سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
فائرنگ کے وقت تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سمیت متعدد امریکی اعلیٰ حکام موجود تھے۔
فائرنگ کے فوراً بعد صدر اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس نے انھیں وہاں سے بحفاظت نکال لیا۔
ویڈیو میں آپ وہ لمحہ دیکھ سکتے ہیں کہ جب سیکرٹ سروس کے اہلکار نائب صدر جے ڈی وینس کو سٹیج سے محفوظ مقام کی جانب لے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کانگریس کے متعدد اراکین نے دونوں جماعتوں سے تعلق کے باوجود اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ صدر اور خاتونِ اوّل محفوظ ہیں۔ انھوں نے سیکرٹ سروس اہلکاروں کی فوری کارروائی کو سراہا اور تشدد کی مذمت کی ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے لکھا کہ ’وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں فائرنگ کے واقعے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی پر شکر گزار ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ میں تشدد اور افراتفری کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ بھی اس عشائیے میں موجود تھے اور وہ اس بات پر شکر گزار ہیں کہ کسی بے گناہ کو نقصان نہیں پہنچا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ کی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فرسٹ ریسپانڈرز کے شکر گزار ہیں جنھوں نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پایا۔‘
آج کی فائرنگ اسی مقام پر ہوئی جہاں سنہ 1981 میں صدر ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا
آج کا فائرنگ کا واقعہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل (کنیکٹیکٹ ایونیو) میں پیش آیا، وہی ہوٹل کہ جہاں سنہ 1981 میں رونالڈ ریگن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ 30 مارچ 1981 کو پیش آیا تھا کہ جب حملہ آور جان ہنکلی جونیئر نے اس وقت کے صدر ریگن پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ہوٹل کے اندر ایک خطاب کے بعد اپنی لیموزین کی طرف واپس جا رہے تھے۔
ریگن اس حملے میں زندہ بچ گئے تھے تاہم انھیں اس وقت شدید چوٹیں آئیں جب ایک گولی صدر کی لیموزین کے پہلو سے ٹکرا کر ان کے جسم میں لگی۔ جس سے ان کی ایک پسلی ٹوٹ گئی اور پھیپھڑوں میں سے ایک کو نقصان پہنچا تھا۔
انھیں اس واقعے کے فوری بعد قریبی جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں سے وہ 11 اپریل کو ڈسچارج ہوئے تھے۔
اس وقت کے وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری جیمز بریڈی بھی اسی واقعے میں زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار اور میٹروپولیٹن پولیس کا ایک مقامی افسر بھی زخمیوں میں شامل تھے۔
بریڈی کو اس واقعے میں دماغی چوٹ آئی جس کے باعث وہ زندگی بھر معذوری کا شکار رہے اور ان کی یہ حالت بعد ازاں سنہ 2014 میں ان کی وفات تک برقرار رہی۔

بعد ازاں اگلے سال جان ہنکلی جونیئر کو ذہنی بیماری کی بنا پر مجرم قرار نہیں دیا گیا، تاہم انھیں واشنگٹن کے سینٹ الزبتھ ہسپتال کے انتہائی سکیورٹی والے حصے میں رکھا گیا جہاں سے انھیں سنہ 2016 میں رہا کیا گیا۔آج بھی اس فائرنگ کے مقام پر ہوٹل کی دیوار پر ایک تختی نصب ہے جو اس واقعے کی یاد دلاتی ہے۔