لگا کر کاغذ کی تھیلی تعمیر کی مشین لگایا ۔ لیکن ممنوعہ پلاسٹک تھیلیاں مارکیٹ میں دھڑلے سے ملنے سے کاغذ کی تھیلیوں کا بازار میں کوئی گاہک ہی نہیں مل رہا ہے ۔ شہر کے اہم بازار منڈئی ، تین بتی، کلیان روڈ، دھامنكرناكہ ، كامتگھر، پدمانگر، انجورپھاٹا وغیرہ علاقوں میں کاروبار کر رہے خریداروں سمیت پورے شہر میں گھومنے والے تمام ٹھیلا گاڑی والوں کے پاس گاہکوں کو آسانی سے ممنوعہ پلاسٹک تھیلی میں سامان بھر کر مل رہا ہے ۔
شہر کے بیدار شہریوں میں کارپوریشن کمشنر منوہر ہیرے سے آلودگی کے خاتمے اور حکومت کی طرف سے ممنوعہ پلاسٹک تھیلیوں کے ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سمیت فروخت کرنے والے اور صارفین کے خلاف وسیع مہم چلائے جانے اور بدعنوان اور لاپرواہ کارپوریشن اہلکاروں پر تادیبی کارروائی کرنے کی مانگ کی گئی ہے ۔