ایم آئی ایم ‘ونچت اگھاڑی‘لوک سبھا انتخابات موضوعات پر اشوک راوچوہان کاتفصیلی انٹرویو

انڈین ایکسپریس۔فروری 3‘ 2019۔ ترجمہ و تلخیص : محمد بہاؤ الدین ایڈوکیٹ ناندیڑ۔موبائل : 9890245367

کویتا ایئر : اپوزیشن اتحاد کی مہاراشٹر میں اس وقت کیا حیثیت ہے؟ کیا آپ ہر ایک کو اپنے ساتھ لیں گے یا پھر ایک یا دو چھوٹی جماعتوں کو؟

جواب : ہماری ےہ کوشش ہے کہ 2014میں 70فیصد ووٹوں کی تقسیم ملکی سطح پر جو ہوئی ہے اور اس مرتبہ ہم وہ نہیں ہونے دیں گے۔بی جے پی کو رائے دہندگی میں صرف 30یا 31فیصد ووٹ ہی حاصل ہوئے تھے۔ وہ بھی صرف اس لئے کہ ہر ایک اپنے تئیں علیحدہ سے انتخاب لڑا ہے جس کی وجہ سے بی جے پی اقتدار میں آئی۔ ہماری کوشش اب ےہ ہے کہ سکیولر ذہن و مزاج رکھنے والی جماعتوں کو متحد کیا جائے جس کے لئے ہم ایک Minimum Programeبھی طے کریں گے جس کے تحت ہم خیال جماعتیں جیسے سی پی آئی ‘ سی پی ایم ‘ سوابھیمان شیتکری سنگھٹنا‘ بہوجن ونچت اگھاڑی( پرکاش امبیڈکر کی تنظیم) ‘ پی ڈبلیو پی‘ (شیتکری و مزدور ں کی پارٹی)اور این سی پی درحقیقت ہماری سب سے بڑی شراکت دار ہے۔ ہمارے ساتھ آر پی آئی کواڑے اور گوئی گروپ بھی ہے۔
گو کہ ان تمام جماعتوں کے اُن کے اپنے مطالبات ہیں پھر بھی ہم اگلے ہفتہ ان سب کے بارے میں حتمی طور پر فیصلہ لیں گے۔ہر ایک اس وقت متحد ہونے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور مہاراشٹر کے اس اتحاد کا اثر ملک کی دیگرریاستوں میں بھی پڑئے گا۔ لیکن ہم ےہ دیکھیں گے کہ کس طریقہ سے بڑی جماعتیں متحدہ پلیٹ فارم کے ذریعہ سے شیو سینا اور بی جے پی کے خلاف اُمیدوار کھڑا کرسکیں گے۔
کویتا ایئر : 2018کے ضمنی انتخابات کے اعداد و شمار ےہ بتاتے ہیں کہ وہاں کے ووٹرس نے اپوزیشن کے اتحاد کو پسند کیا ہے۔ کیا پرکاش امبیڈکر اور اے آئی ایم آئی ایم آپ کے شراکت دار ہوسکتے ہیں؟
جواب : ہمارے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ایم آئی ایم ہی ہے۔ ہم نے واضح طور پر پرکاش امبیڈکر سے ےہ کہہ دیا ہے کہ اگر وہ ایم آئی ایم سے شراکت رکھتے ہیںتو ہم اُن سے اتحاد نہیں کرسکتے۔ میری امبیڈکر کے ساتھ 6-7ملاقاتیں ہوئی ہے جس میں اپنے اس موقف کو واضح کیا ہے۔حال ہی میں اسد الدین اویسی نے ناندیڑ کی ریلی کے موقع پر کہا کہ اگر وہ اتحاد کے لئے مسئلہ ہے تو وہ اپنے آپ کو اُس سے علیحدہ رکھیں گے اور ریاست کے پارلیمانی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔ ےہ ہمارے لئے بڑی اہمیت کی بات ہے۔
سندیپ اشر : اویسی کے اعلان میں ایک شرط ہے کہ اُن کی پارٹی اُس صورت میں انتخاب نہیں لڑئے گی جب کانگریس پرکاش امبیڈکر کو اُن کے کہنے کے مطابق نشستوں پر راضی نہ ہوجائے۔
جواب : ہم نے نشستوں کے ٹھوس تعداد پر بحث نہیں کی ہے۔ہم کو دیگر حلیفوں کے ساتھ بھی نشستوں کی تڑجوڑ کے بعد اتحاد کرنا ہے۔
شبھانگی کھپرے : کانگریس اور این سی پی کے درمیان بھی گفتگو بغیر کسی ریکارڈ کے ماضی کی طرح ہوتی نظر آتی ہے۔کیا ےہ صحیح ہے کہ این سی پی نے کانگریس کو اپنا بڑا بھائی تسلیم کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ 2019کے بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران بھی وہ اس بات کے لئے بھی کیا راضی ہوئے ہیں کہ وہ آپ کو بحیثیت چیف منسٹر دیکھیں گے؟
جواب : پہلی بات تو ےہ ہے کہ راہول گاندھی شرد پوار سے بات چیت کررہے ہیں۔ اور شرد پوار کانگریس پریسیڈنٹ راہول گاندھی کے ساتھ قربت بھی رکھتے ہیں اور راہول گاندھی بھی اُن کا احترام کرتے ہیں۔ اس ذریعہ سے مہاراشٹر میں اتحاد کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ جہاں تک مہاراشٹرا میں سیاست کا سوال ہے ہم نے متحدہ طور پر اتحادی حکومت بنائی جس میں میں بحیثیت سی ایم بھی تھا اور اس معاملہ میں کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ ہم اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ بی جے پی کے عہد کو کس طرح حالیہ دنوں میں مختلف ذرائع سے غیر مستحکم کیا جائے۔ جہاں تک وزیرِ اعلیٰ کا سوال ہے اُس کا انتخابات کے بعد لیجسلیٹر پارٹی کی میٹنگ کھپرے : کیا کانگریس۔این سی پی کا اتحاد اسمبلی کے انتخابات میں بھی جاری رہے گا؟
جواب : ہاں ! کیوں نہیں؟ کئی ایسے اضلاع ہیں جہاں این سی پی طاقتور ہے اور کئی ایسے اظلاع ہیں جہاں ہم طاقتور ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کے ےہ اتحاد ہمارے لئے مددگار ثابت ہوگا جس کے ذریعہ سے ہم کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں رہیں گے۔
تبسم بار نگر والا : پرینکا گاندھی کی سرکاری طور پر سیاست میں داخلے کی وجہ سے کیا کانگریس کو اُس کی مدد ملے گی؟
جواب : پرینکا گاندھی سابق سے ہی رائے بریلی اور امیٹھی کی ذمہ داری اُٹھا چکی ہے۔ اُن میں قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ اُن کی اندرا گاندھی سے مشابہت ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی میں مختلف اُمور انجام دیئے۔گو کہ وہ فرنٹ پر نہیں تھی بلکہ انہوں نے پردہ کے پیچھے سے کام کیا ہے۔ اب راہول گاندھی نے اس کا آغاز کیا ہے۔ ظاہر بات ہے اس کے مثبت اثرات ہی رہیں گے اور اس طرح ملک کی سیاسی منظر پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔
سندیپ اشر : کانگریس ۔ این سی پی اتحاد میں اب کون چہرہ ہے اور بڑا بھائی کون ہے؟
جواب : نشستوں کی تقسیم کی وجہ سے بڑے بھائی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لوکتا میں جڑواں بھائی کہتے ہیں۔ لوگ طئے کریں گے کون نشستوں پر منتخب ہوکر آسکتے ہیں۔ جو کوئی بھی زیادہ نشستیں حاصل کرئے گا وہ یقینا بڑا بھائی ہوگا۔ پچھلی مرتبہ ہمارے درمیان جو نشستوں کی تقسیم ہوئی تھی وہ 26اور 22کے تناسب سے تھی۔ اور اب بھی تقریبا ً اُس کے قریب ہی ہوگی۔ پرانا فارمولہ چند معمولی تبدیلیوں کے ساتھ متوقع ہے۔
سندیپ اشر : ملکی سطح پر اس مخلوط قیادت کا چہرہ کون ہوگا؟
جواب : آخرِ کار ہمارے پاس ملک بھر میں صرف ایک ہی چہرہ ہے ‘ وہ راہول گاندھی کا ہے۔ ہم علاقائی سطح پر کوئی XیاYقائد نہیں رکھتے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ تین ریاستوں میں یہی ہوا ہے۔ آخرِ کار ےہ بات طئے ہوئی کہ ریاست کا حکمراں کون رہے گا۔ ےہ بات مدھیہ پردیش‘ چھتیس گڑھ ار راجستھان میں بھی تھی لیکن اس کا فیصلہ ما بعد انتخاب کافی غور و خوص و مشورہ کے بعد ہی ہوا ہے۔بس یہی معاملہ یہاں بھی ہوگا اور ےہ میری ذمہ داری ہے ۔ لیکن آخرِ کار ےہ باتیں پارٹی کے صدر کو ہی طئے کرنی ہوتی ہے۔
ذیشان شیخ : ناندیڑ میں آپ کا مضبوط و طاقتور اثر ہے۔ جہاں 9حلقہ انتخاباتِ اسمبلی ہیں جس میں 25فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے اور کسی وقت یہاں مسلم ایم ایل اے بھی ہوا کرتا تھا جو دو تین بار سے زائد منتخب بھی ہوا تھا۔ لیکن آپ کے ابھرنے کے بعد کسی مسلم اُمیدوار کو کانگریس پارٹی کا ناندیڑ سے کبھی بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔۔کیا کانگریس مسلم امیدوار کو مہاراشٹر اسمبلی بھیجنے میں پس و پیش و تحمل کرتی ہے؟
جواب : ےہ آپ کی غلط سوچ ہے۔جب سے مسٹر مودی اقتدار پر آئے ہیں حالات میں تبدیلی ہوئی جو خراب سے خراب تر ہوئے۔ اب ہمارے کاروبار کچھ جمہوری انداز میں نہیں ہورہے ہیں۔ ہر کام کی مرکزیت کا تعلق پرائم منسٹر آفس سے ہی جڑا ہوا ہے۔ اب کسی معاملے میں کوئی نگرانی یا کنٹرول نہیں رہا بلکہ زیادہ دھوکہ دہی ہی ہوچکی ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججس بھی کھلے طور پر آئے ہیں۔۔ سی بی آئی کے سربراہوں پر بھی کنٹرول ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آر بی آئی کے تین گورنر ان پانچ سالوں میں آئے ہیں۔ ۔ یونیورسٹی کے نصاب میں بھی تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی۔ حتیٰ کے صحافت میں بھی ہم ان چیزوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ساہتیہ سمیلین میں بلائی گئی شخصیت کو روکا گیا۔ اس لئے کہ وہ شخصیت گورنمنٹ کے نظریہ کے مطابق سوچ نہیں رکھتی تھی۔ (اکھیل بھارتیہ مراٹھی ساہتیہ سمیلین نے اپنے دیئے ہوئے نامور مصنف نین تارا سہگل کے دعوت نامے کو منسوخ کیا)وہ اچھے دن کی بات ہو یا پھر بینک اکاﺅنٹ میں 15لاکھ روپیئے جمع کرنے والی بات ہو یا پھر زرعی پیداوار پر دی جانے والی قیمتوں سے لے کر لا¿ اینڈ آرڈر کے علاوہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ےہ تمام باتیں صرف نعرے ہی رہے۔
جہاں تک اقلیتوں کا جو مسئلہ ہے ہم اس بارے میں بہت ہی چوکس ہیں‘ خصوصی طور پر ناندیڑ میں۔ ناندیڑ میونسپل کارپوریشن میں 81کارپوریٹرس میں منجملہ 73کارپوریٹرس کانگریس کے ہیں۔اگر میئر کسی ایک کمیونٹی کا ہوتا ہے تو ڈپٹی میئر دوسری کمیونٹی سے لیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر پرسن کسی تیسری کمیونٹی کا ہوتا ہے۔مسلمانوں کی نمائندگی یہاں ضلع پریشد ‘ کارپوریشن اور دیگر جگہوں پر مناسب پائی جاتی ہے۔حتی کے ایم ایل سی کے انتخاب کے موقع پر بھی مناسب نمائندگی ایس سی ۔ایس ٹی اور دیگر اقلیتوں کو دی جاتی ہے۔ مراٹھواڑہ میں اقلیتی چہرہ عبدالستار ہے۔
اگر ناندیڑ میں ممکن ہو (مسلم اُمیدوار دیا جاسکتا ہے) کیوں نہیں؟مجھے خوشی ہوگی کہ کسی ایک کو اقلیتی کمیونٹی سے اگر جس کے منتخب ہونے کے اچھے مواقع ہوں تو اُسے موقع بھی دیا جاسکتا ہے۔
کویتا ایئر : آنے والے انتخابات اتفاق سے سخت قحط سالی کے موقع پر آرہے ہیں۔ حکومت نے غیر روایتی طور پر قرضوں کی معافی کی ہے۔ آ پ مہاراشٹر کے دیہاتی علاقوں کے بارے میں اُن کی کیا توقعات ہیں اور آپ کے اس پر کیا ردِ عمل ہیں؟
جواب : قرض معافی کے اعلان ماضی میں ایسا کبھی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے 34ہزار کروڑ روپیئے کی معافی تقریباً 49لاکھ کاشتکاروں کی کی ہے پھربھی دو برس کے بعدبھی ےہ رقم اُن کے بینک اکاﺅنٹ میں جمع نہیں ہوئی ہے۔ میں اب تک مہاراشٹر میں 6500کلومیٹر کا دورہ کیا ہوں‘ لوگوں سے گفتگو کی ہے۔ میں اُن سے پوچھتا رہتا ہوں۔ کیا تمہارے پیسے تمہیں ملے ہیں؟ قرض معاف ہوا ہے؟ مشکل سے کوئی ایک آدھ اس سلسلے میں کھڑا ہوکر کہتا ہے کہ تمام کاغذی عمل ہے۔ جب ہم نے قرض معافی کا اعلان کیا تھا چند ہی دنوں کے بعد وہ قرض معافی کی رقم لون کے بقایا میں جمع ہوگئی۔ جب میں وزیرِ محصول تھا جانتا تھا کہ کس طریقہ سے اس معاملہ میں جو ہدایتیں دی جاتی ہیں اور اُن پر عمل آوری کیسے ہوتی ہے۔
حکومت نے مختلف اسکیمیں تعلقوں اور دیہاتوں کے لئے اعلان کی ہے جو پینے کے پانی سے متاثر ہیں۔ لیکن جب کبھی اسکیم کا اعلان ہوتا ہے کچھ بھی اُس پر عمل آوری نہیں ہوتی۔ صرف قحط سالی کے اعلان سے مہاراشٹر کو فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ پینے کے پانی کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ کلکٹر ان اسکیمات کی منظوری نہیں دے رہے ہیں۔ اس لئے تمام مقامی ایم ایل ایز کو چاہیے کہ اُن سے واضح طور پر پوچھے ۔ ہم اپنے ضلع سے تین مہینے قبل ہی اس خصوص میں تجاویز و مشورے روانہ کیئے ہیں لیکن آج تک اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔
شبھانگی کھرپے : کانگریس کی حکومت جب دور اقتدار میںتھی اور اُس زرعی اصلاحات اور آج کی حکومت کے زرعی اصلاحات میں کیا فرق ہے؟
جواب : موجودہ وزرا¿ اور وزیرِ اعلیٰ کا زرعی معاملات سے ان کا کوئی بیک گراﺅنڈ نہیں ہے۔ کتنے منسٹر ایسے ہیں جن کا زراعت سے تعلق ہے؟ ےہ تمام شہری لوگ ہیں۔ ہمہ وقتی زرعی منسٹر نہیں ہے۔ پہلے سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے کہ ان لوگوں کو زراعت سے متعلق بنیادی ضرورتوں کی کوئی معلومات نہیں ہے۔ دوسرے ےہ کہ وزیرِ اعلیٰ نے اس بات کی غلطی کی ہے کہ اپنی شبیہ کو قرض معاف کرنے والے شخصیت کی حیثیت سے دی ہے۔ کی�� قرض معاف ہوا؟ اُن کی ےہ شبیہہ کہاں سے آئی؟ حکومت اعلانات کرتی رہتی ہے اور اُس کے بعد وضاحت کرتے ہوئے دس شرائط اُن اعلانات کی تکمیل کے لئے عائد کرتی ہے۔ تیسرا معاملہ ےہ ہے کہ ہر چیز یہاں کی ٹھیک ٹھاک ہے۔ تو پھر کیوں خودکشیوں کے اعداد و شمار مہاراشٹر میں روز بروز بڑھتے جارہے ہیں؟ برعکس اس کے کبھی شرد پوار صاحب نے کہا ۔ حکومت نے جن اسکیمات کا اعلان کیا ہے اُس کے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ زرعی پیداوار کے لئے اقل ترین ا ُجرت تمام دیہاتوں کی دکانوں پر مہیا نہیں کی گئی ہے۔
سندیپ اشر : شہری علاقوں میں مراٹھی ووٹ کانگریس سے بلکل دور ہوچکے ہیں۔ جب کہ شیو سینا اور ایم این ایس مقامی انتخابات میں اُبھر کر آئے ہیں۔ آپ کس طرح ان مراٹھی ووٹرس کو مراٹھی اسمیتا کے ذریعہ مقامی اور علاقائی پارٹی کے بجائے انہیں اپنی طرف راغب کرسکیں گے؟
جواب : ےہ کچھ حد تک صحیح ہے۔ راہول جی چاہتے ہیں کہ عمومی طور پر تناسب قائم رکھا جائے۔ اس موقع پر کانگریس اس بات کی کوشش کرئے گی کہ تمام کو مناسب نمائندگی ملے۔ ہمارا ایجنڈا تعمیر و ترقی ہے جو جاری رہے گا اور ہماری دلچسپی صرف اسی حد تک رہے گی نہ کہ ذات یا کمیونٹی۔
وشواس واگھ مُڑے: اکثر لوگ تنقید کرتے ہیں کہ اپوزیشن اس وقت غیر فعال اور سست ہوچکی ہے۔ حکومت کی غیر انتظامی پالیسی کے خلاف آواز اٹھانے میں کیا رکاوٹ ہے؟
جواب : ناگپور اسمبلی کے سیشن کے دوران مختلف موضوعات اور سوالات اٹھائے گئے۔ ایک بڑا مورچہ بھی نکالا گیا‘ قائد اپوزیشن نے ان معاملات کو اٹھایا بھی ہے۔ لیکن حکومت کا طرز مرکز میں یا ریاست میں عامرانہ اس لئے ہے کہ وہ اپنے لوگوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔
سندیپ اشر : اس بات میں کیا حقیقت ہے کہ سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ وہ عوام کو خاموش کرانا چاہتے ہیں؟کیا اس کے پیچھے ےہ حقیقت ہے کہ وہ لوگوں کو حکومت سے متقابل نہیں ہونے دیتے؟
جواب : ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ۔(لیکن اگر آپ دیکھیں گے حکومت کی اکثر مشنری کو ریاست و مرکز استعمال کررہا ہے۔ کیوں بی جے پی کا کوئی آدمی دوسروں کے علاوہ گرفتار نہیں ہوتا۔ ایک یا دو معاملات میں کورٹ نے جب کہ اس سلسلے میں کیا مداخلت نہیں کی؟کیا اس کے لئے صرف اپوزیشن ہی قصوروار ہے؟ حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی بھی پولس آفیسر ایف آئی آر درج نہیں کرتا اور ےہ تمام باتیں کھلے عام ہورہی ہے۔
محمد تھاور : ےہ بھی الزام لگایا جاتا ہے ۔ جب آپ کی حکومت اقتدار میں تھی تب بھی آپ نے سناتن تنظیم کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تھا؟
جواب : ہم نے کبھی پولس تحقیقات میں مداخلت کی اور نہ ہی ہم نے افسر تحقیقات کنندہ یا پبلک پراسیکیوٹر پر کوئی دباﺅ ڈالا۔ مثال کے طور پر مالیگاﺅں کے مقدمہ کو لیجئے۔ خواہ وہ سادھوی پرگیہ ٹھاکور ہو یا لفٹننٹ پرساد پروہت۔ روہینی سالیان جب پبلک پراسیکیوٹر تھی اُس وقت اُس نے کہا تھا کہ اُس پر کافی سے زیادہ دباﺅ تھا۔ ہم نے سناتن سنستھا کا کبھی بھی تحفظ نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے کہ اُس وقت وہ زیادہ فعال نہ تھے یا بڑی سطح پر نہ تھے۔ جیسا کہ مشاہدہ تھا۔ لیکن آج تو حالات خراب سے خراب تر ہوگئے ہیں۔سناتن سنستھابنیادی طور پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کے مطابق ہے۔
محمد تھاور : لیکن جب کانگریس اقتدار میں تھی اُس وقت مرکز کو اس تنظیم پر پابندی عائد کرنے کی تحریک کی گئی تھی۔ لیکن اُس کے بعد اُس پر اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سنا گیا۔
جواب : میں سمجھتا ہوں کہ مسٹر سشیل کمار شندے اُس وقت مرکز کے وزیرِ داخلہ تھے۔ کسی بھی تنظیم پر پابندی لگانے سے پہلے بہت سی چیزوں پر غور و خوص کرنا پڑتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اُس پر عمل آوری کیوں نہ ہوسکی۔لیکن اس وقت سناتن سنستھا فرنٹ پر نہ تھی جیسے کہ آج ہے اور اُن کے لئے تو اب انہیں بہت زیادہ سیاسی تائید و حمایت ہے۔
سنتوش پردھان : کیا اس مرتبہ متوازی طور پر ریاست اور مرکز کے الیکشن ہوں گے؟
جواب : وہ ( بی جے پی) حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس لئے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے دیہاتی لوگ اس وقت خوش نہیں ہے۔ اس لئے وہ پریشان ہیں کہ کس طرح تین ریاستوں میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ پریشان ہیں اگر ہم (مخالف جماعتیں) متحدہ طور پر مقابلہ کرتے ہیں تو اُن کا خاتمہ ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں وہ اس بات کا بھی اندازہ لگا رہے ہیں کہ مودی میں ابھی کتنی کرشمائی طاقت باقی ہے۔ ہم ےہ بھی سن رہے ہیں کہ وہ متوازی طور پر انتخابات لینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن ہم بھی اس کے لئے تیار ہےں۔
تبسم بار نگر والا : 2005میں کانگریس کی حکومت نے ڈانس بار پر پابندی عائد کی تھی۔ بعد ازاں 2006, 2013 اور 2015میں بھی لیکن اب سپریم کورٹ ڈانس بار کی اجازت دے چکی ہے اس دوران ریاست میں دونوں حکومتیں رہی لیکن کسی نے بھی اُن کی بازآبادی کاری میں کچھ یقین دہانی نہیں کرائی۔
جواب : ےہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اس لئے اس پر میں تبصرہ نہیں کروں گا۔ کوئی بھی پڑھا لکھا آدمی ڈانس بار کے بارے میں تائید نہیں کرئے گا۔ اس لئے کہ لوگ ڈانس بار کا جو طریقہ کار تھا اُس سے خوش نہیں تھے۔ لیکن موجودہ حکومت اس مقدمہ کی برابر نگرانی نہیں کی۔ اُسی طرح غیر منتظم اقدامات کی وجہ سے مراٹھوں کے تحفظ والا معاملہ بھی تھا۔ جان بوجھ کر اس معاملہ کو طوالت دینے کی کوشش کی گئی تاکہ اُسے الیکشن تک طوالت دی جاسکے۔ ہمیں اس بات کا بھی احساس ہورہا ہے کہ ڈانس بار اور حکومت کے درمیان کوئی خفیہ ساز باز بھی ہوئی ہے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے۔
شبھانگی کھپرے : آپ کانگریس کے دونوں صدور ‘ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟
جواب : ہر صدر کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ جس طریقہ سے کام کرتے ہیں۔ سونیا جی نے بہت خوبصورتی سے اپنے کام انجام دیئے۔ کانگریس مرکز اور ریاستوں میں اقتدار پر آئی۔ لیکن جب راہول گاندھی آئے ہم نے ان ریاستوں میں کامیابی حاص©ل کی۔
راہول گاندھی کا کام کرنے کا طریقہ بالکلیہ طورپر مختلف ہے۔ جب شکتی بتانے کا معاملہ آیا تو اُس وقت وہ بوتھ لیول کی سطح پر جاکر ہر ورکر سے ملتے اور اُن کے مشورہ کے مطابق ہی ملاقات کے مواقع دیتے اور اس بات کے لئے مشورہ کرتے کہ بلاک کی سطح پر ہو یا پردیش کی سطح پر کسے صدر ارت دینی چاہیے ۔ ےہ گویا ایک عوامی رائے لی جاتی ہے۔ ہمیں روزآنہ خطوط آتے ہیں جن کا ہمیں بروقت جواب دینا پڑتا ہے۔ کانگریس پارٹی گویا کہ ایک کارپوریٹ فرم ہے اس لئے ہمیں ہمارے ٹارگٹ کو تکمیل کرنا ہے۔
سندیپ اشر : آدرش سوسائٹی کا سایہ اور اُس سے متعلقہ معاملات کیا ابھی لٹکے ہوئے ہیں۔ آپ کے مخالفین اس کے ذریعہ آپ کو نشانہ بھی کرتے ہیں۔
جواب : جیسا کہ میں نے ماضی میں کہا (آدرش نزع) میری زندگی میں ایک اتفاقی حادثہ تھا۔ میں کسی طرح بھی اُس معاملہ سے کامیاب ہوا۔ مستقبل کے بارے میں میں نہیں جانتا کیونکہ ےہ معاملہ زیرِ دوران ہے۔ میں اس معاملہ کے میرٹ کے سلسلے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ لیکن ےہ کبھی بھی میرے کام کاج کو متاثر نہیں کرسکا۔ ہر ریاست کے کانگریس کے صدر کو کانگریس پرسیڈینٹ کی پوری تائید و اعتماد حاصل ہے (اگر اعتماد نہ ہوتا تو میں یہاں نہیں رہتا۔)
شبھانگی کھپرے : ایسی بھی گفتگو چل نکلی کہ کانگریس ‘ راج ٹھاکرے کی تنظیم سے راہ ہموار کررہی ہے۔ ہمیں اس معاملہ کو سیدھا دیکھنا ہے۔ ایم این ایس کے ساتھ کسی سیاسی اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے کام کاج کا طریقہ مختلف ہے وہ اپنے کام کاج کے حصول کی خاطر لوگوں کو پیٹتے ہیں۔
شبھانگی کھپرے: کیا مراٹھا ریزرویشن کا کارڈ بی جے پی کی تائید میں جائے گا؟
جواب : مہاراشٹر ایک ترقی یافتہ ریاست ہے۔ میرا ےہ تجربہ ہے اگر تم تما م ذات والوں کے درمیان توازن برقرار رکھیں تو کام کاج بہتر طور طریقہ سے ہوتا ہے۔ کانگریس اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنے ساتھ لے کر توازن برقرار رکھے گی۔
لکشمن سنگھ : بی جے پی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیل بہت ہی زیادہ جارحانہ انداز میں اور سوشیل میڈیا کا غیر فائدہ لے رہا ہے۔کیا کانگریس کی انفارمیشن ٹکنالوجی سیل بھی اس طریقہ کی تنقیدوں سے حالیہ دنوں میں دوچار ہوا ہے؟
جواب : بی جے پی کی سوشیل میڈیا کے ماڈل کے جواب دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ہمارے خلاف کوئی جھوٹے الزامات لگائے جائیں تو ہم کو بھی اُس جارحانہ تنقید کا جواب دینا ہوگا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading