ایک طرف بڑھ رہی بے روزگاری، دوسری طرف مرکز میں 7 لاکھ سرکاری آسامیاں خالی!

بے روزگاری اور معاشی مندی کو لے کر ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہے۔ اس درمیان ایک چونکانے والی خبر یہ آئی ہے کہ مرکزی حکومت کے مختلف محکموں میں ایک بڑی تعداد میں آسامیاں خالی پڑی ہیں اور اس خبر کے مطابق تقریباً سات لاکھ آسامیاں ایسی ہیں جو اس وقت خالی ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت کے کچھ محکموں نے اس سے پہلے خالی پڑی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے خط بھی لکھا تھا۔

موصولہ خبر کے مطابق جو سات لاکھ آسامیاں خالی پڑی ہیں ان میں گروپ ’سی‘ میں 5 لاکھ 75 ہزار عہدے خالی ہیں، گروپ ’بی‘ میں 90 ہزار عہدے خالی ہیں اور گروپ (اے) میں 20 ہزار عہدے خالی ہیں۔ ایک ویب سائٹ نے اس سلسلے میں بتایا ہے کہ مودی حکومت نے ان عہدوں کو بھرنے کے لئے مختلف محکموں کو لکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرکاری خزانہ کی جو حالت ہے اس میں نئی آسامیوں کی تنخواہوں کا مالی بوجھ اٹھانا محکموں کے لئے بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔واضح رہے کہ ڈیپارٹمنٹ آف پرسنل ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) نے سبھی وزارتوں اور محکموں کو خط لکھا ہے کہ وہ فوراً ان خالی آسامیوں کو بھرنے کے لئے ضروری اقدام اٹھائیں۔

ایک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2018 میں 35 بے روزگاروں اور 36 اپنے روزگار والوں نے ہر روز خودکشی کی ہے۔ ان اعداد و شمار سے قومی معیشت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2018 میں12,936 بے روزگار لوگوں نے اور 13,149 اپنے روزگار والے لوگوں نے خودکشی کی ہے۔ ان دونوں زمروں کے اعداد و شمار کو جوڑ کر دیکھا جائے تو 26,085 لوگوں نے خودکشی کی ہے۔ دوسری طرف زراعت سے جڑے 10,349 لوگوں نے خودکشی کی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading