ایوت محل میں بڑی تعداد میں مریضوں کے پائےجانے سےتشویش

ممبئی : 29 اپریل (یو این آئی)ممبئی سے 670 کلو میٹر دوری پر واقع، علاقہ ودربھ کے ایک اہم ضلع ایوت محل میں گزشتہ تین دنوں سے کو ویڈ-19 کے شکار مریضوں کی تعداد میں اچانک اور قابل لحاظ تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ جس نے ایک طرف ضلعی انتظامیہ، پولس اور محمکہ صحت کے ذمہ داروں کو چوکس اور فکرمند کر دیا ہے و دوسری جانب عوام کی تشویش اور خوف و ہراس میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے.

اسی کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندے، علمائے کرام، ائمہ اور دیگر سماجی و سیاسی خدمتگاروں نے اس پرآشوب وقت میں ملک و عوامی خدمت کے لیے کی جا رہی اپنی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے عوام اور شدید ضرورت مندوں کو مدد بہم پہنچانے کے عمل میں تیزی لائی ہے۔
اس ضمن میں ایڈین نیشنل کانگریس پارٹی کے ضلع صدر اور رکن قانون ساز اسمبلی وجاہت مرزا نے یو این آئی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایوت محل میں گزشتہ تین چار دنوں کے درمیان کوویڈ-19 کے مصدقہ مریضوں کی تعداد میں اچانک اور قابل لحاظ تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اور اب ضلع میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 87 سے تجاوز کر چکی ہے۔ جو ایک قابلِ تشویش امر ہے تاہم اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، اور عوامی نمائندے و دیگر سماجی خدمتگار پوری طرح چوکس اور سرگرم ہیں۔اور ملک میں پھیلی اس وباء سے لڑنے میں اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں۔جس کے خاطرخواہ نتائج بھی سامنےآرہے ہیں۔
وجاہت مرزا جو ذاتی طور پر ابتک 3 ہزار راشن کٹ ، 10 ہزار ماسک اور طبی عملے کے استعمال میں آنے والے 100 پی پی ٹی تقسیم کر چکے ہیں۔ اور جنھوں نے آج سے شہر کے مقفل علاقوں میں دودھ کے 500 پاکٹ تقسیم کرنے کا آغاز کیا ہے ،نے بتایا کہ تقریباً 30 لاکھ آبادی والے اور 16 تعلقوں پر مشتمل ایوت محل ضلع کافی وسیع رقبہ پر پھیلا ہوا علاقہ ودربھ کا اہم ضلع ہے ۔یہاں ضلع کے دوسرے مقامات کی بہ نسبت ایوت محل شہر میں کوویڈ-19 مریضوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے اور صرف شہر متاثرہے۔ انکے مطابق ابتک جو 87 مریض پائے گئے ہیں ان میں سب کی حالت ٹھیک ٹھاک ہے۔

اور ان میں سے اکثریت 70 سے 80 فی صد ایسے مریض ہیں جنھیں غیر علامتی ( Asymptomatic ) مریض کہا جاتا ہے۔
انھوں نے کہاکہ ضلع میں 325 افراد قرنطینیہ میں ہیں جنھیں گورنمنٹ میڈیکل کالج اور دیگر مقامات پر رکھا گیا ہے۔ ابتداء میں یہ شکایت ملی تھی کی انکو مناسب اور وقت پر کھانا نہیں مل رہا ہے تاہم اس پر فوری توجہ دے کر اس شکایت کو دور کردیاگیا ، اب یہ صورت باقی نہیں ہے۔
وجاہت مرزا نے بتایا کہ ایوت محل شہر کے لگ بھگ 25 فی صد حصے کو مکمل طور پر سیل(مقفل) کر دیا گیاہے۔جہاں اشایہ ضروریہ اور بطور خاص دودھ کی کمی بڑے پیمانے پر محسوس کی جا رہی ہے۔ مقفل کیے گئے یہ علاقے جن میں اندرا نگر، پوار پورہ، بوساروڈ وغیرہ شامل ہیں زیادہ ترغریب اور محنت کش افراد کی بستیاں ہیں،جو دن بھر محنت کر کے رات کو اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔ انھیں سب سے زیادہ پریشانی ہو رہی ہے۔ وہ لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے اور نہ ہی باہر سے کوئی سبزی دودھ والا ان تک پینچ سکتا ہے۔ ایسے علاقوں میں خصوصی طور پر مدد پینچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رمضان المبارک کے پیش نظر انھیں کھجور اور دیگر ضروری اشیاء پہنچائی جا رہی ہے۔
بڑے پیمانے پر اچانک بڑھی ہوئی تعداد کی وجہ کے ضمن میں وجاہت مرزا کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے بقول یہ معاملہ کھرا ( پان تمباکو کھانے اور بیچنےوالے) کھانے والے کی وجہ سے بڑھا۔کوئی ایک کھرا والا اس مرض کا شکار تھا جس سے ربط میں آنے والے دیگر افراد متاثر ہوتے گئے۔اور یہ مرض پھیلتا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ احتیاطی طور پر کرفیو کا وقت بڑھا دیا گیا ہےاور بنکوں کے اوقات بھی اب صرف 12 سے 3 بجے تک کر دیے گئے ہیں۔ دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی بیرونی ریاستوں تامل ناڈو، اترپردیش وغیرہ سے آئے ہوئے تارکین مزدور موجود ہیں۔
انھوں نے اپنے پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کی نزاکت کو سمجھیں، پولس اور انتظامیہ کی جانب سے دی جا رہی ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں ، اپنے گھروں پر ہی رہیں۔اور کوویڈ-19 کے پھیلاو کو روکنے کے لیے محفوظ فاصلہ اور دیگر تمام ضروری احتیاط اختیار کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading