بجنور میں 6 پولیس والوں کے خلاف ایف آئی آر درج، جامعہ میں مظاہرہ جاری

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آج بھی ملک کے کئی حصوں میں مظاہرے جاری ہیں۔ اس درمیان خبر یہ ہے کہ کل بجنور میں 6 پولیس والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پولیس والوں کے خلاف بجنور میں پولیس فائرنگ کے دوران قتل ہوئے ایک شخص کے معاملہ میں شکایت کی گئی ہے۔ یہ شکایت شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں میں مارے گئے سلیمان کے گھر والوں نے کی ہے۔

’جامعہ والا باغ‘ ڈرامہ کی تصویری جھلکیاں

واضح رہے سلیمان کے گھر والوں کا الزام ہے کہ سلیمان کا مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ پولیس کی گولی سے مارا گیا ہے۔ سلیمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت نیک لڑکا تھا اور یو پی ایس سی امتحانات کی تیاری کر رہا تھا۔

ادھر جامعہ کے باہر طلباء اور سیول سوسائٹی کے لوگ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور ان کے ساتھ اس قانون کے خلاف شاہین باغ میں مسلسل رات میں بھی خواتین کا احتجاج چل رہا ہے۔ کل جامعہ ہمدرد کے ایک گروپ نے ’جامعہ والے باغ ‘ کے نام سے ایک ڈرامہ پیش کیا جس میں شرکاء نے بھی ایک آنکھ پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ واضح رہے جامعہ کے طلباء نے اس قانون کے خلاف مظاہرہ شروع کیا تھا جو بعد میں سماج دشمن عناصر کی وجہ سے پر تشدد ہو گیا تھا۔ اس میں پولیس نے طلباء کی پٹائی بھی کی تھی اور یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہو کر طلباء کے ساتھ زیادتی کرنے کا الزام بھی ان پر ہے۔ کئی ویڈیو ایسے بھی سامنے آئے جس میں پولیس یونیورسٹی کی لائبریری میں داخل ہو کر طلباء کے ساتھ بدسلوکی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

ملک کے کئی حصوں میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہر ہوئے ہیں جس میں اتر پردیش کے کئی علاقوں سے تشدد کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں اور تقریباً 20 لوگوں کے ان مظاہروں میں اب تک مارے جانے کی خبر ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading