بھارتی ارب پتی مکیش امبانی ایشیاء کے امیر ترین شخص نہیں رہے

بھارتی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کے مالک اور معروف صنعتکار مکیش امبانی کل تک ایشاء کے امیر ترین شخص تھے لیکن ایک دن میں ایسا کیا ہوا کہ یہ تاج ان سے چھن گيا؟

کورونا وائرس کے سبب کئی صنعتی سیکٹرز میں اب کساد بازاری کے خدشات سر اٹھا رہے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق تیل کی گرتی قیمتیں صارفین کے لیے جہاں ایک اچھی خبر ہو سکتی ہے وہیں کئی ممالک کے لیے خسارہ کم کرنے کا بھی یہ ایک اچھا موقع ثابت ہوسکتا ہے۔ پیر نو مارچ کو ایشیا کے بیشتر بازار حصص میں زبردست مندی دیکھی گئی لیکن تیل کی قیمتوں میں خاص طور پر ریکارڈ گراوٹ ہوئی۔

عالمی سطح پر ارب پتی افراد کے اعداد و شمار رکھنے والے ادارے ‘بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس‘ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں گرواٹ کے سبب بھارتی صنعتکار مکیش امبانی کی مالی حیثيت میں ایک ہی دن میں پانچ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی کمی آئی ہے اور اس طرح وہ ایشیاء کے امیرترین شخص نہیں رہے۔ اب ان کا مقام چینی تاجر جیک ما کے پاس ہے اور امبانی دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس فہرست میں جیک ما 2018ء تک پہلے مقام پر تھے اور اب وہ ایک بار پھر 44.5 ارب ڈالر کی مجموعی دولت کے ساتھ اوّل نمبر پر پہنچ گئے ہیں جبکہ امبانی کی اب مجموعی دولت تقریباﹰ 42 ارب ڈالر ہی رہ گئی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

جرمن چانسلر ووہان میں

سن 2019 میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ووہان میں ویباسٹو فیکٹری کے بڑے پلانٹ کے دورہ کیا تھا۔ اب یہ کارخانہ بند ہے۔ جرمن ادارے زیمینز کے مطابق اس وبا کے دوران ایکس رے مشینوں کی طلب زیادہ ہونے کا امکان کم ہے اور فوری طور پر کم مدتی کاروباری فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔



کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

صفائی ستھرائی اور صفائی ستھرائی

کورونا وائرس کی وبا سے کیمیکل فیکٹریوں کی چاندی ہو گئی ہے۔ ڈس انفیکشن سیال مادے کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ جراثیم کش پلانٹس کو زیادہ سپلائی کے دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ ادارے زیادہ سے زیادہ ایسے مواد کی سپلائی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔



کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

دوکانیں اور ریسٹورانٹس

ووہان میں کے ایف سی اور پیزا ہٹ کے دروازے گاہکوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ سویڈن کے کپڑوں کے اسٹور ایچ اینڈ ایم کی چین بھر میں پینتالیس شاخیں بند کر دی گئی ہیں۔ جینر بنانے لیوائی کے نصف اسٹورز بند کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے بڑے اداروں کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی کیونکہ آن لائن بزنس سے ان کو کسی مالی نقصان کا سامنا نہں ہے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

ایڈیڈاس اور نائیکی

کھیلوں کا سامان بنانے والے امریکی ادارے نائیکی کی طرح اُس کے جرمن حریف ایڈیڈاس نے بھی کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اپنے بیشتر اسٹور بند کر دیے ہیں۔ مختلف دوسرے اسٹورز بھی صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس وائرس کے پھیلاؤ سے ان اداروں کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت خیال کیا جا رہا ہے۔ اشتہاری کاروباری سرگرمیاں بھی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

کارساز اداروں کی پریشانی

اس وائرس کی وبا سے چین میں غیرملکی کار ساز اداروں کی پروڈکشن کو شدید مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مختلف کار ساز ادارے اپنی فیکٹریوں کو اگلے ہفتے کھولنے کا سوچ رہے ہیں۔ جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن کی چین میں تینتیس فیکٹریاں ہیں اور ادارہ انہیں پیر دس فروری کو کھولنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ گاڑیوں کی پروڈکشن کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

کوئی بھی محفوظ نہیں ہے

مرسیڈیز بنانے والے ادارے ڈائملر کا کہنا ہے کہ وہ اگلے پیر سے اپنی فیکٹری کھول دیں گے۔ فیکٹری کو یہ بھی فکر لاحق ہے کہ کارخانے کے ورکرز گھروں سے نکل بھی سکیں گے کیونکہ یہ تاثر عام ہے کہ کوئی بھی انسانی جان کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ کئی گاڑیوں کو فروخت کرنے والے اداروں کے ملازمین گھروں میں بیٹھ کر کام کر رہے ہیں۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

ہونڈا کی احتیاط

جاپانی کار ساز ادارے ہونڈا کے فاضل پرزے بنانے والی تین فیکٹریاں ووہان شہر میں ہیں۔ یہ چینی قمری سال کے آغاز سے بند ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق یہ تیرہ فروری تک بند رہیں گے۔ ایک ترجمان کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ہونڈا کی پروڈکشن شروع ہو سکے گی کیونکہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

اضافی سپلائی روانہ کرنے کا امکان نہیں

کورونا وائرس سے بین الاقوامی سپلائی میں رکاوٹوں کا پیدا ہونا یقینی خیال کیا گیا ہے کیونکہ موجودہ صورت حال بہت گھمبیر ہو چکی ہے۔ اس کی بڑی مثال کار انڈسٹری ہے۔ جنوبی کوریائی کار ساز ادارے ہنڈائی نے تو اپنے ملک میں پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ چین سے اضافی پرزوں کی سپلائی ممکن نہیں رہی۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ صورت حال ساری دنیا میں پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

چینی لوگ بھی محتاط ہو کر دوری اختیار کر رہے ہیں

کورونا وائرس کے اثرات جرمن فیسٹیول پر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان میلوں میں شریک ہونے والے چینی شہری وائرس کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں اور اس باعث شرکت سے دوری اختیار کرنے لگے ہیں۔ فرینکفرٹ میں صارفین کے سامان کے بین الاقوامی فیسٹیول ایمبینٹے میں کم چینی افراد کی شرکت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ لفتھانزا سمیت کئی دوسری فضائی کمپنیوں نے وائرس کی وجہ سے چین کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی بعض صنعتیں

جرمنی میں وائرس سے بچاؤ کی تیاری

فرینکفرٹ میں شروع ہونے والے فیسٹیول میں شرکا کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک قرنطینہ یا کوارنٹائن تیار کی گئی ہے تا کہ کسی بھی مہمان میں اس کی موجودگی کی فوری تشخیص کی جا سکے۔ ووہان سے جرمنی کے لیے کوئی براہ راست پرواز نہیں ہے۔ جرمن شہر فرینکفرٹ کے لیے زیادہ تر پروازیں بیجنگ اور ہانگ کانگ سے اڑان بھرتی ہیں۔

1 | 10

گزشتہ ایک عشرے میں پہلی بار کورونا وائرس کے پیش نظر تیل کی مانگ میں کافی کمی دیکھی گئی ہے۔ بھارت کے کئی صنعت کاروں نے تیل کی گرتی قیمتوں کو ایک بہتر موقع قرار دیا ہے۔ کوٹک مہندرا بینک کے سی ای او ادے کوٹک نے اس سے متعلق ایک ٹویٹ میں لکھا، ”افراتفری اور وائرس کے دوران، اچھی خبر یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں 45 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہیں۔ یعنی تقریبا بیس ڈالر کی کمی واق‍ع ہوئی ہے۔ بھارت کو اس سے ہر برس تقریباﹰ 30 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ عالمی سطح پر سود کی شرحوں میں بھی کمی آئی ہے جس سے پیسہ بھی سستے داموں پر دستیاب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس موقع کو معاشی ترقی کے فروغ کے لیے بطور پالیسی استعمال کریں۔‘‘

لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں جب تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں کیا ریلائنس انڈسٹریز، جس کے کاروبار کا ایک بڑا حصہ تیل پر مبنی ہے، آئندہ برس تک اپنے تمام قرضے چکانے کا اپنا وعدہ پورا کر سکے گی۔ اسی وعدے کی تکمیل کے لیے ریلائنس نے اپنی آئل اور پیٹرو کیمکل کمپنی کے شیئرز سعودی کی آرامکو کمپنی کو فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کورونا وائرس سے کس کس کی لاٹری لگی؟

نیٹ فلکس کی موج

انٹرنیٹ پر دنیا بھر کی فلمیں اور معلوماتی پروگرام دیکھنے کے شوقین لوگوں کے لیے نیٹ فلکس جیسی ویڈیو سائٹس شُغل کا بڑا ذریعہ بن چکی ہیں۔ کورونا وائرس پھیلنے کے بعد 6 کھرب ڈالر کی اس انڈسٹری میں پچھلے ہفتے نیٹ فلکس نے زبردست پیسہ کمایا۔ امکان ہے کہ اگر حالات بگڑتے گئے اور لوگ گھروں پہ رہنے پر مجبور ہوئے تو نیٹ فلکس جیسی کمپنیاں ریکاڈ توڑ کاروبار کرسکتی ہیں۔

کورونا وائرس سے کس کس کی لاٹری لگی؟

کورونا وائرس کے ارب پتی

اس مہلک انفیکشن کے تدارک کے لیے تجرباتی ویکسین بنانے والی کمپنی ‘موڈرنا’ کے چیف ایگزیکٹو اسٹیفان بانِسل حال ہی میں کچھ عرصے کے لیے دنیا کے ارب پتیوں میں شامل ہو گئے۔ اسی طرح دنیا میں طِبی دستانوں کی مانگ بڑھنے کی وجہ سے ملائیشیا کی کمپنی ‘ٹاپ گلوو’ نے بھی حالیہ دنوں میں زبردست کاروبار کیا اور اس کے مالکان میں شامل لِم وی چائے بھی ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔

کورونا وائرس سے کس کس کی لاٹری لگی؟

اب جِم کون جائے؟

ورزش کے فروغ کے لیے قائم آن لائن کمپنی ‘پیلوٹن انٹرایکٹو’ کے کاروبار میں ترقی دیکھی گئی ہے۔ یہ کمپنی ورزش کی مشینیں اور وڈیوز بناتی ہے تاکہ لوگ گھر بیٹھے اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھ سکیں۔ خیال ہے کہ وہ لوگ جو ویسے ورزش کے لیے جِم جاتے تھے اب کورونا وائرس کے ڈر سے گھر پر رہ کر ورزش کو ترجیح دے رہے ہیں۔

کورونا وائرس سے کس کس کی لاٹری لگی؟

گھر پر رہیں لیکن رابطے میں رہیں

کورونا وائرس جیسے جیسے پھیل رہا ہے، بعض بڑی بڑی کمپنیاں اپنے اسٹاف کو گھر سے کام کرنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔ ایسے میں ٹیلی کانفرنسنگ کی کمپنی ‘زوم ویڈیو’ کی طلب میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فروری میں کمپنی کے شیئرز میں پچاس فیصد اضافہ ہوا اور اس سال کے صرف پہلے دو ماہ میں کمپنی کے پاس پچھلے سال کی نسبت 22 لاکھ سے زائد نئے صارفین آئے۔



کورونا وائرس سے کس کس کی لاٹری لگی؟

خوردنی اشیاء کی قلت

حالیہ دنوں میں یورپ کی بعض بڑی بڑی سپر مارکٹوں میں سبزی، پھل اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء کی قلت دیکھی گئی۔ بے چینی اور افراتفری کی وجہ سے لوگوں میں خوراک ذخیرہ کرنے کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ ایسے میں سرمایہ کار پیک کھانوں کی تیاری اور ترسیل میں پیسہ لگا رہے ہیں جبکہ آن لائن ریٹیل کمپنی ایمازون بھی اس رجحان سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔



کورونا وائرس سے کس کس کی لاٹری لگی؟

مجھے بھی ماسک چاہیے

لوگ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ڈاکٹروں کی بتائی گئی مختلف تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے میں بار بار ہاتھ دھونے کی لیے صابن اور سینیٹائزر کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں سرجیکل ماسک کی طلب میں یکایک اضافہ ہوا ہے، جس سے ماسک بنانے والی کمپنی ‘ 3ایم کارپ’ کے کاروبار کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔

1 | 6

سعودی عرب نے بھی بھارت میں تقریباﹰ سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ آرامکو اور ریلائنس کے درمیان اس سرمایہ کاری کے میڈیا میں بھی خوب تذکرے ہوتے رہے ہیں اور اس ماہ کے اواخر تک یہ سرمایہ کاری ہونا تھی لیکن اب اطلاعات ہیں کہ فریقین کے درمیان اس سودے کی شرائط سے متعلق اختلافات پائے جاتے ہیں اور بات چیت اب بھی جاری ہے۔ امبانی کو اپنے قرض چکانے کے لیے سعودی عرب کی یہ سرمایہ کاری بہت ضروری ہے لیکن اس غیر یقینی صورت حال میں مودی حکومت نے بھی اس سودے کے خلاف عدالت میں عرضی دائر کی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مکیش امبانی کی کمپنی نے کئی سیکٹرز میں زبردست سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو آئندہ برسوں میں منافع کاسودا ثابت ہوگا اور ریلائنس انڈسٹریز پھر سے اپنی ترقی کی رفتار حاصل کر لے گی۔

مصنف / مصنفہ: صلاح الدین زین، نئی دہلی

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading